’دشمن‘ ملک کے بچوں کو پالنا کتنا آسان؟شمالی کوریا کے بچے جنوبی کوریا میں

Korea

،تصویر کا ذریعہKIM TAE-HOON

کورونا کی وبا نے دنیا بھر کے والدین کے لیے بچوں کو گھر پر ہی پڑھانے کا ایک نیا چیلنج پیش کیا ہے۔ سیول سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے لیے یہ چیلنج ذرا زیادہ ہی مشکل ہے۔

45 سالہ کم تائے ہون شمالی کوریا کے دس بچوں کو اپنے گھر پر رکھ رہے ہیں۔ یہ بچے اپنے والدین کے بغیر شمالی کوریا سے جنوبی کوریا آگئے تھے۔ ان میں سب سے کم عمر بچہ صرف دس سال کا ہے جبکہ سب سے بڑے کی عمر 22 سال ہے۔

عام طور پر یہ بچے سکول یا یونیورسٹی جاتے ہیں۔ 22 سالہ گنسیونگ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن گذشتہ ماہ سے جنوبی کوریا نے آن لائن کلاسز شروع کردی ہیں۔

کم نے ویڈیو لنک پر بی بی سی کو بتایا کہ ریموٹ سکولنگ کی پہلی صبح وہ بچوں کو دوسری منزل کے ایک بڑے سے ٹیبل پر لے گئے جہاں وائی فائی سگنل سب سے زیادہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بچوں سے کہا 'مجھے لگتا ہے کہ آپ کو اپنے فون آن کرنا چاہیے کیونکہ صبح کی اسمبلی میں آواز خراب ہو سکتی ہے۔'

جیسا کہ خدشہ تھا انھیں بہت سی تکنیکی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دو بچوں کے لاگ ان آپس میں مل گئے۔ 15 سالہ گیوم سیونگ کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مدد کی ضرورت تھی۔ اس نے پہلے کبھی آن لائن اسائنمنٹ جمع نہیں کی تھی۔

کوریا

،تصویر کا ذریعہKIM TAE-HOON

دوسری طرف اس کنبے کے سب سے کم عمر بچے جون سیونگ کو اپنے ٹیبلٹ پر یوٹیوب دیکھنے کے لیے ڈانٹ پڑ گئی۔

کم کا کہنا ہے کہ دو دن بعد بچے اپنے نئے معمول میں سیٹ ہو گئے۔

شمالی کوریا سے فرار ہو کر کم کے پاس رہنے والے آٹھ بچوں کے ساتھ کوئی بالغ نہیں ہے۔ وہ یا تو تنہا ہیں یا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ نیز جنوبی کوریا میں ان کے کوئی رشتہ دار بھی نہیں ہیں۔

بغیر کسی اہل خانہ کے شمالی کوریا سے آنے والے ان بچوں کی فرار کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ یہ ہے وہ صرف اپنے دادا دادی کے ساتھ رہتے تھے جو بہت بوڑھے تھے اور ان کے ساتھ نہیں آسکتے تھے۔ دوسری وجہ والدین کی علیحدگی بھی ہے۔ ایسی صورت میں والدین بطور کنبہ اکٹھا نہیں آ سکتے تھے اور بچوں کو یہ مشکل کام تن تنہا کرنا پڑتا ہے۔

کم بتاتے ہیں: 'وہ بچوں کو اچھی زندگی کے لیے جنوبی کوریا بھیج دیتے ہیں۔ اگر بچے کافی چھوٹے ہوں تو وہ کسی کی پیٹھ پر بیٹھ کر آ جاتے ہیں۔

وزارت یکجہتی کے مطابق مارچ سنہ 2020 تک شمالی کوریا سے فرار ہو کر جنوبی کوریا آنے والے بچوں کی تعداد 33658 ہے۔ اس میں سے 15 فیصد افراد 19 سال یا اس سے کم عمر ہیں۔

کوریا

،تصویر کا ذریعہKIM TAE-HOON

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2017 تک یہاں ایسے بچوں کی تعداد 96 تھی جو اپنے والدین کے بغیر جنوبی کوریا میں رہ رہے تھے۔

کم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ بچوں کے نگران بن جائیں گے۔

وہ 15 سال قبل اشاعت کے شعبے میں کام کرتے تھے۔ انھوں نے رضاکارانہ تعاون کے لیے اپنا فارغ وقت ہاناون میں دیا۔ یہ سیئول میں قائم ایک سرکاری آبادکاری یونٹ ہے جہاں شمالی کوریا سے فرار ہونے والے افراد تین مہینوں تک رہتے ہیں۔ اس دوران انھیں جنوبی کوریا میں معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے ایک کورس کرایا جاتا ہے۔

یہاں ان کی ملاقات ایک بچے ہا-یونگ سے ہوئی جو حال ہی میں اپنی ماں کے ساتھ اس مرکز سے نکلا تھا۔ اس کی والدہ کو نوکری مل گئی تھی، لیکن نوکری گھر سے بہت دور ملی تھی اور ایسی صورتحال میں انھیں اپنے بیٹے کو گھر پر تنہا چھوڑنا پڑا۔

اس وقت ہا-یونگ کی عمر 10 سال تھی۔ اس نے انھیں اپنا بے بے سِٹر یعنی بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا بننے کے لیے کہا۔ یہیں سے کم کے بچوں کی دیکھ بھال کا کام شروع ہوا۔

کم کے والدین ان سے بہت خفا ہوئے اور انھوں نے ان سے اپنے سارے تعلقات توڑ لیے۔

کوریا

،تصویر کا ذریعہKIM TAE-HOON

اس کے بعد وہ ایک کے بعد ایک شمالی کوریا کے بچے کو اپنے گھر لانے لگے۔ ان کے ساتھ سب سے طویل عرصے تک رہنے والا بچیہ چیول گوانگ ہے۔ وہ سنہ 2012 میں کرسمس کے موقع پر جنوبی کوریا آیا تھا۔

اس وقت اس کی عمر 11 سال تھی۔ ابتدائی طور پر اس نے اور اس کی بہن نے اپنی والدہ کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہ گارڈز کے ہاتھوں پکڑے گئے اور انھیں یرغمال بنا لیا گیا۔ بعد میں اس کو اور اس کی بہن کو رہا کردیا گیا لیکن ان کی والدہ کا پتہ نہیں چل سکا۔

بعد میں چیول گوانگ اور اس کی بہن جنوبی کوریا میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

کنبے میں اضافے کے ساتھ کم نے اپنے گھر کو گروپ ہوم کے طور پر رجسٹر کرا لیا۔ گروپ ہومز میں بچوں کو والدین کے بغیر رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔

کم کہتے ہیں: 'لیکن میرے بچے اسے اصلی گھر سمجھتے ہیں۔ آخر کار ان کے والدین نے بھی ان کے فیصلے کو قبول کرلیا اور اب وہ ان کے زبردست حامی بن گئے ہیں۔

گیم سیونگ نے اعتراف کیا کہ وہ ابتدا میں کم سے خوفزدہ تھے۔ وہ کہتے ہیں: 'جب میں نے انھیں پہلی بار دیکھا تو میں نے سوچا کہ وہ برے آدمی ہیں۔'

کم کہتے ہیں: 'میں بچوں سے اچھے طور طریقوں سے بڑے ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کراتا ہوں۔ اسی طرح میرے والدین نے مجھے پالا تھا۔'

کم کا یہ کام اب اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ وہ کوئی باقاعدہ نوکری نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن انھیں حکومت اور مختلف کمپنیوں سے مدد ضرور ملتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ مالی مدد لینا پسند نہیں کرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے حال ہی میں ایک چھوٹی سی کافی شاپ کھولی ہے۔

کرایہ میں اضافے کے سبب کم کو ابتدا میں بار بار مکان تبدیل کرنا پڑتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ بچوں کو کسی نئی جگہ لے جاتے انھیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔

کم کہتے ہیں: 'جب بھی ہم کسی دوسری جگہ رہنے کے لیے پہنچتے تو کسی نہ کسی طرح پڑوسی جان ہی جاتے۔ اگر کچھ نہ بھی کہتے تو مجھے یہ پیغام بھیجے جاتے کہ شمالی کوریا سے آنے والوں کو چھپ کر رہنا چاہیے۔'

ایک بار تو کم کے ہاں پولیس بھی آگئی۔ کم کے یہاں رہنے والے بچوں کے کسی کلاسمیٹ نے شکایت کر دی تھی کہ ان کی کلاس میں شمالی کوریا کا ایک جاسوس ہے۔

یہ ایک بہت بڑا معاملہ تھا۔ لیکن بچوں کو اکثر طعنے سننے پڑتے ہیں۔ عام طور پر پہلی بار سکول میں داخلے کے وقت ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔

کم کہتے ہیں: 'جب جنوبی کوریائی باشندوں کو معلوم ہوا کہ کوئی خاص شخص شمالی کوریا سے ہے تو وہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ بہت سے لوگ ان کے خلاف دشمنی کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ یہ بہت افسوسناک ہے۔ میرے بچے ابھی نوعمر ہیں۔ انھیں سیاست کی عینک سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

شمالی کوریا کے بچے دو چیزوں پر بطور خاص حیران ہوتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ جنوبی کوریا کیسا نظر آتا ہے اور دوسرے یہ کہ اگر جنوبی کوریا کے لوگ مجھے پسند نہیں کریں گے تو کیا ہوگا؟