ایران، عراق کے سرحدی علاقے میں زلزلے سے 400 سے زیادہ ہلاکتیں

Iranians set up temporary camps outside of shaken buildings in Pole-Zahab, Kermanshah province, 13 Nov 2017

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنزلزلے سے متاثر ہونے والے 70 ہزار افراد کو فوری طور پر امداد اور پناہ گاہوں کی ضرورت ہے

عراق اور ایران کے سرحدی علاقے میں اتوار کی شب آنے والے شدید زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 400 سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ سات ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور امدادی ٹیمیں گری ہوئی عمارتوں کے ملبے سے زخمیوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

یہ زلزلہ اس سال کا بدترین زلزلہ تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق سات اعشاریہ تین شدت کے زلزلے کے نتیجے میں بیشتر ہلاکتیں عراقی سرحد سے متصل ایران کے مغربی صوبے کرمانشاہ میں ہوئی ہیں۔

ایک ایرانی امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے 70 ہزار افراد کو فوری طور پر امداد اور پناہ گاہوں کی ضرورت ہے۔

کرمانشاہ صوبے میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ عراق میں اب تک زلزلے سے سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں زلزلے کے بعد لوگوں سڑکوں پر نکل آئے۔

تین بچوں کی والدہ ماجدہ امیر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 'میں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہی تھی کہ اچانک بلڈنگ ہوا میں جھولنے لگی۔ پہلے تو مجھے لگا کہ کوئی بم دھماکہ ہوا ہے۔'

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے طبی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران میں 6603 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کے سرکاری ہنگامی امدادی ادارے کے سربراہ پیر حسین قلیوند نے سرکاری ٹی وی پر بیان میں کہا ہے کہ ہلاک شدگان اور زخمیوں میں سے بیشتر کا تعلق سرحد سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبے سرپل ذہاب سے ہے۔

زلزلہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراق کے علاقے سلیمانیہ میں بھی زلزلے سے نقصان ہوا ہے

اس قصبے میں بیشتر عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں، بجلی کی ترسیل کا نظام متاثر ہوا ہے اور رابطہ منقطع ہونے سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

قصبے میں سرکاری ہسپتال کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

زلزلے سے لوگ خوف میں مبتلا ہو گئے اور آفٹر شاکس کے خدشات پر شہریوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر سڑکوں پر پناہ لیے ہوئے ہے۔

زلزلے کے جھٹکے اسرائیل اور ترکی میں بھی محسوس کیے گئے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کو زلزلے سے متاثرہ ملک کے مغربی علاقوں میں روانہ کر دیا گیا ہے۔

ایران میں امدادی ادارے ریڈ کریسنٹ کے سربراہ مرتضیٰ سلیم کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں آٹھ دیہات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ متعدد دیہات میں بجلی اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔

زلزلہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنزلزلے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز عراق کے جنوبی شہر حلبجہ سے 15 کلومیٹر دور تھا اور اس کی زمین میں گہرائی 33.9 کلومیٹر تھی۔

ایران میں زیادہ زلزلے کیوں آتے ہیں؟

ایران کا شمار دنیا کے اُن خطوں میں تھا جہاں بہت زیادہ زلزلے آتے ہیں اور ماضی میں یہاں بہت تباہ کن زلزلے آئے ہیں۔

عمومی طور پر اس علاقے میں زلزلوں کی وجہ عربین اور یوریشیا ٹیکٹانک پلیٹس کا آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرانا ہے۔ ہر سال عریبین پلیٹ شمالی کی جانب چند سینٹی میٹر سرکتی ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق زلزلہ زیر زمین اسی تغیر کی وجہ سے آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک پلیٹ دوسری پلیٹ پر چڑھ گئی۔

جیولوجیکل ادارے اب اس زلزلے سے ہونے والی اموات کے بارے میں اعدادوشمار اکٹھا کر رہے ہیں۔

زلزلے سے ہونے والی تباہی کا اندازہ اُس علاقے میں موجود آبادی، زلزلے کی شدت اور تعمیراتی ڈھانچے کو دیکھ لگایا جاتا ہے۔

ایران کے اس علاقے میں بڑا مسئلہ کمزور عمارتیں ہیں۔ اس علاقے میں بیشتر عمارتیں کچی ہیں۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے پہاڑی تودے گرنے کا خطرہ بھی موجود ہے جس کی وجہ سے جانی نقصان کے علاوہ امدادی کاموں میں بھی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

ایران زلزلہ