امریکی صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ کا ملک میں نئی انتظامیہ کا اشارہ

دو نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کی جیت کے اندازوں کے اعلان کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار یہ تسلیم کرنے کے قریب آئے ہیں کہ شاید وہ اگلے صدر نہ ہوں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اپنی ہار تسلیم نہیں کی ہے اور مسلسل انتخابات میں فراڈ اور بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں کووڈ نائنٹین کے حوالے سے ایک بریفنگ میں کہا کہ ان کی انتظامیہ ملک میں کسی حالت میں بھی لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں کرے گی۔
انتخابات کے نتائج کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا: ’ مستقبل میں جو بھی ہوتا ہے، کسے معلوم ہے کونسی سی انتظامیہ ہو گی۔ میرا خیال ہے، وقت بتائے گا۔‘
ادھر نو منتخب صدر جو بائیڈن نے ریاست جارجیا میں بھی کامیابی حاصل کی ہے، سنہ 1992 کے بعد اس ریاست سے جیتنے والے وہ پہلے ڈیموکریٹک امیدوار ہیں۔
اس جیت نے صدرات کے لیے جو بائیڈن کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے اور انھیں بی بی سی کی پیشگوئی کے مطابق اب تک الیکٹورل کالج میں کل 306 ووٹ حاصل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکٹورل کالج ایک ایسا ادارہ ہے جو صدر کا انتخاب کرتا ہے اور اس کالج کے ارکان جنھیں الیکٹر بھی کہا جاتا ہے، عوام کے ووٹوں سے جیتتے ہیں۔
بی بی سی کی پیش گوئی کے مطابق ریاست شمالی کیرولائنا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کا امکان ہے جس سے انھیں الکیٹورل کالج کے 232 ووٹ حاصل ہو جائیں گے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تاہم صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وائرس سے لڑنے کے لیے لاک ڈاؤن نہیں لگائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا: ’مستقبل میں کیا ہو گا، کون جانتا ہے۔۔ کون جانے اس وقت کون سی انتظامیہ ہو گی۔ میرا خیال ہے کہ وقت ہی بتائے گا۔‘
صدر نے وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کی ایک بریفنگ کے دوران اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے گریز کیا، انتخاب میں شکست کے بعد وہ پہلی بار امریکی میڈیا پر نظر آئے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تاہم صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وائرس سے لڑنے کے لیے لاک ڈاؤن نہیں لگائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا: ’مستقبل میں کیا ہو گا، کون جانتا ہے۔۔ کون جانے اس وقت کون سی انتظامیہ ہو گی۔ میرا خیال ہے کہ وقت ہی بتائے گا۔‘












