امریکہ کا صدارتی انتخاب 2020: جو بائیڈن کی فتح شکست میں بدلنے کے لیے صدر ٹرمپ نے حکام کو کہا ’مجھے صرف 11780 ووٹ تلاش کرنے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے جس میں انھیں ریاست جورجیا میں انتخابی عمل سے منسلک ایک اعلیٰ عہدیدار کو صدارتی انتخاب کے نتائج تبدیل کرنے کے لیے درکار ووٹ ’تلاش‘ کرنے کے لیے کہتے سُنا جا سکتا ہے۔
ریکارڈنگ میں صدر ٹرمپ رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاست جورجیا کے سیکریٹری آف سٹیٹ بریڈ ریفنسپرجر سے کہتے ہیں کہ ’مجھے صرف 11780 ووٹ تلاش کرنے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کی اس بات پر ریفنسپرجر کا جواب ہوتا ہے کہ جورجیا کے انتخابی نتائج درست ہیں۔ نومبر کے صدارتی انتخاب میں جورجیا میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نے کامیابی حاصل کی تھی۔
امریکہ کی نومنتخب نائب صدر اور جو بائیڈن کی ساتھی امیدوار کملا ہیرس نے صدر ٹرمپ کی اس گفتگو کو ’طاقت کا غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تین نومبر کو امریکہ میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات لگاتے رہے ہیں تاہم وہ اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں دے پائے ہیں۔
صدارتی انتخاب کے بعد امریکہ میں تمام ریاستیں اب نتائج کی تصدیق کر چکی ہیں اور کچھ ریاستوں میں یہ عمل ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور قانونی اپیلوں پر فیصلوں کے بعد مکمل ہوا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان صدارتی انتخاب کے نتائج کی باقاعدہ تصدیق چھ جنوری کو کرے گا جبکہ جو بائیڈن 20 جنوری کو امریکہ کے نئے صدر کا حلف اٹھائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
صدر ٹرمپ کی کال کے دوران کیا ہوا؟
واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے فون کال کے جو اقتباسات جاری کیے گئے ہیں ان میں صدر ٹرمپ کو جورجیا کے سیکریٹری آف سٹیٹ پر دباؤ ڈالتے اور پھر انھیں اس کام کے لیے منانے کی کوشش کرتے سنا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ اس بات پر مُصر رہتے ہیں کہ انھوں نے جورجیا میں انتخاب جیتا ہے اور وہ بریڈ ریفنسپرجر سے کہتے ہیں کہ ’اس میں کچھ غلط نہیں کہ اگر وہ کہیں کہ آپ نے دوبارہ گنتی کی ہے۔‘
اس بات پر ریفنسپرجر کا جواب ہوتا ہے کہ’ جانبِ صدر آپ کا جو دعویٰ ہے اس میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے اعدادوشمار درست نہیں ہیں۔‘
اسی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ یہ بھی کہتے ہیں کہ افواہ ہے کہ کچھ ووٹ پھاڑ دیے گئے جبکہ فلٹن کاؤنٹی کے علاقے میں ووٹنگ مشینری بھی مقررہ مقام سے منتقل کی گئی۔ بریڈ ریفنسپرجر کے وکیل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
اس کے بعد صدر ٹرمپ بریڈ ریفنسپرجر کو ممکنہ قانونی کارروائیوں کے بارے میں خبردار کرتے سُنے جا سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’تم جانتے ہو کہ انھوں نے کیا کیا اور تم اسے رپورٹ نہیں کر رہے ہو۔ یہ ایک جرم ہے۔ تم ایسا نہیں ہونے دے سکتے۔ یہ تمہارے اور تمہارے وکیل رائن کے لیے بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔‘
پھر صدر ٹرمپ مزید 11780 ووٹوں کا تقاضا کرتے پیں جو انھیں ملنے کی صورت میں ریاست میں ان کے ووٹوں کی تعداد جو بائیڈن کے ووٹوں سے بڑھ جاتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ بریڈ ریفنسپرجر سے کہتے ہیں کہ وہ ریاست میں انتخابی نتائج کا دوبارہ جائزہ لیں۔ ’تم ان کا دوبارہ جائزہ لے سکتے ہو لیکن یہ جائزہ وہ افراد لیں جو جواب تلاش کرنا چاہتے ہوں، وہ نہیں جو جواب ڈھونڈنا نہیں چاہتے۔‘
بریڈ ریفنسپرجر جواب میں کہتے ہیں کہ ’جنابِ صدر، آپ کے پاس لوگ ہیں جو معلومات فراہم کرتے ہیں اور ہمارے پاس اپنے لوگ ہیں جو ایسا کرتے ہیں اور پھر بات عدالت کے سامنے جاتی ہے جسے فیصلہ کرنا ہے۔ ہم اپنے اعدادوشمار پر قائم ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے اعداوشمار درست ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے بریڈ ریفنسپرجر کو ریاست کے آنے والے انتخاب کے بارے میں بھی خبردار کیا اور کہا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہ کروانے کی صورت میں وہ رپبلکن ووٹروں کو منگل کو جورجیا میں سینیٹ کی دو نشستوں پر ہونے والے انتخاب میں ووٹنگ سے باز رہنے کو بھی کہہ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اتوار کو صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ بریڈ ریفنسپرجر نے اس فراڈ کی تفصیلات نہیں دیں جس کا دعویٰ صدر نے کیا تھا جس کے جواب میں جورجیا کے سیکریٹری آف سٹیٹ نے ٹوئٹر پر ہی کہا تھا کہ ’جانبِ صدر، جو آپ کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں۔ سچ سامنے آ جائے گا۔‘
وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال اس آڈیو پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے چیف وہپ ڈک ڈربن نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بریڈ ریفنسپرجر کو فون کال ایک خطرناک اقدام تھا اور یہ عمل مجرمانہ تحقیقات کا متقاضی ہے۔











