انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں 300 صحافیوں کے لیے صرف چھ کمپیوٹروں پر انٹرنیٹ دستیاب

انٹرنیٹ کی سہولت

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنپورے کشمیر کی صحافت صرف چھ کمپیوٹروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

پانچ ماہ سے کشمیر سے باہر جانے والی کہانیاں محدود ہیں۔ پانچ اگست کو بھارتی پارلیمنٹ نے کشمیر کو حاصل وہ سبھی اختیارات کالعدم قرار دیے تھے، جن کے تحت کشمیر کا اپنا علیحدہ آئین اور پرچم تھا اور غیرکشمیریوں کو یہاں جائیداد کی ملکیت اور نوکریوں کا حق حاصل نہ تھا۔

وہ سب ختم ہوگیا تو عوامی ردعمل کے خدشے کی وجہ سے حکومت نے کئی ہفتوں تک کرفیو نافذ کیا اور دیگر قدغنوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور فون رابطے معطل کردیے۔ فون رابطے ایک محدود حد تک بحال ہوگئے ہیں تاہم انٹرنیٹ پانچ ماہ سے مسلسل بند ہے، جس سے زندگی کے تمام شعبے متاثر ہیں۔ لیکن 'انٹرنیٹ کرفیو' کے باعث سب سے زیادہ متاثر یہاں کی صحافت ہوئی ہے۔

حکومت نے ایک سرکاری عمارت میں چھ کمپیوٹروں پر انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کر رکھی ہے، لیکن کشمیر میں فی الوقت تین سو صحافی سرگرم ہیں جو میڈیا سینٹر پر دن بھر قطار میں انتظار کرنے کے بعد رپورٹ فائل کر پاتے ہیں۔ اس عبوری انتظام کو یہاں کے صحافی نہ صرف ناکافی بلکہ باعث تذلیل سمجھتے ہیں۔

سینئر صحافی پرویز بخاری کہتے ہیں ’اول تو میڈیا سینٹر پر جو بھی کام ہوتا ہے وہ سرکاری نگرانی میں ہوتا ہے۔ ہم جو کچھ باہر بھیجتے ہیں اُس پر حکومت کی کڑی نگاہ ہوتی ہے۔ دوسرا یہ نظام اس قدر محدود ہے کہ صحافی اس درد سر سے بچنے کے لیے کم کام کرتے ہِیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیر سے باہر جانے والی کشمیری کہانی آدھا سچ ہوتا ہے۔‘

اس بارے میں

پرویز بخاری

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنانٹرنیٹ کی سہولت اس قدر محدود ہے کہ صحافی اس درد سر سے بچنے کے لیے کم کام کرتے ہِیں: سینئر صحافی پرویز

نیشا زرگر ایک نوجوان صحافی ہیں جو گزشتہ تین سال سے سرگرم ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’گزشتہ دنوں نئی دلی سے ہماری ایک دوست صحافی یہاں آئی۔ رپورٹ بھیجنے کے لیے اُنہیں میڈیا سینٹر میں چار گھنٹے انتظار کرنا پڑا، جب بالآخر اُن کی باری آئی تو وہ جانے سے قبل اپنا ای میل بند کرنا بھول گئیں اور اپنا بیگ اور دیگر سامان بھی بھول گئیں۔ آپ سوچ لیجیے، کئی گھنٹے معلومات اکٹھا کرنے کے بعد جب ہم یہاں مزید چار گھنٹوں تک یرغمال ہوجائیں، تو کیا صحافت کرسکتے ہیں۔‘

نیشا مزید کہتی ہیں کہ میڈیا سینٹر کے دروازے پر صحافیوں کو اپنا نام، پتہ اور فون نمبر درج کرنا پڑتا ہے۔‘

انڈیا یا بیرون ملک میڈیا اداروں کے نامہ نگاروں کو درپیش مشکلات تصویر کا ایک رُخ ہے۔ کشمیر کی مقامی صحافت بھی حد درجہ متاثر ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سرینگر سے دو سو سے زیادہ روزنامے اور پچاس سے زیادہ ہفت روزہ اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ یہ اخبارات بھی اپنی اشاعت کے لیے میڈیا سینٹر کے اُن ہی چھ کپمیوٹروں کے رحم و کرم پر ہیں۔

روزنامہ ’گھڑیال‘ کے مدیر محمد ارشد کہتے ہیں ’لگتا ہے ہم تیس سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ آخر ہمیں صفحات بھی بھرنے ہیں۔ دن بھر ہمارے لوگ میڈیا سینٹر میں متن جمع کر کے لاتے ہیں اور رات کو جب اخبار چھاپہ خانے میں جانا ہوتا ہے تو خراب موسم اور پُرخطر سکیورٹی صورتحال کے بیچ ذاتی طور پرنٹنگ پریس پہ کاپی لے کر جانی پڑتی ہے۔ اکیسویں صدی میں کون سا نیوز رُوم انٹرنیٹ کے بغیر چل پائے گا؟‘

صحافی پرویز بخاری کہتے ہیں کہ کشمیر میں بظاہر پریس کی آزادی پہ کوئی قدغن نہیں ہے، لیکن صحافت کو اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ کشمیر کی کہانی پوری طرح باہر نہیں آ پاتی ہے۔

میڈیا سینٹر کے منتظم اشتیاق احمد کہتے ہیں کہ روزانہ تین سو نامہ نگار، فوٹوگرافر اور ویڈیو جرنلسٹ یہاں سے اپنا کام باہر بھیجتے ہیں۔ دروازے پر ناموں کے اندراج سے متعلق اشتیاق کہتے ہیں ’یہ صحافیوں کے کام کو آسان بنانے کے لیے ہے، ہم نہیں چاہتے کہ غیر صحافی لوگ بھی یہاں آکر صحافیوں کے کام میں خلل ڈالیں۔‘

اشتیاق احمد

،تصویر کا ذریعہBBC URDU

،تصویر کا کیپشنانٹرنیٹ کی سہولت استعمال کرنے کے لیے نام درج کرنے کی شرط صحافیوں کے کام کو آسان بنانے کے لیے ہے: منتظم اشتیاق احمد

واضح رہے انڈیا کے وزیرداخلہ امت شاہ نے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ مقامی انتظامیہ حالات کا جائزہ لے کر مناسب وقت پر انٹرنیٹ بحال کرنے کا فیصلہ کرے گی۔ تاہم اس سے قبل انھوں نے کئی بار یہ دعویٰ کیا کہ کشمیر کے حالات بالکل پرسکون ہیں۔

لائن
،ویڈیو کیپشنکشمیر: انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل، آن لائن کاروبار ٹھپ