امریکی صدر کا مواخذہ: ٹرمپ کی برطرفی کا امکان انتہائی کم تو کارروائی کیوں؟

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی صدر ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں انکوائری کرنے جا رہی ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو صدر کو اپنے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے تاہم واشنگٹن میں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کو دیکھتے ہوئے یہ ایک انتہائی مشکل عمل ہے اور ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

کسی امریکی صدر کا مواخذے کے بعد عہدے سے ہٹایا جانا اتنا مشکل عمل ہے کہ ملک کی تاریخ میں یہ کبھی نہیں ہوا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ نینسی پلوسی ماضی میں مواخذے کے حق میں نہیں تھیں کیونکہ شاید انھیں یہ خدشہ تھا کہ معتدل ڈیموکرٹس جنھیں 2020 کے انتخابات میں کڑے مقابلے کا سامنا ہے، کہیں وہ مشکل میں نہ پڑ جائیں اور ان کی پارٹی کی ایوانِ زیریں میں اکثریت خطرے میں نہ پڑ جائے۔

تو اگر اس سے صدر کا ہٹائے جانے کا امکان انتہائی کم ہے اور ممکنہ طور پر ڈیموکرٹس کو مشکل پڑ سکتی ہے تو اب ایسا کرنے کا مقصد کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

مواخذہ مشکل کیوں ہے؟

کسی امریکی صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانا مشکل اس لیے ہے کہ اس کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی منظوری چاہیے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہرِ قانون جانتھن ٹرلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایوانِ نمائندگان (ایوانِ زیریں) میں صرف ایک سادہ اکثریت چاہیے۔ ڈیموکرٹس کے زیرِ کنٹرول ایوانِ نمائندگان بالکل ایک صدر کا جو کہ ریپلکن ہیں، باآسانی مواخذہ کر سکتے ہیں اگر وہ جرم ثابت کر لیں۔‘

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتاریخ میں صرف دو امریکی صدور اینڈریو جانسن اور بل کلنٹن کا مواخذہ کیا گیا ہے اور دونوں کو سینیٹ میں بری کر دیا گیا

اس کے بعد سینیٹ (ایوانِ بالا) صدر پر ایک مقدمہ چلاتی ہے جس میں سزا کی صورت میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے مگر اس کے لیے سادہ اکثریت کافی نہیں۔

پروفیسر ٹرلی کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ریپلکن اکثریت والی سینیٹ صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹائے جب آپ کو ایک بھاری اکثریت چاہیے۔‘

صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ کی دو تہائی اکثریت یعنی 100 میں 67 سینیٹرز کی حمایت چاہیے۔

تاہم کیونکہ 53 سینیٹر اس وقت ریپبلکن ہیں، اس بات کا امکان بہت کم ہے ان کی کوئی بڑی تعداد صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ ڈالے گی۔

تاریخ میں صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، 1868 میں اینڈریو جانسن اور 1998 میں بل کلنٹن مگر دونوں کو سینیٹ سے بری کر دیا گیا۔

تو اب مواخذے کی کوشش کا فائدہ؟

قانون کی عمل داری کا تحفظ

نینسی پلوسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ کی دو تہائی اکثریت یعنی 100 میں 67 سینیٹرز کی حمایت چاہیے

کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی سے منسلک امریکی سیاسیات کی ماہر کمبرلی نیلڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں کچھ اراکینِ کانگریس کا مقصد قانون کی عمل داری کا تحفظ کرنا ہے، اس خیال کا تحفظ کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں بشمول صدر۔‘

’اگر کانگریس کچھ نہیں کرتی تو اس سے موجودہ اور مستقبل کے صدور کو کھلی چھوٹ مل جائے گی کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کریں۔‘

صدر کے خلاف مواخذے کی باضابطہ انکوائری شروع کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ ’کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں اور ٹرمپ کو اپنے اقدامات کے لیے جوابدہ ہونا ہوگا۔

چاہے مواخذے کی کوشش ناکام بھی ہو جائے ان عقائد کی پاسداری ہی شاید اس اقدام کا مقصد ہے۔

صدر کا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کے خلاف شکایات آنے لگی تھیں۔

Impeachment flowchart

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے نامہ نگار اینتھونی ذکر کا کہنا ہے کہ ’مواخذے کی باتیں تو صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے ہی ہو رہی ہیں۔۔۔ (میولر انویسٹیگیشن کے) ہر موڑ پر کانگریس سے ایکشن کے لیے کہا گیا۔‘

اور اب ٹرمپ کی یوکرین کے صدر کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے تنازع کے بعد جذبات اور ابھر آئے ہیں۔

’تاہم ڈیموکریٹس کے مواخذے کی جانب جانے کے لیے یوکرین کا تنازع آنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ساتھ اپنی گفتگو میں ممکنہ طور پر ان سے اپنے سیاسی مدِمقابل جو بائیڈن کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کرنے کے بارے میں دباؤ ڈالا تھا۔‘

ڈیموکرٹس صدر ٹرمپ کا ایجنڈا بھی روکنا چاہتے ہیں

بل کلنٹن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکئی لوگوں کے ذہن میں صدر کلنٹن کی صدارت کا سب سے یادگار عنصر ان کا مونیکا لونسکی سکینڈل ہی ہے

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مواخذے کی کارروائی کا کسی کی صدارت پر بہت اثر پڑتا ہے اور مواخذہ روکنے میں بڑی توجہ لگ جاتی ہے۔

صدر کلنٹن کی صدارت کے آخری دو سال ان ہی مسائل میں گھری رہی ہے۔

کئی لوگوں کے ذہن میں صدر کلنٹن کی صدارت کا سب سے یادگار عنصر ان کا مونیکا لونسکی سکینڈل ہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک برائنٹ کا ماننا ہے بل کلنٹن کے سکینڈل نے ہلیری کلنٹن کی سنہ 2016 کی صدارتی دوڑ پر منفی اثرات مرتب کیے کیونکہ عوام یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک اور سکینڈلوں سے لیس صدارتی دور گزاریں۔

2020 کی انتخابی مہم سے توجہ ہٹانا

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ اگلے انتخاب کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر چکے ہیں

صدر ٹرمپ نے دوبارہ منتخب ہونے کے لیے اپنی الیکشن مہم شروع بھی کر دی ہے۔ آئندہ صدارتی انتخاب 3 نومبر 2020 کو ہونا ہے۔

انھوں نے جون 18 کو فلوریڈا میں ایک لانچ ایونٹ رکھا جس میں ہزاروں نے شرکت کی۔ اور ظاہری بات ہے کہ عہدے سے ہٹائے جانے کا امکان ان کی مہم کو نقصان پہنچائے گا اور ان کے دوبارہ منتخب ہونے کے امکان کو کم کرے گا۔

صدر ٹرمپ کی ٹوئیٹس دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان الزامات کے بارے میں سوچنے میں کافی وقت لگاتے ہیں۔

مگر بہت سے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ڈیموکریٹس کی توجہ بھی منقسم کر دے گا اور بجائے ٹرمپ سے دیگر معاملات پر لڑنے کے وہ مواخذے کا ہی سوچتے رہیں گے۔

عوامی رائے صدر ٹرمپ کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دے گی

صدر نکسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر نکسن نے مواخذے سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا تھا

اگرچہ مواخذہ سینیٹ میں ریپلکن اکثریت سے آگے نہیں جا پائے گا، اس کارروائی سے عوامی رائے کو ضرور فرق پڑے گا۔

رائے شماری کے ایک جائزے کے مطابق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کو فوجی امداد اسی لیے روکی تھی تو 55 فیصد امریکی کہیں مواخذے کی حمایت کرتے ہیں۔

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مزید انکشافات انھیں اور نقصان پہنچائیں اور شاید پھر ان کی سیاسی پوزیشن بہت کمزور ہو جائے۔

اور ایسا تو تاریخ میں ہو چکا ہے۔ 70 کی دہائی میں صدر نیکسن کے خلاف جب مواخذےکی کارروائی شروع ہوئی تھی اور صرف 19 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ انھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔ مگر اس کارروائی کے دوران انکشافات اتنے ہوئے کہ یہ نمبر 57 فیصد تک جا پہنچا تھا۔