سعودی عرب میں حکومت کو’خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے سے اربوں ڈالر بچت کی امید‘

سعودی

،تصویر کا ذریعہAFP

سعودی حکومت کی خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے شاہی فرمان کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ اس سے گاڑیاں بلانے والی ایپس کے لیے مشکلات ہوں گی لیکن ایک کمپنی کے مالک کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے خوش آئند ہے۔

حکومت کے فیصلے کا اطلاق اگلے سال جون سے ہو گا اور خیال ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی دشواریاں اس فیصلے کا اصل سبب ہیں۔

حکومت کے اس فیصلے سے لاکھوں خواتین گاڑیاں چلانے کے قابل ہو جائیں گی اور حکومت کو امید ہے کہ اس سے وہ اربوں ڈالر کی بچت کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

کچھ ماہرین کو خدشہ تھا کہ گاڑیاں بلانے والی ایپ 'کریم' اس فیصلے سے متاثر ہو گی کیونکہ اس کی بیشتر صارف خواتین ہیں لیکن کپمنی کا ارادہ ہے کہ وہ اس فیصلہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک لاکھ خواتین ڈرائیورز کو نوکری فراہم کر سکیں گے کیونکہ سعودی عرب جیسے ملک میں جہاں مرد اور عورت کا مخلوط ماحول میں اٹھنا بیٹھنا معیوب سمجھا جاتا ہے، وہاں کئی خواتین نامحرم مرد ڈرائیورز کے ساتھ سفر کرنے سے کتراتی ہیں۔

کریم کے شریک بانی اور چیف ایگزیکیٹو عبداللہ الیاس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'حکومت کے فیصلے کے بعد مجھے کئے لوگوں کے 'تعزیتی' پیغامات آئے لیکن مجھے اس میں صرف امید کی کرن نظر آرہی ہے۔'

سعودی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں اکثر خواتین نامحرم مرد ڈرائیورز کے ساتھ سفر کرنے سے کتراتی ہیں

'اس وقت بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ابھی ہماری سروس استعمال کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس خواتین ڈرایئورز نہیں ہیں۔ یہ صارفین کا ایک نیا طبقہ ہے اور اس سے ہمیں مزید نوکریاں فراہم کرنے کی امید ہے، اور توقع ہے کہ ہم مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو بڑھا سکیں گے۔'

ملک میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کا سہرا ملک کے 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک میں خود کو جدیدیت پسند کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ شاہی فرمان کے مطابق یہ حکم 24 جون 2018 تک ہر صورت میں نافذالعمل ہو جائے گا۔

اب تک سعودی عرب میں صرف مردوں کو ہی گاڑی چلانے کے لائسنس ملتے تھے اور جو خواتین عوامی مقامات پر گاڑی چلاتی تھیں انھیں گرفتاری اور جرمانے کا خطرہ رہتا تھا۔

سعودی عرب میں 1990 سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد ہے۔ یہ پابندی قانون کا حصّہ نہیں تھی تاہم معاشرتی اور تہذیبی طور پر سعودی عرب میں اس عمل کی اجازت نہیں ہے۔

کافی عرصے سے سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن خواتین کی ڈرائیونگ کی اجازت کے لیے سرگرم ہیں۔

کئی لگاتار مہمات کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا اب معاشرے کا چلن تبدیل ہو رہا ہے اور اب مردوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد اس پابندی کے خاتمے کے حق میں ہے۔