کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی کانگرس کے دونوں ایوانوں میں صدر ٹرمپ کے مخالفین گذشتہ روز کیپیٹل ہل میں ان کے حامیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے بعد انھیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج کی توثیق کر دی ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج سے اب بھی متفق نہیں ہیں لیکن پھر بھی 20 جنوری کو اقتدار کی منظم انداز میں منتقلی کا اعادہ کرتے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر چک شومر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو فوری طور پر عہدہ چھوڑ دینا چاہیے جبکہ سپیکر نینسی پلوسی کہتی ہے کہ ٹرمپ کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔
صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے رپبلکن پارٹی کے اراکین کی مدد کی ضرورت ہو گی تاہم ابھی تک بہت کم نے اس حوالے سے حمایت کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کو کانگرس کے مشترکہ اجلاس کے دوران کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے اور ہنگامہ آرائی میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور اب تک 68 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اس وقت پولیس کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پولیس اس پرتشدد ہنگامہ آرائی کو روکنے میں ناکام ہوئی۔
ایوان نمائندگان کی سکیورٹی کے ذمہ دار سارجنٹ ایٹ آرمز مستعفی ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چک شمر نے سینیٹ میں اپنے ہم منصب کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے کیپیٹل ہل میں جو کچھ بھی ہوا اس بارے میں خود تو کچھ نہیں کہا تاہم ان کی ترجمان خاتون نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ صدر اور ان کی انتظامیہ جس حد تک ممکن ہو تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
ادھر کیپیٹل کی پولیس، یو ایس سی پی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کے افسران نے مجرمانہ انداز میں کیےن جانے والے فساد کا سامنا کیا۔ انھوں نے اپنے افسران کی کارروائی کو سراہا اور انھیں بہادر کہا۔
تاہم نینسی پلوسی نے انھیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا کہنا ہے اور واشنگٹن ڈی سی کی پولیس یونین نے کہا ہے کہ کیپیٹل ہل میں یو ایس سی پی کی لیڈر شپ اس حملے کے لیے نہ تو عددی اعتبار سے اور نہ ہی وسائل کے لحاظ سے تیار تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
قانون سازوں کا ردِعمل
ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان میں سے بہت سوں کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے تاہم بہت سے ریپبلکن اراکین بھی اس مطالبے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔
شومر کہتے ہیں کہ صدر کو اپنے دفتر کو مزید نہیں سنبھالنا چاہیے۔ وہ سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو لیڈ کر رہے ہیں جس کا اجلاس رواں ماہ کے آخر میں ہے۔
انھوں نے صدر ٹرمپ کی کابینہ پر زور دیا ہے کہ وہ 25ویں آئینی ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیں۔ امریکی قانون میں موجود یہ ترمیم نائب صدر کو یہ اختیار دیتی ہے کہ اگر صدر اپنے فرائض سرانجام نہ دے سکیں کسی ذہنی یا پھر جسمانی بیماری کی وجہ سے تو وہ ان کی جگہ اس عہدے پر کام کر سکتے ہیں۔
اس کے لیے نائب صدر مائیک پینس اور کم ازکم ٹرمپ کی کابینہ کے آٹھ اراکین کو ان سے الگ ہو کر ترمیم کے ذریعے یہ قدم اٹھانا ہو گا۔
نینسی پلوسی نے صدر ٹرمپ کو ’بہت خطرناک انسان‘ کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت شدید ہنگامی صورتحال ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ اگر صدر کے ساتھی 25ویں آئینی ترمیم پر کے ساتھ کارروائی کا آغاز نہیں کرتے تو پھر ان کے مواخذے کا آپشن رہ جاتا ہے۔
لیکن ڈیموکریٹس کو صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے بھی ریپلکنز کی مدد کی ضرورت ہو گی۔ اس کے لیے دو تہائی اکثریت ملنے کا امکان کم لگ رہا ہے۔
کانگرس کے رکن ایڈم کنزنگر وہ پہلے رہنما ہیں جنھوں نے 25 ترمیم کے استعمال کی بات کی تھی۔
اسی طرح میری لیبڈ اور ورمونٹ سے ریپبلکن گورنرز نے بھی صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ اپنا عہدے چھوڑ دیں۔
منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب 20 جنوری کو ہو گی تب تک دونوں ایوانوں کے اجلاس ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
اگر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے لیے دونوں ایوانوں کے اجلاس دوبارہ بلوانے ہوں گے۔
سیکریٹری برائے ٹرانسپورٹ الین چاؤ ٹرمپ انتظامیہ کے اب تک سامنے آنے والے آخری رکن ہیں جنھوں نے ہنگامہ آرائی کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ بہت سے جونیر افسران نے بھی استعفے دیے ہیں۔
اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے اور بھی متعدد افراد نے استعفیٰ دیا جن میں خصوصی ایلچی مائیک ملونے، سنیئر سکیورٹی افسر، خاتون اوّل کی پریس سیکریٹری شامل ہیں۔
کانگریس کی جانب سے بائیڈن کی فتح کی توثیق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ امریکی محمکہ خارجہ کے ایک مشیر کو بھی ان کے عہدے سے ہٹایا گیا جس کی وجہ ان کی وہ ٹویٹ ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ اس عہدے کے لیے ان فِٹ ہیں۔
اس سے قبل امریکی کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی حتمی گنتی کے بعد نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج کی توثیق کر دی ہے جس کے بعد جو بائیڈن اور کملا ہیرس اس انتخاب کے فاتح قرار پائے ہیں۔
دونوں افراد 20 جنوری کو بالترتیب امریکی صدر اور نائب صدر کے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔
ان کی کامیابی کا اعلان موجودہ امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کیا جو کہ اپنے عہدے کے اعتبار سے امریکی سینیٹ کے سربراہ بھی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ترجمان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ '20 جنوری کو منظم انداز میں اقتدار کی منتقلی' کریں گے مگر انھوں نے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے اپنے بے بنیاد دعوے ایک مرتبہ پھر دہرائے۔
انھوں نے کہا کہ 'ویسے تو میں اس انتخاب کے نتائج سے مکمل اختلاف کرتا ہوں اور حقائق بھی میرے ساتھ ہیں، مگر پھر بھی 20 جنوری کو اقتدار کی منظم انداز میں منتقلی ہوگی۔'
سینیٹر ایمی کلوبوشر نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں ووٹوں کی گنتی پوری ہونے کے بعد مائیک پینس کو گنتی کی رپورٹ پڑھ کر سنائی جس کے بعد نائب صدر کی جانب سے دونوں امیدواروں کی فتح کا اعلان کیا گیا۔
اس سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اکسانے کے بعد ان کے حامیوں نے کانگریس پر دھاوا بول دیا تھا جس کی وجہ سے اجلاس رک گیا تھا۔
جو بائیڈن نے اپنی کامیابی کی توثیق کے لیے منعقد ہونے والے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کا دھاوا بولنے کے عمل کو ’بغاوت‘ قرار دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
جو بائیڈن نے سبکدوش ہونے والے صدر ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ آگے بڑھیں اور تشدد کو مسترد کر دیں۔ اس بیان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جنھوں نے پہلے مظاہرین کو کانگریس کی جانب جانے کو کہا تھا، مظاہرین سے کہا کہ وہ ’گھر چلے جائیں۔‘
بدھ کو کیپیٹل ہل پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
بعد میں کیپیٹل ہل کی عمارت کو مظاہرین سے خالی کروا کے محفوظ بنا لیا گیا اور اب وہاں 2700 سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اس ہنگامہ آرائی کے دوران مظاہرین پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے یو ایس کیپیٹل کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے جہاں وہ ٹرمپ کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے صدارتی انتخاب کے نتائج کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔
اس دوران ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں امریکی کانگریس کے اراکین کو اپنی نشستوں کے نیچے پناہ لیتے اور آنسو گیس سے بچنے کے لیے گیس ماسک پہنتے دیکھا گیا۔
جو بائیڈن نے کیا کہا؟
ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن سے اپنے پیغام میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ میں جمہوریت پر وہ حملہ ہوا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ قومی ٹی وی پر آئیں اور اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے آئین کا تحفظ کریں۔‘
جو بائیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کیپیٹل میں گھس جانا، کھڑکیاں توڑنا، امریکی سینیٹ کے دفاتر پر قبضہ کرنا اور منتخب اراکین کے لیے خطرہ بننا، احتجاج نہیں، یہ بغاوت ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
صدر ٹرمپ نے کیا کہا؟
جو بائیڈن کے اس پیغام کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر صدارتی انتخاب ’چوری‘ کیے جانے کا الزام دہراتے ہوئے کیپیٹل ہل کے اندر اور باہر موجود اپنے حامی مظاہرین سے مطالبہ کیا کہ وہ اب اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔
اپنے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے آپ تکلیف میں ہیں۔ مجھے معلوم ہے آپ کو دکھ ہوا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم سے الیکشن چرایا گیا ہے۔۔۔۔یہ ہر کوئی جانتا ہے، خاص طور پر دوسری جانب والے لیکن اب آپ کو گھر جانا ہو گا۔‘
انھوں نے انتخابی مہم کے اس نعرے کو دہرایا کہ ’ہمیں امن حاصل کرنا ہو گا، ہمیں آئین اور قانون نافذ کرنا ہو گا۔‘
ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کے اس پیغام کو تنبیہ کے ساتھ جاری کیا اور اسے ری ٹویٹ ہونے سے بھی روک دیا۔ ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ کو 12 گھنٹے کے لیے لاک بھی کر دیا ہے تاکہ وہ مزید ٹویٹس نہ کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کیپیٹل ہل پر کیا ہوا؟
واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر سوا دو بجے کیپٹل ہل پر اس وقت دھاوا بولا جب وہاں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا جس کا مقصد جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں فتح کی باقاعدہ تصدیق کرنا تھا۔
اس کارروائی سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر ’امریکہ بچاؤ ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ کیپیٹل کا رخ کریں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے ملک نے بہت سہہ لیا، اب مزید سہا نہیں جائے گا۔‘
کانگریس کے اس مشترکہ اجلاس کی صدارت نائب صدر مائیک پینس کر رہے تھے۔ انھوں نے اس سے پہلے صدر ٹرمپ کی اس درخواست کو رد کر دیا تھا کہ وہ جو بائیڈن کی بطور صدر سرٹیفیکیشن کو بلاک کر دیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیپیٹل ہل کے اندر کے مناظر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کچھ مظاہرین مسلح تھے اور وہ کانگریس کی عمارت کے اندر گھوپ پھر رہے تھے۔
واشنگٹن پولیس کے حکام کے مطابق کچھ مظاہرین نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے باڈی آرمرز پہن رکھے تھے اور وہ پولیس کے ساتھ پرتشدد ہنگامہ آرائی کرنے میں مصروف دکھائی دیے۔
واشنگٹن میٹ پولیس کے سربراہ رابرٹ کونٹی کے مطابق ’وہ نعرے بازی کرتے ہوئے عمارت میں گھسے۔ وہ ’یہ لوگ کہاں ہیں؟‘ اور ’ہمیں ٹرمپ چاہیے‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک شخص اس دوران سینیٹ ڈائس پر چڑھ گیا اور چلانے لگا ’ٹرمپ نے الیکشن جیت لیا ہے۔‘ ایک اور شخص کو سپیکر نینسی پلوسی کے دفتر میں میز پر ٹانگ رکھے دیکھا گیا۔
اسی ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون کے گولی لگنے سے زخمی ہونے کی بھی خبر سامنے آئی اور بعدازاں حکام نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ تاحال ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
ہنگامہ آرائی کے دوران نو منتخب نائب صدر کملا ہیرس سمیت کانگریس کے ارکان میں سے کچھ کو عمارت سے باہر چلے جانے یا پھر جہاں وہ موجود ہیں وہیں رہنے کی ہدایات بھی دی گئیں۔
ایلن لوریا جو کہ قانون ساز ہیں نے سماجی رابطوں کی ویب سایٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ مجھے اپنا دفتر چھوڑ کر آنا پڑا کیونکہ باہر پائپ بم کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔ صدر کے حامی کیپیٹل کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے میں نے متعدد بار ایسی آواز سنی جیسے بندوق چلائی جا رہی ہو۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
صحافی اولیویا بیورز بھی وہیں موجود ہیں انھوں نے ٹوئٹ میں ماسک کی تصویر اپ لوڈ کی اور لکھا کہ اب ہمیں یہ دیے گئے ہیں۔
اس ہنگامہ آرائی کو روکنے میں پولیس کی مدد کے لیے نیشنل گارڈز، ایف بی آئی کے ایجنٹوں اور امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کی مدد بھی لی گئی۔
کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز نے اعلان کیا کہ کیپیٹل کی عمارت کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی اپیل کے باوجود مظاہرین گھر جانے پر راضی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس صورتحال میں حکام نے واشنگٹن شہر میں کرفیو لگانے کا اعلان کر دیا جو جمعرات کی صبح تک نافذ رہے گا۔












