فلپائن میں رواں برس کا پندرھواں اور شدید ترین سمندری طوفان، 25 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
سمندری طوفان منگکھٹ چین کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے گوانگڈونگ سے جا ٹکرایا ہے جہاں ہوا کے جھکڑوں کی رفتار 162 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی ہے۔
گوانگڈونگ میں طوفان کے خطرے کی وجہ سے انتہائی الرٹ ہے۔ یہ طوفان ہانگ کانگ سے ہوتا ہوا یہاں پہنچا ہے۔ ہانگ کانگ میں اس کی وجہ عمارتیں بھی لرز گئیں اور ان کے شیشے ٹوٹ گئے۔
فلپائن میں آنے والے سمندری طوفان منگکھٹ کے آنے کے بعد حکام جانی اور مالی نقصانات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طوفان سنیچر کو فلپائن کی حدود میں داخل ہوا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 50 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جن میں سے اکثر ہلاکتیں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ہیں۔
زرعی صوبے کاگیان میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے۔
طوفان کے باعث شمال مشرقی جزیرے لوزون میں بگاؤ میں زمین سرکنے کے واقعات پیش آئے۔
یہ سمندری طوفان سنہ 2018 کا شدید ترین طوفان تھا تاہم زمین پہنچنے پر اس کی شدت قدرے کم ہو چکی تھی۔
اسی بارے میں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے راستے میں 50 لاکھ کی آبادی تھی جبکہ ایک لاکھ افراد کو محفوظ عارضی مقامات پر منتقل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نقصان کتنا شدید تھا
حکام کے مطابق کاگیان کے صوبائی دارالحکومت میں تقریباً سبھی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صدر کے سیاسی مشیر فرانسس ٹولینٹینو نے بی بی سی کو بتایا کہ زرعی صوبے میں فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان کے اندازے کے مطابق چاول اور مکئی کی تیار فصلوں میں سے محض پانچ فیصد کی کٹائی ہو پائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فلپائن میں ریڈ کراس کے چیئرمین رچرڈ گورڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو آنے والے طوفان کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔
’ہوا کے بعد بارش آتی ہے اور اس کے بعد پانی تو اس کا مطلب ہے کہ ابھی ہمیں سیلاب کا سامنا ہوگا۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈز نے دیکھا کہ 200 افراد کو سکول کی ایک عمارت میں پناہ لینا پڑی کیونکہ دریا میں پانی کی سطح کافی بلند ہو چکی تھی۔
سمندی طوفانوں کے موسم میں فلپائن کو ان کا سامنا رہتا ہے لیکن اس طوفان کی طاقت نے سنہ 2013 میں آنے والے ملکی تاریخ میں شدید ترین سمندر طوفان ہیان کی یاد تازہ کر دی جس میں سات ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم اب کی بار نقل مکانی اور بچاؤ کی کارروائیوں میں بہتری آنے کے سبب سکول بند کر دیے گئے، آمد و رفت معطل تھی اور فوج کو چوکس رکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
طوفان کا رخ اب کہاں ہے؟
یہ طوفان اب بھی طاقت ور ہے اور جنوبی چین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی ہواؤں کی رفتار 145 کلو میٹر فی گھنٹی ہے لیکن خدشہ ہے کہ یہ پھر سے طاقت ور ہو جائے گا اور سپر ٹائیفون بن جائے گا۔
وہاں مقامی حکام نے خطرے کی سطح کو بڑھا کر نو کر دیا ہے اور لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ وہ اڑتے ہوئے ملبے سے بچ سکیں۔
ہانگ کانگ میں زیادہ تر دکانیں اور عوامی سروسز معطل ہیں۔ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 500 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جس سے ایک لاکھ مسافر متاثر ہوں گے۔
یہ طوفان منگل تک کمزور پڑنے کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP









