کرپشن سے لڑتا تنزانیہ کا ’حادثاتی صحافی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, باسیلیوہ متاہی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نیروبی
گذشتہ سال آزادی صحافت کا بین الاقوامی اعزاز ’انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ‘ جیتنے والے تنزانیہ کے میکسینس میلو شروع سے صحافت کی راہ پر گامزن نہیں تھے۔
16 سال قبل انھوں نے مشترکہ طور پر جامی فورمز نامی ویب سائٹ کی بنیاد رکھی جس میں مرکزی دھارے کے میڈیا کے برعکس کرپشن کے انکشافات کیے جاتے اور سیاسی احتساب کی راہ ہموار کی جاتی۔
بہترین صحافت کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے انھیں عالمی شہرت حاصل ہوئی مگر گذشتہ تین برسوں میں وہ اپنے کام کی وجہ سے 137 مرتبہ عدالتوں کے چکر لگا چکے ہیں اور زیرِ حراست بھی رہے ہیں۔
انھوں نے دسمبر میں بی بی سی کے سیمی اوامی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ آسان نہیں رہا ہے۔ 'یہ بہت تھکا دینے والا کام ہے۔ میں ایمانداری سے کہتا ہوں، یہ تھکا دینے والا کام ہے اور کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بس چھوڑ دیا جائے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تعلیمی اعتبار سے سول انجینیئر میکسینس خود کو 'حادثاتی صحافی' کہتے ہیں۔
انھوں نے 2003 میں عوام کی صحافت اور انکشافات سامنے لانے کے لیے جامی فورمز ویب سائٹ شروع کی جہاں شہری ملک کو لاحق مسائل پر آزادانہ بحث کر سکتے تھے۔
ویب سائٹ مشہور ہو گئی اور اپنے مشن میں اس کی کامیابی پر بظاہر حکومت پیچ و تاب کھا رہی ہے۔
میکسینس کو 2008 میں دہشتگردی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ بھلے ہی الزامات خارج کر دیے گئے مگر معاملہ یہاں ختم نہ ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
سات سال بعد تنزانیہ نے متنازع سائبرکرائم ایکٹ منظور کیا جسے اکثر جامی فورمز قانون بھی کہا جاتا ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم (سی پی جے) کے مطابق سائبرکرائمز لاء (2015) اور الیکٹرانک اینڈ پوسٹل کمیونیکیشنز ایکٹ (2010) کا استعمال حکومت مخالف تنقید کو سینسر اور محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
جامی فورمز نے ان قوانین کو عدالت میں چیلنج کیا لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔
صحافی، صحافتی ادارے اور دیگر افراد ان قوانین کا نشانہ بنے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2018 میں تنزانیہ ایڈیٹرز فورم نے کہا کہ کم از کم پانچ اخبارات اور دو ریڈیو سٹیشنوں کو تین سے 36 ماہ تک کے لیے معطل کیا گیا ہے۔
صحافی ایرک کابیندرا کو جولائی 2019 میں ان کی شہریت پر شک کی وجہ سے گرفتار کیا گیا مگر بعد میں ان پر منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔
ان پر مقدمے کی کارروائی میں کئی مرتبہ تاخیر ہوئی ہے اور وہ اس وقت سے حراست میں ہیں۔
26 سالہ صحافی ٹیٹو میگوٹی نے 20 دسمبر کو دارالسلام میں گرفتاری کے بعد سے اب تک کرسمس کی چھٹیوں کے تمام دن ریمانڈ پر گزارے ہیں۔
سنہ 2016 میں میکسینس نے ویب سائٹ پر پوسٹ کرنے والے لوگوں کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا تو ان پر بھی سائبرکرائمز قانون کے تحت تحقیقات میں رخنہ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا۔
'ہمارے پاس 18 وکلا کی ٹیم ہے'
جامی فورمز کو 2018 میں 21 دن کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور اس پر آن لائن مواد کے سخت گیر ضوابط کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
مگر حکام کے ساتھ چپقلش، قانونی کارروائیوں اور دھمکیوں کے باوجود میکسینس ڈٹے رہے ہیں اور انھیں شہرت بھی ملی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بندش کے بعد سے انھیں کئی وکلا بھرتی کرنے پڑے، اپنی ادارتی پالیسی ازسرِنو مرتب کرنی پڑی اور زیادہ لوگ بھرتی کرنے پڑے تاکہ ویب سائٹ پر اشاعت سے قبل تمام مواد کی پڑتال کی جا سکے۔
'ہمارے پاس 18 وکلا کی ٹیم ہے۔ ہمیں نئی سوچ کے ساتھ نئی حکمتِ عملی بنانی پڑی، ہم نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کو اپنی حکمتِ عملی اور ہمارے کام پر نظرِثانی اور بہتر کام کے لیے ہماری مشاورت کرنے کی دعوت دی۔'
لیکن ان کا کہنا ہے کہ لوگ اب بھی آزادانہ طور پر بات نہیں کر سکتے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'شروع میں لوگ آزاد تھے، بات کر سکتے تھے، آپ کو فورم پر پوسٹ کیے گئے ان کے تبصروں کی صرف ذرا سی ایڈیٹنگ کرنی ہوتی تھی۔ آپ کسی سرکاری افسر اور یہاں تک کہ کسی سیاستدان کو بھی کال کر سکتے تھے اور وہ تبصرہ کر دیا کرتے۔ مگر اب ایسے امکانات ختم ہوچکے ہیں۔'
میڈیا آزادی میں 'زبردست کمی'
ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے وکلا کی اپنے ذرائع سے بات کروانی پڑتی ہے تاکہ ذرائع کو ان کے تحفظ اور رازداری کا یقین دلایا جا سکے۔
وہ میڈیا کے لیے 'سکڑتی ہوئی جگہ' پر شکوہ کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں صحافتی آزادی کی رینکنگ میں تنزانیہ کی درجہ بندی میں کمی آئی ہے۔
گذشتہ سال بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی شائع کردہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں تنزانیہ 25 درجے نیچے، یعنی 118 ویں نمبر پر قرار دیا گیا ہے۔
آر ایس ایف کے افریقہ ڈیسک کے سربراہ ارناڈ فروگر نے کہا کہ 'دنیا میں کسی بھی ملک میں گذشتہ چار سالوں کے اندر صحافتی آزادی میں اتنی زبردست گراوٹ نہیں دیکھنے میں آئی ہے۔'
'تنزانیہ میں جو میڈیا ادارے اور صحافی تنقیدی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، ن کے لیے بس یہی آپشن ہیں کہ یا وہ خاموش رہیں یا عتاب کا سامنا کریں۔'
حکومت کا اصرار ہے کہ ملک میں آزادی اظہار موجود ہے اور صحافی اور تبصرہ نگار تب تک اپنا کام کرنے کے لیے آزاد ہیں جب تک وہ قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔
جامی فورمز کے شریک بانی کا کہنا ہے کہ اب روز مرّہ کے کاموں میں انھیں تنزانیہ میں میڈیا کے ریگولیٹری اداروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی تنظیم کو کچھ بھی شائع کرنے سے قبل پانچ مرتبہ نظرِ ثانی کرنی پڑتی ہے۔
'ہمیں تنزانیہ کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی، پولیس، بورڈ فار دی میڈیا کو مدِنظر رکھنا پڑتا ہے۔ پھر جامی فورمز جیسے آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے ضوابط بھی ہیں، وزارتِ انفراسٹرکچر بھی۔'
'اس کے علاوہ سائبر کرائمز ایکٹ کی وجہ سے آپ خود کو ان تمام اداروں اور تنظیموں کے درمیان کھڑا پاتے ہیں اور آپ کو یہ یقینی بنانا پڑتا ہے کہ آپ جو بھی شائع کریں اس میں واضح حقائق ہوں، اور یہ کہ مواد ملکی قوانین سے مطابقت رکھتا ہو۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کے ساتھ کام کرنا
اس سب کا مستقبل پر کیا اثر پڑے گا، اس حوالے سے وہ بہت فکرمند ہیں، خاص طور پر کیونکہ اس سال انتخابات بھی ہونے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ سنہ 2020 تنزانیہ میں صحافتی آزادی کے لیے شاید بہتر ہو، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ 'آپ زیادہ پیشگوئی نہیں کر سکتے، خاص طور پر انتخابات کے سال کے بارے میں۔'
'اس لیے یہ ہمارے لیے مشکل دور ہے، ہمارے شعبے کے لیے مشکل دور ہے، ہر کوئی فکرمند ہے کہ آنے والے انتخابات میں کیا ہوگا۔'
مگر صحافیوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ حکام سن رہے ہیں۔
'دیکھیں، حکومت شاید آپ پر دباؤ ڈالے اور آپ کو اس کا مقابلہ کرنا پڑے، اور آپ کو اس حوالے سے حکمتِ عملی بنانا پڑتی ہے کہ حکومت میں آپ کے حقیقی اتحادی کون ہیں۔'
وہ موجودہ انتظامیہ کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ میڈیا اور دیگر تنقیدی آوازوں کو اپنے ساتھ بٹھائیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ سب مل کر مشترکہ دشمن یعنی بدعنوانی سے لڑ سکتے ہیں۔
وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے بدعنوانی کے ان معاملات سے پردہ اٹھایا جن سے اب صدر جان میگوفولی نمٹ رہے ہیں۔
'صدر میگوفولی وہ صدر ہیں جن کے بارے میں سب مانتے ہیں کہ وہ کرپشن سے لڑ رہے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ اگر وہ کرپشن سے لڑائی میں سنجیدہ ہیں تو انھیں میڈیا کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔









