ایران عراق زلزلہ: ’بلڈنگ ہوا میں جھولنے لگی‘

ایران

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنزلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ایرانی صوبے کرمنشاہ میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

سات اعشاریہ تین کی شدت سے ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں صرف ایران میں 70 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

آفٹر شاکس کے امکان کی وجہ سے سرد موسم کے باوجود مکین گھروں سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق ایران میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ کرمانشاہ ہے جہاں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ راوں برس کا شدید ترین زلزلہ تھا۔ جب زلزلہ آیا تو متاثرہ علاقوں کی مساجد میں اذان دی جانے لگی۔

ایران کی سرحد کے دوسری جانب بغداد میں مجیدہ امیرنے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ 'میں اپنے بچوں کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہی تھی کہ بلڈنگ ہوا میں جھولنے لگی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ پہلے میں نے سمجھا کہ کوئی بہت بڑا دھماکہ ہوا ہے لیکن پھر ہر جانب ہر کوئی چلانے لگا زلزلہ۔'

عراق ایران زلزلہ

،تصویر کا ذریعہAFP

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اربل میں زلزلے کے جھٹکے ایک منٹ سے زیادہ دیر تک محسوس کیے گئے۔

زلزلے سے متاثرہ ایک شخص نے بتایا کہ 'پہلے کچھ سیکنڈز تک تو اس کا پتہ نہیں چلا۔ مجھے پوری طرح یقین نہیں تھا کہ کیا یہ ہلکا سا زلزلہ ہے یا محض میرا خیال لیکن پھر جلد ہی یہ واضح ہوگیا کیونکہ عمارتیں جھولنا شروع ہو گئی تھیں۔'

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو رہی ہے جو امدادی کاموں میں رکاوٹ کا باعث ہے۔

عراق، ایران

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمکینوں کو لفٹ استعمال کرنے اور عمارتوں میں جانے سے روکا گیا ہے

سرحد سے پندرہ کلومیٹر دور واقع اس علاقے میں 142 مکین زخمی ہوئے لیکن وہاں موجود ہسپتال میں کسی کو بھی طبی امداد نہیں دی جا سکی جس کی وجہ یہ تھی کہ عمارت کو زلزلے سے شدید نقصان پہنچا تھا۔

راستے بند ہونے کی وجہ سے بہت سے دیہی علاقوں سے رابطے بھی منقطع ہو گئے ہیں۔

عراق میں سب سے زیادہ تباہی داربندیخان نامی ٹاؤن میں ہوئی۔

عراقی وزیر صحت ریخاوت ہما رشید کا کہنا ہے کہ صورتحال بہت نازک ہے۔

زلزلہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنزلزلے سے متاثرہ ایک خاتون

ترکی اور اسرائیل کے میڈیا کے مطابق وہاں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم فوری طور پر کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ترک ریڈ کریسنٹ کے چئیرمین کریم کینیک نے نشریاتی ادارے این ٹی وی کو بتایا کہ اربل میں موجود ان کی ٹیم دیگر اداروں کے ساتھ مل کر عراق کے متاثرہ علاقوں میں جارہی ہے۔