میکسیکو: زلزلے کے باعث مرنے والوں کی تعداد 90 ہو گئی

اوکساکا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنریاست اوکساکا میں بہت سے مکانات ملبہ میں بدل گئے

میکسیکو میں جمعرات کو آنے والے شدید زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد حکام کے مطابق اب 90 ہو گئی ہے۔

یہ زلزلہ رچٹر سکیل پر آٹھ اعشاریہ ایک ریکارڈ کیا گیا تھا۔

حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ صرف جنوب مغربی ریاست اوکساکا میں 71 افراد ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق سینکڑوں خاندان خوف سے سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں کہ کہیں پھر سے زلزلہ نہ آئے۔ میکسیکو کے زلزلہ ریکارڈ کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے آفٹر شاک کی صورت میں 721 بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

ایک صدی میں یہ اس ملک میں آنے والا شدید ترین زلزلہ تھا۔

جمعے کو ملک کا مشرقی حصہ ٹراپیکل طوفان کیٹیا کی زد میں آ گیا تھا اور دو افراد کی شدید بارش میں مٹی کے تودے گرنے سے موت ہو گئی۔

مٹی کے تودے تلے دبا ایک گھر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنزلزلے کے جھٹکے اس کے اصل مقام سے سینکڑوں میل دور تک محسوس کیے گئے اور اس سے اوکساکا اور چیاپاس کے علاقوں میں خاصی تباہی ہوئی ہے۔
جہاں لوگوں کی موت ہوئی اسے ایک پولیس نے گھیر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسنیچر کو آنے والے طوفان میں سینکڑوں مکانات زد میں آ گئے۔ جہاں لوگوں کی موت ہوئی اسے علاقے کو پولیس نے گھیر رکھا ہے۔
جوتیچان میں امدادی کام

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسنیچر تک امدادی کارکن ملبے کے نیچے دبے افراد کی تلاش میں لگے ہوئے تھے۔
زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY

،تصویر کا کیپشنجمعرات کو آنے والے زلزلے میں زخمی ہونے والے افراد کا اعلاج کیا جا رہا ہے۔
خواتین امدادی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکومت کی جانب سے زلزلہ کے متاثرین کے لیے کیمپ لگائے گئے ہیں۔
تدفین پر روتے ہوئے لواحقین

،تصویر کا ذریعہAFP/getty

،تصویر کا کیپشنزلزلے میں مرنے والے لواحقین اپنے سوگ میں ڈوبے یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔
تلاش

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY

،تصویر کا کیپشناوکساکا میں آنے والے زلزلے سے زمیں بوس ہونے والے مکانات کے درمیان پھنسے ہوئے افراد کی تلاش جاری ہے۔
ایک شخص ملبے میں کچھ تلاش کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY

،تصویر کا کیپشنمرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد اوکساکا ریاست میں ہے
رضاکار

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY

،تصویر کا کیپشنیہاں رضاکاروں کو امدادی سامان کی جانچ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔