مصر میں پجارن کا 4400 سال پرانا مقبرہ دریافت

حتبت
،تصویر کا کیپشنمقبرے میں پائی جانے والی پینٹنگز خاصی اچھی حالت میں ملی ہیں

مصر کے ماہرین آثار قدیمہ نے حال ہی دریافت ہونے والے ایک مقبرے کی رونمائی کی ہے جس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ 4400 سال قدیم ہے۔

قاہرہ کے نزدیک دریافت ہونے والا مقبرہ خاصی اچھی حالت میں ہے اور اس کی دیواروں پر نادر مصوری ہے جس میں پجارن حتبت کو مختلف مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

حتبت زرخيزی کی دیوی حتحور کی پجارن تھی جو خواتین کو تولد میں مدد کیا کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مصر کے آثار قدیمہ کی وزارت نے کہا ہے کہ یہ دریافت گیزہ کے عظیم ہرم کے پاس کھدائی کے دوران ہوئی۔

حتبت

،تصویر کا ذریعہAFP

گیزہ کے مغربی قبرستان میں اس مقام پر قدیم شاہی خاندان کی پانچویں سلطنت کے حکام دفن ہیں جن میں سے بعض کو سنہ 1842 کے بعد کھود کر سامنے لایا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مصر کے آثار قدیمہ کے وزیر خالد العنانی نے سنیچر کو حتبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں یہ علم ہے کہ وہ اعلیٰ حکام میں تھیں اور شاہی محل سے ان کا مضبوط رشتہ تھا۔‘

حتبت

،تصویر کا ذریعہEPA

وزارت آثار قدیمہ نے بتایا کہ مقبرے پر پانچویں شاہی خاندان کے فن تعمیر اور طرز آرائش اثرات نظر آتے ہیں جس میں ایک دروازہ انگریری حرف ’ایل‘ شکل کی قبر کی جانب جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دیواروں پر بنی پینٹنگ ’اچھی اور محفوظ حالت میں ہے جس میں حتبت کو شکار کرتے اور مچھلی پکڑتے ہوئے ۔۔۔ اور بچوں سے تحفے لیتے ہوئے مختلف مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘

کھدائی

،تصویر کا ذریعہEPA

وہاں موسیقی اور رقص کے مناظر کے ساتھ بندروں کی بھی تصاویر ہیں جو کہ پالتو جانوروں کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔

ایک پینٹنگ میں ایک بندر کو ایک آرکسٹرا کے سامنے رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

آثار قدیمہ کی سپریم کونسل کے مصطفی وزیری نے خبررساں ادارے اے ایف پی کوبتایا کہ ’ایسے مناظر نادر ہیں۔۔۔ اور ایسے مناظر اس سے قبل صرف (سلطنت قدیم) میں ’کاعبر‘ کے مقبرے میں پائے گئے جہاں ایک بندر آرکسٹرا کے بجائے صرف ایک گٹار بجانے والے کے سامنے رقص کر رہا ہے۔‘

حتبت

وزیر العنانی نے امید ظاہر کی ہے کہ وہاں سے اس قسم کی مزید دریافت ممکن ہیں۔ یہ مقام قاہرہ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم یہاں کھدائی جاری رکھیں گے اور عنقریب ہمیں کوئی چیز ملے گی۔‘