سمندری طوفان :تقریباً 10 لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مورا نامی سمندری طوفان بنگلہ دیش کے جنوبی مشرقی ساحل سے ٹکرا گیا ہے جس کے نتیجے میں شدید بارش ہو رہی ہے اور ہوائیں چل رہی ہیں۔ طوفان سے قبل تقریباً دس لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
یہ طاقتور طوفان منگل کو کاکس بازار کی بندرگاہ اور چٹاگانگ شہر کے درمیان آیا۔ اس وقت ہوا کی رفتار 117 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
ملک کے جنوب مشرق میں واقع شہروں میں طوفان کے پیش نظر خطرے کی درجہ بندی بڑھا کر 'بہت خطرناک درجہ دس' کر دی گئی تھی۔
اس طوفان سے انڈیا اور میانمار کے چند علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ سمندری طوفان کچھ دن قبل سری لنکا میں تیز بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب کے بعد بنا، جس میں اب تک کم از کم 180 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سری لنکا میں گذشتہ 14 سالوں میں یہ سب سے بڑا سیلاب ہے جس کی وجہ سے ملک میں اب تک پانچ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور 100 سے زائد لاپتہ ہیں۔
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کے چٹاگانگ ضلع میں طوفان سے بچنے کے لیے لوگ 500 محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں جبکہ سکولوں اور سرکاری عمارات کو عارضی طور پر محفوظ مقامات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمہ موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مورا طوفان سے میدانی علاقے جیسے چٹا گانگ، کاکس بازار اور دوسرے ساحلی علاقے چار سے پانچ فٹ تک پانی میں ڈوب سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم خبررساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ طوفان نے روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
کمیونٹی لیڈر شمس عالم کے مطابق 10دو کیمپوں میں ہزار جھونپڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے حکومتی محکمے کے ترجمان ابو الھاشم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'ہماری پوری کوشش ہے کہ اس طوفان سے کوئی ہلاک نہ ہو اور ہم پوری جدوجہد کر رہے ہیں کہ دس لاکھ سے زائد لوگوں کو طوفان کے ٹکرانے سے پہلے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیں۔'
بی بی سی کے چارلس ہیویلینڈ نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں سمندری طوفان معمول کی بات ہے لیکن بیشتر عوام جن گھروں میں رہائش پزیر ہے وہ مکانات اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ طوفان کو سہہ سکیں۔
طوفان کے خدشے کے باعث ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے منع کر دیا گیا ہے اور ساحلی علاقوں میں چلنے والی کشتیوں نے بھی اپنے کاروبار کر عارضی طور پر روک دیا ہے۔
یاد رہے کہ اپریل کے مہینے میں بنگلہ دیش کے شمال مشرق میں آنے والے سیلاب کے سبب ملک بھر میں چاول کی فصلیں برباد ہو گئی تھیں اور اس کی وجہ سے قیمتوں میں ریکارڈ حد تک اضافہ ہو گیا تھا۔







