سعودی عرب میں ڈرائیونگ کی اجازت کے بعد دو ہزار ’کپتانیہ‘ بھرتی
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو
اس وقت ریاض میں صبح کے 11 بج رہے تھے جب میرا رابطہ امل سے ہوا جو دو خواتین کو اپنی منزل پر پہنچا کر بی بی سی کو انٹرویو دینے کے لیے اپنے دفتر لوٹی تھیں۔
سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد امل نے بطور ٹیکسی ڈرائیور کام شروع کیا ہے۔
24 جون کو یعنی جس دن یہ پابندی اٹھی تبدیلی کا اہم دن قرار دیا گیا ہے اور امل کی نظر میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں عورتوں کے لیے آنے والی اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہتی تھیں۔
دو بچوں کی والدہ امل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گاڑی چلانا ان کا بچپن کا خواب تھا اور اب وہ دیگر خواتین کے لیے رول ماڈل بننا چاہتی ہیں۔
'میں نے جب اخبار میں ڈرائیور کی نوکری کے لیے اشتہار پڑھا تو مجھے اپنے بچپن میں دیکھی ہوئی ایک شامی فلم یاد آ گئی جس میں ایک عورت ٹیکسی چلاتی ہے۔ یہ ایک ایسی چیز تھی جو شاید میں برسوں سے کرنا چاہتی تھی۔
سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پچھلی تین دہائیوں سے ایک جرم سمجھی جاتی تھی۔ یہاں تین برس قبل ایک عورت کو 70 دن تک جیل میں اس لیے ڈالا گیا کیونکہ اس نے بطور علامت اور بطور احتجاج ڈرائیونگ کی اور جب ایک اور خاتون نے اسے بچانے کی درخواست کی تو اسے بھی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔
تاہم اب وہاں یہ سب بدل رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس پابندی کو ستمبر 2017 میں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور اب یہ عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مزید پڑھیے
یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی مگر نہ گاڑی مہنگی ہے اور نہ ہی پیٹرول۔
محرم کے بغیر بیرون ملک سفر تو ممنوع ہے لیکن چند برس پہلے ہی اندرون ملک سفر میں بھی محرم کے بغیر آنے جانے کی اجازت ملی ہے۔ اب حکومت کی جانب سے نہ صرف عورت کو اپنی روزمرہ کے کاموں کے لیے ڈرائیونگ کی اجازت ملی ہے بلکہ اب وہ اس کے ذریعے اپنا روزگار بھی کما سکتی ہے۔

کریم سروس میں جنرل مینجر ایاض الدالوج نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ جب سے ہم نے اشتہار دیا تب سے ہزاروں خواتین کی جانب سے درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ حکومت اب عورتوں کو مردوں کے برابر ڈرائیونگ کی اجازت دے چکی ہے اس لیے ہمیں خاتون ڈرائیورز کی بھرتیوں میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور اس وقت 2000 خواتین ڈرائیورز جنھیں 'کپتانیہ' کا نام دیا گیا ہے ریاض، جدہ اور دمام میں اپنے کام کا آغاز کر چکی ہیں۔
سعودی خواتین کو آج ملنے والی آزادی کے کتنے پراثر نتائج ہوں گے اس کا ادارک شاید کچھ وقت گزرنے کے بعد ہی حقیقی معنوں میں ہو سکے گا۔











