ٹرمپ کابینہ میں اکثریت سفید فام مرد تھے، بائیڈن کابینہ کیسی ہو گی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے متوقع صدر جو بائیڈن نے مستقبل میں امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف کے اہم عہدے کے لیے سیاسی اور حکومتی معاملہ کا تجربہ رکھنے والے اپنے پرانے معتمد خاص ران کلین کو منتخب کیا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی کابینہ میں سیاست سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والی دو درجن کے قریب خواتین اور متعدد سیاہ فام حضرات کے شامل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں اکثریت سیفد فام مرد حضرات کی تھی۔
ران کلین سے جو بائیڈن کی وابستگی بہت پرانی ہے اور ان کو ساتھ کام کرتے ہوئے کم از کم 40 سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ سنہ 1980 کی دہائی میں ران کیلن جو بائیڈن کے ساتھ پہلے سینیٹ میں بطور معاون اور اس کے بعد جب جو بائیڈن سابق صدر اوباما کے دور میں نائب صدر بنے اس وقت ان کے چیف آف سٹاف کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
واشنگٹن کی پیچیدگیوں کی بھرپور سمجھ بوجھ رکھنے والے ران کلین وائٹ ہاؤس میں سابق صدر اوباما کے معاون کے علاوہ صدر نائب صدر الگور کے چیف آف سٹاف کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی ایوان صدر میں چیف آف سٹاف کا عہدہ انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ صدر کی روزانہ کی مصروفیات کو پورا کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اسی ہی وجہ سے اس عہدے پر تعینات شخص کو وائٹ لاؤس کا گیٹ کیپر بھی کہا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس عہدے کا اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ اس پر نامزد ہونے والے شخص کو سینیٹ سے توثیق حاصل کرنا پڑتی ہے اور اس کے لیے اس کو سینیٹ کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ذرائع ابلاغ اور مقتدر امریکی اخبارات میں جن لوگوں کے جو بائیڈن کی کابینہ میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ان میں خواتین کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ مختلف رنگ اور نسل کے لوگوں کے نام بھی لیے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ جس کی مدت جنوری کی 20 تاریخ کو ختم ہو رہی ہے اس میں اکثریت سیفد فام مرد حضرات کی تھی۔ ٹرمپ کی کابینہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چالیس برس میں ایسی کوئی کابینہ نہیں گزری جس میں نوے فیصد ارکان سفید فام مرد حضرات پر مشتمل ہو۔
حالیہ انتخابی نتائج کی اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق جو بائیڈن کے حق میں سیاہ فام شہریوں کی بھاری اکثریت نے ووٹ ڈالے اور ایک اندازے کے مطابق سیاہ فام شہریوں کے مجموعی ووٹوں میں سے 87 فیصد ووٹ جو بائیڈن کے حق میں پڑے۔
اس کے علاوہ لاطینی امریکیوں کی اکثریت کے ووٹ بھی جو بائیڈن کو پڑے۔ سیاسی مبصرین ان حقائق کی عکاسی بھر پور طریقے سے جو بائیڈن کی کابینہ میں ہونے کی توقع کا اظہار کر رہے ہیں۔
جو بائیڈن خود بھی سنہ 2019 میں شائع ہونے والے ایک اپنے ایک مضمون میں اس خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکی سکولوں کے کلاس رومز اور عدالتوں کے کمروں سے لے کر وفاقی سطح پر کابینہ تک سب جگہوں پر امریکہ میں پائے جانے والے معاشرتی تنوع کی عکاسی بھر پور طریقے سے ہونی چاہیے۔
قومی سلامتی کے اہم اور حساس ترین عہدوں کے علاوہ بہت سے دیگر اہم شعبوں میں پر خواتین کو تعینات کیے جانے کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
امریکی ریاست ایلینوئے سے سینیٹر اور سنہ 2004 میں عراق میں امریکی ہیلی کاپٹر پر حملے میں ٹانگوں سے معذور ہونے والی سابق لیفٹینٹ کرنل ٹیمی ڈکورتھ کو سابق فوجیوں کی سیکریٹری آف سٹیٹ تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ ان کا تعلق تھائی لینڈ سے ہے اور اگر ان کا نام کابینہ میں شامل کر لیا گیا تو وہ امریکی کابینہ میں شامل ہونے والی پہلی تھائی نژاد خاتون ہوں گے۔
ٹیمی ڈکورتھ سابق صدر اوباما کے دورِ حکومت میں اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ فار ویٹرن افیئر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزارتِ خارجہ یا سیکریٹری آف سٹیٹ کے لیے جن لوگوں کے نام پر اطلاعات کے مطابق غور کیا جا رہا ہے ان میں سوزن رائرس کا نام بھی شامل ہے۔ جو بائیڈن جب اپنے نائب صدر کے نام کا انتخاب کر رہے تھے تو اس وقت سوزن رائرس کا نام بھی زیر غور آیا تھا۔ سوزن رائس سابق اسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ اور امریکہ کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔
سوزن رائس کے علاوہ وزارت خارجہ کے لیے جن دیگر ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں ولیم برنز اور انتھونی بلکنز کے نام بھی شامل ہے۔ ولیم برنز اوباما انتظامیہ کے دور میں ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ رہ چکے ہیں جبکہ انتھونی بلکنز اوباما کے دور میں ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر رہ چکے ہیں۔
جو بائیڈن کے خلاف ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل برنی سینڈر کا نام بھی کابینہ میں ممکنہ طور پر شامل کیے جانے والے لوگوں کی فہرست میں شامل ہے۔









