کورونا وائرس: انڈیا میں لاک ڈاؤن کے دوران دل موہ لینے والی کہانیاں

تین کہانیاں

،تصویر کا ذریعہKaushik Barua, Pimpri Chinchwad & Panchkula police

انڈیا میں لاک ڈاؤن کے دوران دلوں کو چُھو لینے والی تین ایسی کہانیاں سامنے آئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ وبا کے اس دور میں کیسے غیر معمولی انداز میں لوگ ایک دوسرے کی مدد اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

’آپ نے اس دن کو میرے لیے خاص بنا دیا ہے‘

انڈیا میں لاک ڈاؤن کا نفاذ 25 مارچ کو ہوا تھا۔ اس لاک ڈاؤن کے دوران کئی لوگ اکیلے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ خاص کر عمر رسیدہ افراد جو اپنے اہلخانہ اور احباب سے جدا ہو کر تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں۔

انڈیا کی شمالی ریاست ہریانہ کے ایک قصبے پنچکُولا کے رہائشی ایک بزرگ کرن پوری اس وقت خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئے جب پولیس نے ان کے دروازے پر دستک دی۔

اس ویڈیو میں، جو بعد میں بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ہے، کرن پوری کو گیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پولیس کو بتایا کہ ہاں ’میں کرن پوری ہوں، میں تنہا رہتا ہوں اور میں ایک سینیئر شہری ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

آگے جو کچھ ہوتا ہے وہ اُنھیں حیرت میں مبتلا کر کے رکھ دیتا ہے۔ پولیس والے کرن کو دیکھتے ہی سالگرہ کا گیت گانا شروع کر دیتے ہیں۔

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو!

جیسے جیسے پولیس افسر یہ گاتے ہیں، کرن پوری کی حیرت مزید انتہاؤں کو پہنچ جاتی ہے، وہ ان پولیس والوں سے پوچھتے ہیں کہ انھیں ان کی سالگرہ کا کیسے پتا چلا۔ اس کے بعد کرن پولیس والوں کو یہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں سے دور ہیں اور یہ کہتے ہی وہ زار و قطار رو پڑتے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

برتھ ڈے کیک اور ہیٹ پیش کرنے سے پہلے پولیس کرن پوری کو بتاتی ہے کہ انھیں تنہا محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ بھی تو ان کے خاندان والوں کی طرح ہی ہیں۔

اس کے بعد کرن پوری کیک کاٹتے ہیں اور پولیس والے پھر سے ہیپی برتھ ڈے گنگنانا شروع کر دیتے ہیں۔ کرن پوری ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے میرے اس دن کو بہت خاص بنا دیا ہے۔

دو لوگوں کے لیے کھانا

دوسرے ممالک کی طرح انڈیا میں بھی ڈاکٹرز اس وبا کے خلاف فرنٹ لائن پر رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اکثر وہ دن رات اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہتے ہیں۔

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے ایک نجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں کام کرنے والے 30 برس کے ڈاکٹر کوشک باروہ نے بتایا کہ کام کے دوران ذہنی دباؤ اور تناؤ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر باروہ

،تصویر کا ذریعہKaushik Barua

باروہ نے یہ بات ’ہیومنز آف دلی‘ نامی بلاگ میں لکھی۔ بلاگ کا یہ سلسلہ ہیومنز آف نیو یارک سے متاثر ہو کر شروع کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس مشکل سفر میں میں نے صیحح معنوں میں ایک ’نرم دل روح‘ کی مدد حاصل کر چکا ہوں۔

ان کے مکان مالک روہت سوری روزانہ ان کا کھانا بناتے ہیں۔ جب وہ کام سے تھک ہار کر واپس آتے ہیں تو گرم کھانا ان کا منتظر ہوتا ہے۔

چونکہ روہت سوری بھی اکیلے رہتے ہیں تو اس وجہ سے اب دونوں اچھے دوست بھی بن گئے ہیں۔

اس بلاگ میں ڈاکٹر باروہ نے روہت سوری کے ساتھ اپنی سیلفی سے متعلق لکھا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج صبح میں نے اپنی دوستی کی جھلک کو اس تصویر میں سمویا ہے۔ اس سیلفی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں سماجی فاصلے کے اصول کا خیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ دونوں نے اس سیلفی کو ’وٹامن ڈی‘ کا نام دیا ہے۔

ڈاکٹر باروہ کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور پر خوش قسمت اور شکرگزار ہیں کیونکہ ان کے ایک دوست جو ایک ڈاکٹر بھی ہیں کو اس کے مالک مکان نے گھر خالی کرنے کو کہا تھا۔

انڈیا میں متعدد ڈاکٹروں اور نرسوں نے یہ شکوہ کیا ہے کہ مالک مکان اور پڑوسی ان سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان سے وائرس نہ پھیلے۔

باروہ کا کہنا کہ روہت سوری ایک بے مثال قسم کے انسان ہیں، جن کی ان حالات میں دنیا کو ضرورت ہے۔

دور دراز سے برتھ ڈے کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں

واٹسل شرما

،تصویر کا ذریعہPimpri Chinchwad police

لاک ڈاؤن کے دوران نہ صرف واٹسل شرما کو اپنی 15 ویں سالگرہ منانا ہو گی بلکہ انھیں یہ سب اپنے والد کی غیر موجودگی میں ہی کرنا ہو گا۔ ان کے والد کسی کام کے سلسلے میں امریکہ گئے ہوئے تھے اور جب انڈیا نے وطن واپس آنے والی تمام پروازوں کو معطل کر دیا تو وہ واپس نہ آ سکے۔

واٹسل شرما یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے والد نے واپس نہ آنے کے باوجود پولیس کے ذریعے ان کے لیے سالگرہ کا کیک بھیجا ہے۔

ان کے والد نے مقامی پولیس کو لکھا کہ وہ ان کی طرف سے واٹسل شرما کو برتھ ڈے کا کیک دے دیں۔ واٹسل شرما کے والد کی خواہش کے عین مطابق پولیس کیک لے کر ان کے بیٹے کے گھر پہنچ گئی۔

شرما نے پولیس کی گاڑی کے بونٹ پر ہی رکھ کر کیک کاٹا، اس دوران جب پولیس والے تالیاں بجا رہے تھے تو ان کی کار کے ٹیپ سے ہیپی برتھ ڈے کا گانا بھی بج رہا تھا۔

پولیس نے جو ویڈیو ٹویٹ کی اس میں واٹسل شرما یہ کہہ رہے ہیں کہ پولیس نے اس سال میری برتھ ڈے کو خاص بنا دیا ہے، مجھے اس پر ناز ہے۔