مصر: 'اہرام مصر خلائی مخلوق نے تعمیر نہیں کیے تھے'

The Pyramids of Giza

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناہرام مصر کی تعمیر کے لیے دو دہائیوں میں 23 لاکھ پتھروں کو گیزا کے میدان کے پاس لایا گیا

مصر نے ارب پتی ایلون مسک کو اپنے ملک آنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ جائزہ لے کر اس بات کی تسلی کرسکیں کہ اہرام مصر کی تعمیر خلائی مخلوق نے نہیں کی تھی۔

اسپیس ایکس کے سربراہ نے حال ہی میں بظاہر ان سازشی نظریات کی حمایت میں ٹویٹ کیا تھا جن کے مطابق اہرام مصر کی تعمیر میں خلائی مخلوق کا ہاتھ ہے۔

لیکن مصر کی عالمی تعاون کی وزیر یہ نہیں چاہتی کہ اہرام مصر کی تعمیر کے لیے خلائی مخلوق کو ذمہ دار مانا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اہرام مصر کی تعمیر کرنے والوں کے مقبرے دیکھ کر یہ ثبوت مل جائے گا کہ یہ قدیم ڈھانچے انسانوں نے ہی تعمیر کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ماہرین کا خیال ہے کہ سنہ 1990 میں دریافت ہونے والے یہ مقبرے اس بات کا پختہ ثبوت ہیں کہ اہرام مصر کے اعلیٰ شان ڈھانچے انسانوں نے ہی تعمیر کیے تھے۔

جمعہ کو ایلون مسک نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ظاہر ہے کہ اہرام مصر کو خلائی مخلوق نے تعمیر کیا تھا۔ ان کے اس ٹویٹ کو 84000 بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

Transparent line

مصر کی وزیر برائے عالمی تعاون رانیا المعاشات نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ ایلون مسک کو فالو کرتی ہیں اور ان کے کام کی قدر کرتی ہیں۔

انھوں نے ایلان مسک سے گزارش کی کہ وہ ان شواہد کا مزید جائزہ لیں جن سے یا ثابت ہوتا ہے کہ اہرام مصر کی تعمیر مصر کے قدیم بادشاہوں کے دور میں مصر کے لوگوں نے کی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

Transparent line

مصر کی ماہر آثار قدیمہ ظاہی حواس نے سوشل میڈیا پر عربی زبان میں ایک ویڈیو جاری کرکے اپنا ردعمل دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ مسک کا بیان 'مکمل طور خام خیالی ہے۔

'ایجبٹ ٹوڈے' نامی ویب سائٹ نے ان کےایک بیان کو شائع کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے، 'میں نے اہرام مصر کی تعمیر کرنے والوں کے مقبرے دریافت کرنے میں مدد کی ہے جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کو تعمیر کرنے والے مصری تھے اور وہ غلام نہیں تھے۔

ایلون مسک نے بعد میں اہرام مصر کو تعمیر کرنے والوں کی زندگیوں سے متعلق بی بی سی کی جانب سے شائع کیے گئے ایک آرٹیکل کو ٹویٹ کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بی بی سی کا یہ آرٹیکل اہرام مصر کی تعمیر سے متعلق ایک قابل اعتبار خلاصہ پیش کرتا ہے۔

مصر میں سو سے زیادہ اہرام صحیح حالات میں موجود ہیں جن میں سے سب سے زیادہ مشہور گيزا کا عظیم ہرم ہے جس کی لمبائی 450 فٹ سے زیادہ ہے۔

ان میں سے بیشتر مصر کے شاہی خاندان کے افراد کے مقبروں کے طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔

ایلون مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایلون مسک کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے