سعودی عرب یمن میں بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرے گا

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY
سعودی عرب کی قیادت میں لڑنے والی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں ہونے والے اس فوجی حملے کی تحقیقات کروائے گی جس میں کم از کم 29 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔
ٹوئٹر پر سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن العربیہ نے ایک اعلیٰ عہدے دار کا بیان نشر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اتحادی فوج اس حملے سے ہونے والے نقصان کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اتحادی فوج نے یمن کے صوبے صعدہ میں دہیان کے مقام پر ایک بس پر حملہ کیا تھا۔ اس صوبے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔
اسی بارے میں
اتحادی فوج یمن کی حکومت کی پشت پناہی کرتی ہے جو حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے اقدامات جائز ہیں۔
تاہم اب العربیہ ٹی وی کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو سخت سزائیں دی جائیں گی اور متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا۔
حوثی باغیوں سے منسلک محکمۂ صحت نے کہا ہے کہ اس واقعے میں کل 51 افراد لوگ مارے گئے ہیں جن میں 40 بچے بھی شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ کے وزیرِ خارجہ الیسٹر برٹ نے کہا تھا کہ انھیں اس واقعے پر سخت تشویش ہے اور اس کی 'شفاف تحقیقات' ہونی چاہییں۔
حوثی باغیوں کے رہنما محمد علی الحوثی نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ بین الاقوامی تحقیقات سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قبائلی عمائدین نے بتایا کہ گذشتہ روز صعدہ میں ایک بس کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس میں مقامی شہری سفر کر رہے تھے اور اس پر کئی بچے بھی سوار تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خیراتی ادارے سیو دا چلڈرن کے مطابق یہ بچے ایک پکنک سے واپس آ رہے تھے اور حملے کے وقت بس رکی ہوئی تھی۔
یمن میں 2015 کے بعد سے جنگ جاری ہے۔ حوثی باغیوں نے ملک کے مشرقی حصے پر قبضہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے صدر عبد ربہ منصور ہادی ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔
اس کے بعد سعودی عرب، عرب امارات اور سات دوسرے عرب ملکوں کا اتحاد باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔
اس جنگ میں اب تک دس ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔










