بنگلہ دیش، طوفان کے سبب ساحلی علاقوں میں ریڈ الرٹ

بنگلہ دیش میں طوفان مہاسین کے خطرے کے سب حکام نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کو علاقہ سے نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔
حکام نے چٹگانگ اور ساحلی کوکس بازار ضلع کے ترائی والے علاقوں میں خطرے کی سطح بڑھا کر دس میں سات کر دی ہے۔
طوفان خلیج بنگال سے ہوتا ہوا شمال مشرق کی طرف بڑھ رہا ہے جو جمعرات تک بنگلہ دیش کے علاقوں تک پھیلنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں دو میٹر تک اونچی لہریں اٹھ سکتی ہیں اور طوفان سے بچنے کے لیے لوگوں پناہ گاہیں تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اس دوران کوکس بازار اور چٹگانگ کے ایئر پورٹ کو بند کر دیا گيا ہے۔
انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ طوفان مہاسین پہلے سے تھوڑا کمزور پڑا ہے لیکن ادارہ نے اسے اب بھی '' زندگي کے لیے خطرے'' سے تعبیر کیا ہے۔
اس طوفان سے برما کے بعض علاقے بھی خطرے کی زد میں آسکتے ہیں اس لیے وہاں بھی انخلاء کا عمل شروع کیا گيا ہے۔
برما میں فسادات سے متاثّرہ دسیوں ہزار روہنجیا مسلمان برما کے انہیں ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں طوفان کے آنے کا خطرہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مسلمان فرقہ وارانہ فسادات کے سبب بے گھر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں آکر بسے ہیں جو اب خوف کے سبب دوبارہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جانا چاہتے۔
حیلا مونگ نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے فسادات میں ان کی ماں اور دونوجوان بیٹیاں ہلاک ہوگئیں۔
ان کا کہنا تھا ’میں ہر چیز ضائع کر چکا ہوں اس لیے اب اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ یہاں پر رہنے والے تمام لوگوں کی موت اسی آنے والے طوفان میں ہو جائے۔ میں کہیں بھی نہیں جانا چاہتا۔ میں یہیں رہنا چاہتا ہوں اور اگر موت آنی ہے تو یہیں آئے۔‘
ادھر اطلاعات ہیں کہ انخلاء کے عمل کے دوران برما میں ایک کشتی کے ڈوبنے سے پچاس سے زیادہ روہنجيا مسلم ہلاک ہوگئے۔
برما میں دو ہزار آٹھ میں آنے والے طوفان نرگس میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔







