صدر ٹرمپ: امریکی صدر کے مواخذے کے سلسلے میں تحقیقات شروع

ٹرمپ اور پلوسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اس کی وجہ ان الزامات پر مبنی ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک سیاسی حریف کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک بیرونی قوت پر دباؤ ڈالا۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ ’صدر کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔‘

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی غیر قانونی اقدام کی تردید کرتے ہوئے ان کوششوں کو ’وِچ ہنٹ‘ یا ایذارسانی قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مواخذہ کیا ہے اور کیا یہ ممکن ہے؟

امریکہ میں کسی صدر کے 'مواخذے' کا مطلب ہے کہ ان کے خلاف الزامات کانگرس میں لائے جائیں جو مقدمے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ مواخذے کی کارروائی ایوانِ نمائندگان سے شروع ہوتی ہے اور اس کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس کا مقدمہ سینیٹ میں چلتا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کی بھر پور حمایت حاصل ہے لیکن رپبلکن پارٹی کے کنٹرول والے سینیٹ سے اس کی منظوری کے امکان کم ہیں۔

آج تک صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں بل کلنٹن (1998) اور اینڈریو جانسن (1868) شامل ہیں۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انکوائری کی وجہ

یہ تنازع تب سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر یوکرین میں اپنے ہم منصب پر بائیڈن خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جو کہ حالیہ دنوں واشنگٹن میں گرما گرم موضوع بنا ہوا ہے۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ شکایات کس نے درج کروائی تھی مگر یہ معلوم ہے کہ یہ 12 اگست کو دائر کی گئی ہے۔ شکایت کے دائر کیے جانے سے ڈھائی ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے یوکرینی ہم منصب سے فون پر گفتگو کی تھی۔

اخبار واشنٹگن پوسٹ نے دو سینئر امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کام کرنے والے ایک امریکی انٹیلیجنس عہدیدار نے ایک غیر ملکی رہنما اور ان سے کیے گئے صدر ٹرمپ کے ایک 'وعدے' کو اتنا تشویشناک پایا کہ انھوں نے انٹیلیجنس کے انسپکٹر جنرل کو اس کی شکایت کر ڈالی۔

گذشتہ ہفتے یہ بات سامنے آئی کہ ٹرمپ انتظامیہ اس شکایت کو کانگریس تک پہنچنے سے روک رہی تھی، اس کے باوجود کہ انٹیلیجنس کے انسپکٹر جنرل نے اسے 'فوری نوعیت' کا حامل معاملہ پایا تھا۔

نینسی پلوسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نینسی پلوسی نے کیا کہا؟

ڈیموکریٹک رہنما نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ ’ٹرمپ نے قانون کی خلاف ورزی‘ کا ارتکاب کیا ہے۔ انھوں نے ٹرمپ کے اقدامات کو ’اپنی آئینی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا ’اس ہفتے صدر نے یوکرائن کے صدر سے بائیڈن خاندان کے خلاف انکوائری کرنے کو تسلیم کیا ہے جس سے وہ سیاسی فائدہ اٹھائیں گے۔‘

نینسی پلوسی نے کہا 'صدر کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔'

ٹرمپ کا جواب

صدر ٹرمپ نے ٹویٹس کی ایک سیریز میں کہا ’ڈیموکریٹس نے جان بوجھ کر اقوام متحدہ میں ان کے سفر کو برباد کیا۔‘

انھوں نے اس انکوائری کو رد کرتے ہوئے اسے 'وچ ہنٹ' قرار دیا۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا ’انھوں نے کبھی بھی کال کے متن کی نقل نہیں دیکھی۔‘

انھوں نے یہ وعدہ کیا کہ وہ بدھ کو یوکرائن کے صدر کے ساتھ اپنی گفتگو کا ایک متن جاری کریں گے تاکہ یہ ’مکمل طور پر موزوں ہو۔‘

جو بائیڈن اور ہنٹر بائیڈن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجو بائیڈن (دائیں) کے بیٹے ہنٹر بائیڈن (بائیں) یوکرائن کی بڑی گیس کمپنی ’بوریزما‘ میں پرکشش تنخواہ حاصل کرنے والے ڈائریکٹر تھے

کہانی کا پس منظر

جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے یوکرین کی ایک قدرتی گیس کمپنی میں اس وقت بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دیں جب ان کے والد سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے نائب صدر تھے۔ ان کا یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں اہم کردار رہا۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 25 جولائی کو کی جانے والی کال ’مبارک باد‘ کی تھی مگر اس میں کرپشن کا تذکرہ کیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے لوگ، مثلاً نائب صدر بائیڈن اور ان کے بیٹے، یوکرائن میں پہلے سے موجود کرپشن میں اپنا حصہ ڈالیں۔‘

مگر ان کا اصرار تھا کہ انھوں نے ’کچھ بھی غلط نہیں کیا تھا۔‘

اس سے قبل وہ اس نامعلوم شکایت دہندہ کو ’جانبدار‘ قرار دیتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ غیر ملکی رہنماؤں کو کی جانے والی ان کی تمام کالز امریکی انٹیلیجنس ادارے سنتے ہیں۔

اتوار کو ہی صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹس میں ان خبروں کو ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے جو بائیڈن پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے یوکرین میں اپنے بیٹے کی کمپنی کے خلاف تحقیقات کرنے والے تفتیش کار کو یوکرین کے لیے امریکی امداد بند کرنے کی دھمکی دے کر نکلوایا تھا۔ انھوں نے لکھا ’یہ ہے اصل کہانی۔‘