انڈونیشیا: زلزلے کے مزید جھٹکے، 384 ہلاک، 500 زخمی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ پانچ کی شدت سے آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد زلزلے کے مزید جھٹکے ریکارڈ کیےگئے ہیں۔
حکام نے ابھی تک پالو شہر میں 384 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاپتہ افراد میں سے کئی ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔
پالو شہر کے ایئرپورٹ پر ایک ایئر کنٹرولر جہاز کو بحفاظت پرواز کرانے کی کوشش میں ہلاک ہو گیا ہے۔
پالو شہر کے باہر زلزلے اور سونامی سے ہونے جانے والے جانی اور مالی نقصان کا ابھی اندازہ نہیں لگایا گیا۔
حکام نے زلزلے سے بچ جانے والوں کو ہدایت کی ہےکہ وہ حفاظتی اقدام کے طور پر کھلے آسمان تلے قائم کیےگئے کیمپوں میں قیام کریں اور اپنے گھروں کو لوٹنے میں جلدی نہ کریں۔
جمعہ کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 384 ہو گئی ہے۔ پانچ سو سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔
جمعے کو آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ پانچ ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کے نتیجے میں آنے والی سونامی کی دس فٹ بلند لہروں نے ساحلی شہر پالو میں تباہی مچا دی۔
شہر میں زلزلے اور پھر سونامی کے نتیجے میں تباہی ہوئی ہے اور سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لاشیں شہر کی گلیوں میں پڑی ہیں جبکہ عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہر میں زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے عارضی مراکز بنائے گئے ہیں کیونکہ شہر کے ہسپتال کو بھی زلزلے کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے۔
پالو شہر کا ہوائی اڈہ بھی متاثر ہوا ہے تاہم حکام اڈے پر کئی فوجی ہوائی جہازوں کو اتارنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں امدادی سامنا تھا
سولاویسی جزیرے میں نقصان کی تصاویر
حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
سماجی رابطوں پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں سونامی کی لہریں شہر میں داخل ہونے کے بعد لوگوں کو افراتفری میں بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ انڈونیشیا میں سیاحوں میں مقبول جزیرے لومبوک میں متعدد بار زلزلہ آیا تھا جس میں پانچ اگست کو آنے والے زلزے میں 460 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
انڈونیشیا کے امددای ادارے کے سربراہ محمد سائروگی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ’ وہاں بہت ساری لاشیں پڑی ہیں لیکن ہلاکتوں کی صحیح تعداد کے بارے میں ابھی نہیں جانتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاکتیں زلزلے کے نتیجے میں ہوئیں یا اس کے بعد آنے والی سونامی کی وجہ سے ہوئیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاہم ایک وزیر کے مطابق علاقے میں مواصلات کا نظام متاثر ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انھوں نے کہا کہ شہر میں واقع رن وے کو بھی نقصان پہنچا ہے لیکن امید ہے کہ وہاں ہیلی کاپٹر لینڈ کر سکیں گے۔
امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق زلزلہ جمعے کی شام چھ بجے آیا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کے نتیجے میں سونامی کی وراننگ جاری کی گئی تھی لیکن اسے ایک گھنٹے بعد ہی واپس لے لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انڈونیشیا کی میٹرولوجیکل اینڈ جیو فزکس کے سربراہ کے مطابق’ اس وقت صورتحال کافی ابتر ہے۔ لوگ افراتفری میں بھاگ رہے ہیں جبکہ عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔ ایک بحری جہاز بھی سونامی کے نتیجے میں بہہ کر ساحل پر آ گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ انڈونیشیا میں 2004 میں آنے والی تباہ کن سونامی کے نتیجے میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سونامی سے دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے تھے جن میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 26 ہزار سے زیادہ تھی۔
انڈونیشیا میں زلزلے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے کیونکہ یہ ملک 'رنگ آف فائر' یعنی مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے دھماکوں کے علاقے میں آباد ہے۔ اس قطار میں پیسفک سمندر کا تقریبا مکمل حصہ شامل ہے۔
دنیا کے نصف سے زیادہ زمین کے باہر فعال آتش فشاں اسی رنگ آف فائر کا حصہ ہیں۔










