کیپیٹل ہل کا محاصرہ تصاویر میں

صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوے بول دیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود قانون سازوں کو اپنے دفتروں میں پناہ لینے پڑی اور کانگریس کا وہ مشترکہ اجلاس روک دیا گیا جس کا مقصد جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی باقاعدہ توثیق کرنا تھا۔

Supporters of Donald Trump clash with police officers in front of the US Capitol

،تصویر کا ذریعہReuters

بدھ کو واشنگٹن میں اس صورتحال کا آغاز ریاست جورجیا سے ڈیموکریٹس کے لیے اس اچھی خبر کے آنے کے بعد ہوا کہ وہاں سینیٹ کی دونوں نشستوں پر ہونے والا انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی جیت کے امکانات روشن ہیں اور یوں چھ برس بعد نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی جماعت امریکی سینیٹ میں اکثریتی جماعت بن سکتی ہے۔

A protester carries the Confederate flag into the US Capitol building

،تصویر کا ذریعہReuters

ملک کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنٹگن میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا اور کہا وہ کبھی شکست نہیں مانیں گے اور یہ وقت کمزوری دکھانے کا نہیں ہے۔

Pro-Trump protesters break in to the US Capitol

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس وقت جب ٹرمپ اپنی تقریر ختم کر رہے تھے واشنگٹن میں ہی امریکی کانگریس کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا تاکہ 2020 کے صدارتی انتخاب کے نتائج اور جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کی جائے۔ یہ 20 جنوری کو جو بائیڈن کی امریکہ کے 46ویں صدر کے طور پر حلف برداری سے قبل آخری مرحلہ تھا۔

One protester carries a plinth from a room in the US Capitol

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کانگریس کے اس مشترکہ اجلاس کے کارروائی کو متاثر کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین نے وہاں لگائی گئی رکاوٹیں توڑ دیں، وہ دیواروں پر چڑھ گئے اور عمارت میں داخل ہو گئے۔

Capitol police point guns at a protester from inside the Senate chamber

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ ہنگامہ آرائی کئی گھنٹے جاری رہی اور اس دوران امریکی کانگریس کے ارکان کو عمارت خالی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

A protester hangs from the wall of the US Senate chamber

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مظاہرین کے عمارت میں داخلے کے بعد نومنتخب صدر جو بائیڈن کی جانب سے کیپیٹل ہل کا محاصرہ ختم کروانے کے لیے صدر ٹرمپ کے نام پیغام میں کہا گیا کہ وہ اپنے حلف کی پاسداری کریں اور آئین کا تحفظ کریں۔ جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ہل پر حملہ احتجاج نہیں بلکہ بغاوت ہے اور اس وقت جب کہ جمہوریت کمزور ہے اس کے تحفظ کے لیے ایسے رہنما چاہییں جو ذاتی طاقت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ عمومی بہتری کے لیے پرعزم ہوں۔

US lawmakers and staff wear protective gear amid protests inside the Capitol

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جو بائیڈن کے مطالبے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں الیکشن 'چوری' ہونے کا الزام دہراتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا کہ 'مجھے معلوم ہے آپ تکلیف میں ہیں مجھے معلوم ہے آپ کو دکھ ہوا ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے، خاص طور پر دوسری جانب والے لیکن اب آپ کو گھر جانا ہو گا۔' انھوں نے انتخابی مہم کے اس نعرے کو دہرایا کہ 'ہمیں امن حاصل کرنا ہو گا، ہمیں آئین اور قانون نافذ کرنا ہو گا۔'

A Trump supporter wears face paint at a protest in Washington, DC

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ مظاہروں کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہونے والی ایک خاتون ہلاک ہوگئیں۔

A supporter of US President Donald Trump sits at the desk of US House Speaker Nancy Pelosi

،تصویر کا ذریعہEPA

نینسی پلوسی نے اپنے بیان میں کیپیٹل ہل پر حملے کو جمہوریت پر شرمناک حملہ قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ پھر بھی ہمیں جو بائیڈن کے الیکشن کی تصدیق کرنے سے متعلق ذمہ داری سے نہیں روک سکتا۔

Capitol police detain protesters inside the building

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پولیس نے عمارت کے اندر موجود کئی مظاہرین کو گرفتار کرنے کے بعد عمارت کو محفوظ بنا دیا اور واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ ٹوئٹر نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ اگلے 12 گھنٹے تک قابلِ استعمال نہیں ہوگا جس کی وجہ بدھ کو ان کے اکاؤنٹ سے الیکشن کے بارے میں کی جانے والی ٹویٹس ہیں۔