سعودی خواتین ڈرائیونگ سیٹ پر: ’ہم نے اس دن کا طویل انتظار کیا‘

ثمر المقرین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنثمر المقرین ریاض میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

’سعودی عرب میں آج ایک تاریخی دن ہے۔ یہ حقیقت بن چکی ہے۔ وہ چھ نومبر 1990 کا دن تھا جب ہم خواتین اور بچے خلیج کی جنگ کی وجہ سے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ کیونکہ مرد جنگ کے لیے جا چکے تھے۔ اس صورتحال میں ہم 47 عورتوں نے 15 گاڑیوں میں بیٹھ کر باہر جانے کا فیصلہ کیا صرف یہ بتانے کی کوشش کی کہ ڈرائیونگ ہماری ضرورت ہے۔ لیکن ہم کامیاب نہیں ہو سکے۔۔۔۔۔میں کبھی یہ نہیں سوچ سکتی تھی کہ میں گاڑی چلا سکوں گی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ سکوں گی۔ آپ سب کے لیے شاید گاڑی چلانا کچھ نہ ہو لیکن ہمارے لیے ہے۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے فوزیہ البکر جو کہ کنگ سعود یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی میں پڑھاتی ہیں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ اب سعودی عرب بدل رہا ہے اور تاریخ رقم ہو چکی ہے۔

سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق شب بارہ بج کر ایک منٹ پر یعنی کیلنڈر پر 24 جون کے آتے ہی خواتین پر کئی دہائیوں سے عائد پابندی ختم ہو گئی۔

ریاض اور جدہ سمیت مختلف شہروں میں سعودی خواتین اور نوجوان لڑکیوں نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیں اور خوشی کا اظہار کیا۔

بہت سے پیغامات میں ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ خواتین کی جانب سے وکٹری کے نشان بنائے گئے اور وہ مختلف گروپس میں یا اپنے والد یا شوہر کے ہمراہ بھی گاڑی چلاتی دکھائی دیں۔

لیکن اس پابندی کے ختم ہونے سے ایک ماہ قبل ہی ڈرائیونگ کا حق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والی سماجی کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ایمنیٹسی انٹرنیشنل کی مشرق وسطی میں ڈائریکٹر سماح حدید نے کہا ابھی تک باوجود کوششوں کے ان خواتین تک رسائی کی اجازت نہیں مل سکی۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت سعودی عرب میں خوف کی فضا ہے جہاں لوگ بولنے سے خوفزدہ ہیں۔ بہت سی کارکنان خاموشی کو ترجیح دے رہی ہیں۔۔۔۔ ہم ان خواتین کے بارے میں درست طور پر نہیں جانتے کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔ ہم حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کارکنان کو فوری طور پر بلا کسی شرط کے رہا کریں۔‘

بغیر قانون کے پابندی

سعودی ڈرائیونگ

،تصویر کا ذریعہTwitter

زیادہ پرانی نہیں یہ نومبر 2016 کی بات ہے جب سعودی شہزادے ولید بن طلال نے ٹوئٹر پر لکھا کہ 'بحث بند کیجیے، یہ وقت ہے کہ عورتیں ڈرائیونگ کریں۔'

مگر تب شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی معاشرہ ابھی عورت کی ڈرائیونگ کے لیے قائل نہیں ہو سکا۔

لیکن جون 2017 میں محمد بن سلمان کے ولی عہد کا عہدہ حاصل کرنے کے چند ہی ماہ بعد جو بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں ان میں سے ایک عورت کو اپنی گاڑی چلانے کا حق دینے کی اجازت بھی تھی۔

لیکن ایسا کیا تھا کہ وہاں عورت اپنے ہی گھر کے پورچ میں کھڑی گاڑی چلا نہیں سکتی تھی۔

ہم جب سعودی عرب کی بات کرتے ہیں تو وہاں کے سخت اسلامی قوانین کی بات کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر چوری کی تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ منشیات کی سمگلنگ کی تو سر قلم ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

یہاں یہ باعث حیرت ہے کہ اس ملک کے کسی قانون میں یہ کہیں نہیں لکھا گیا کہ عورت ڈرائیونگ نہیں کر سکتی لیکن پھر بھی دہائیوں تک عوامی مقامات پر کسی عورت کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ملی۔

فوزیہ البکر

،تصویر کا ذریعہfouzia_albaker

،تصویر کا کیپشنمیں سمجھتی ہوں کہ اب سعودی عرب بدل رہا ہے اور تاریخ رقم ہو چکی ہے: فوزیہ البکر
سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنالخبر شہر کی مکین ہنان سکندر پہلی بار ڈرائیونگ کرنے کے بعد والدین سے مبارکباد لیتے ہوئے

گرفتاریاں اور فتوے

یہ چھ نومبر سنہ 1990 کی بات ہے جب 47 خواتین کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انھوں نے ایک کارواں کی صورت میں ریاض کی سڑکوں پر اپنی اپنی گاڑیاں دوڑائیں۔ انھیں اپنے مرد سرپرست کی اس یقین دہانی پر چھوڑا گیا کہ وہ اب کبھی ڈرائیونگ نہیں کریں گی۔ بہت سی ایسی تھیں جنھیں بطور سزا نوکری چھوڑنی پڑی۔

یہ وہ وقت تھا جب سعودی عرب میں موجود امریکی اڈے میں رہنے والی خواتین ڈرائیونگ کرتی تھیں۔

سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنیہ پہلی بار ہے کہ سعودی خواتین کو پولیس گاڑی چلانے پر انھیں گرفتار نہیں کر رہی بلکہ ان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے

لیکن سعودی خواتین کی اس پہلی بغاوت کے بعد بھی ملک میں اس سے متعلق کوئی قانون نہیں لکھا گیا قانون تب بھی نہیں بنا کہ عورت گاڑی نہیں چلا سکتی نہ ہی اس کی کوئی سزا تھی لیکن یہ غیر اعلانیہ پابندی پالیسی کا حصہ بن گئی۔

اس وقت گرفتار ہونے والی ان خواتین میں فوزیہ البکر بھی شامل ہیں جنھوں نے سعودی خواتین کے نام پیغام میں انھیں مبارکباد کے ساتھ کہا کہ 'تمھارے پیچھے کوئی گارڈ یا تمھارے آگے کوئی ڈرائیور نہیں ہوگا۔'

یہ وہ عرصہ تھا جب ارامکو کمپنی کے کمپاؤنڈ اور کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی حدود میں ہی کوئی خاتون گاڑی چلا سکتی تھی۔

مزید پڑھیے

جب آنے والے کئی برس خاموشی سے گزر گئے کوئی عورت بیمار ہے، شوہر گھر سے باہر ہے یا کوئی بھی پریشانی ہے وہ سفر کرنے سے قاصر ہی رہی۔

21 سال بعد 19 مئی 2011 کو ارامکو کمپنی میں ملازمت کرنے والی منال الشریف نے اس پابندی کے خلاف احتجاج کیا اور خوبر کی ایک معروف شاہراہ پر چند منٹ ڈرائیونگ کی۔ جس کی سزا میں انھیں سات دن جیل میں گزارنے پڑے۔

لیکن سعودی حکام سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر منال اور اس کے ساتھ اپنے حق کے لیے اٹھنے والی آواز کو خاموش نہیں کر سکے۔

سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنسعودی حکام کے مطابق اب تک 2000 خواتین کو ڈرائیونگ لائسینس مل چکا ہے جبکہ اب بھی بہت سی خواتین لائسینس یا ڈرائیونگ کی تربیت کے حصول کے لیے اپنی باری کی منتظر ہیں

ڈرائیونگ کا حق حاصل کرنے کے لیے اکھٹے ہونے والی خواتین نے منال کے ساتھ ٹوئٹر پر شروع کی جانے والی مہم women2 drive کو جاری رکھا۔

17 جون کو جب ریاض، جدہ اور خوبر میں تین درجن کے لگ بھگ سعودی خواتین نے تقریباً ایک گھنٹے تک ڈرائیونگ کی۔ لیکن اس بار 1990 کی طرح ان سب کو گرفتار کر کے جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ کچھ کو ٹریفک پولیس نے نظر انداز کیا اور کچھ کو یہ کہہ کر جانے دیا کہ گھر جائیں اور اب ڈرائیونگ نہیں کرنی۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس وقت کچھ خواتین کو مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن انھیں دی جانے والی دس کوڑوں کی سزا کو معطل کر دیا گیا۔

یہ وہ عرصہ تھا جب مشرق وسطیٰ میں ’عرب بہار‘ جاری تھا یعنی مختلف ممالک میں بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ کے خلاف آواز اٹھ رہی تھی اور عوام بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس مہم کو چلانے والی منال شریف کو اپنے پانچ سالہ بیٹے کے بغیر ملک چھوڑ کر جانا بیرون ملک سکونت اختیار کرنا پڑی کیونکہ ملک بھر میں ان کے خلاف دیے جانے والے فتوں اور مبینہ طور پر چلنے والی میڈیا مہم کے بعد انھوں نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

لیکن منال کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

منال الشریف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمنال الشریف نے گذشتہ برس ’ڈیرنگ ٹو ڈرائیو‘ کتاب میں اپنی زندگی اور خاص طور پر ڈرائیونگ کا حق حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی کوشش کی تفصیل بیان کی

صرف منال ہی نہیں سعودی عرب کے اندر ایسی خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود رہی جس نے سوشل میڈیا پر اپنی مہم کو چلایا۔ چاہے وہ ڈرائیونگ کے لیے ہو، ووٹ کے حق کے لیے ہو، انتخابات میں حصہ لینے کے لیے یا میل گارڈیئن شپ کا معاملہ ہو۔

ایسا نہیں کہ ملک میں کوئی بھی مرد یا اعلیٰ شخصیت ایسی نہیں تھی جس نے اس پابندی کو بے جا نہیں کہا۔

سنہ 2013 میں شیخ عبدالطیف جو کہ سعودی عرب کی مذہبی پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں نے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی شریعت عورتوں کو ڈرائیونگ سے نہیں روکتی لیکن جواب میں سعودی عالم شیخ الوہائدن نے فتوی دے دیا کہ ڈرائیونگ کرنے سے عورت کی بیضہ دانی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

لیکن اگلے برس ہی ایک اور خاتون لجين هذلول الهذلول کو بھی ڈرائیونگ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور 70 دن تک پابند سلاسل کیا گیا۔

چار برس بعد یہ پابندی ختم کرنے کا اعلان ستمبر 2017 میں کیا گیا۔

پابندی ختم مگر مہم چلانے والی خواتین قید

سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہTwitter

ڈرائیونگ سکولز کھولے گئے اور لائسنس دیے جانے کا سلسلہ شروع ہوا لیکن 24 جون یعنی آج اس کے عملی طور پر پابندی ختم ہونے ایک ماہ پہلے لجين هذلول الهذلول، عزیزہ الا یوسف اور ایمان الا نجفان سمیت درجن بھر انسانی حقوق کے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان خواتین کو غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ روابط کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک بار پھر سعودی عرب کے اس رویے پر تنقید کر رہی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں سعودی عرب میں موجود کچھ سماجی کارکنان نے کہا کہ وہ آن ریکارڈ بات نہیں کر سکتیں کیونکہ انھیں ایسا کرنے میں اپنی نوکری جانے کا اور حکومت سے خطرہ ہے۔

سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں خواتین کو بیرون سفر، پاسپورٹ کے حصول، شادی حتی کہ موت کی سزا پانے کے بعد میت کی گھر منتقلی کے لیے بھی مرد سرپرست کی مدد اور اجازت کی ضرورت ہوتی ہے

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اب بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے ختم ہونے سے نالاں ہیں۔

سعودی عرب سے ہزاروں میل دور آسٹریلیا میں موجود منال عورتوں کو یہ حق ملنے پر خوش تو ہیں لیکن وہ قید میں موجود خواتین اور مردوں کی سرپرستی میں ہونے کو لازمی قرار دیے جانے کے حکم کے خلاف مہم شروع کر چکی ہیں۔

۔