یمن: علیحدگی پسندوں کا عدن کی سرکاری عمارتوں پر قبضہ

،تصویر کا ذریعہEPA
جنوبی یمن کے شہر عدن میں علیحدگی پسند جنگجوؤں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی افواج سے ان کی شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
اس دوران کم از کم دس افراد کے ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
وزیرِ اعظم احمد بن دغر نے علیحدگی پسندوں پر بغاوت شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اس وقت عدن ملک کے عارضی دارالحکومت کے فرائض سرانجام دے رہا ہے کیوں کہ حوثی باغیوں نے اصل دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر رکھا ہے۔
سرکاری فوج نے یمن کے عرب پڑوسیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حالات کو قابو میں کرنے میں مدد دیں۔
اس تازہ پیش رفت کی وجہ سے یمن کی پیچیدہ صورتِ حال مزید گمبھیر ہو گئی ہے جہاں دسیوں لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔
جھڑپیں اتوار کو اس وقت چھڑیں جب علیحدگی پسندوں کی جانب سے صدر ہادی کو دی ہوئی مہلت ختم ہو گئی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وزیرِ اعظم دغر اور ان کی کابینہ کو برطرف کیا جائے۔
وزیرِ اعظم دغر نے عرب امارات سے کہا ہے کہ صورتِ حال سے نمٹنے میں مدد کرے کیوں کہ ان جھڑپوں سے حوثی باغیوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ہادی نے، جو سعودی عرب میں مقیم ہیں، جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ ان کی حکومت نے سرکاری فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ بیرکوں میں واپس چلے جائیں۔








