سعودی خواتین ڈرائیورز حادثات میں کمی لائیں گی: وزیر داخلہ

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف کا کہنا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ سے پابندی ختم کرنے سے گاڑیوں کے حادثات میں کمی آئے گی۔
انھوں نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں دیا لیکن اتنا کہا کہ 'گاڑی چلانے والی خواتین محفوظ ٹریفک کے قوانین کو تعلیمی مشق میں تبدیل کر دیں گی۔'
سعودی عرب دنیا کے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ٹریفک حادثات میں اموات کی شرح بد ترین ہے اور روزانہ تقریباً 20 افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔
خواتین پر ڈرائیونگ نہ کرنے کی پابندی اگلے سال جون میں ختم ہوگی۔ یہ اعلان سعودی عرب کے بادشاہ سلمان نے 27 ستمبر کو کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے وزیر داخلہ نے جمعرات کو ٹوئٹر پیغامات میں کہا 'گاڑی چلانے والی خواتین محفوظ ٹریفک کے قوانین اپنائیں گی اور معاشی نقصانات میں کمی آئے گی جو ٹریفک حادثات سے ہوتے ہیں۔'
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی سکیورٹی فورسز مردوں اور عورتوں پر ٹریفک کے قوانین ' لاگو کرنے کے لیے تیار' ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر داخلہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ خواتین کی ڈرائیونگ سے پابندی اٹھانے سے کس طرح خلیجی ریاست میں گاڑیوں کے حادثات میں کمی آئے گی۔
سعودی عرب میں غیر ملکی خواتین سمیت ایک کروڑ سے زیادہ بالغ خواتین موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہInpho
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی بڑھتی تعداد گاڑیوں کے حادثات کی کلیدی وجہ بنتی ہے۔ مثلاً، صرف امریکہ میں، سنہ 2014 سے سنہ 2016 کے درمیان میں گاڑیوں کی تعداد میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا لیکن اسی دوران سڑکوں پر اموات کی شرح میں 13.6 فیصد اضافہ ہوا۔
تاہم، سعودی عرب میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد کا ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کم و بیش آٹھ لاکھ ہوں گی اور اس طرح وہ غیر ملکی ڈرائیور جو سعودی خواتین کی گاڑی چلانے کے لیے بھرتی کیے گئے تھے، بظاہر ان کی نوکری خطرے میں پڑ جائے گی۔
خواتین پر گاڑی چلانے کی پابندی اٹھائے جانے کے فیصلے کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین اور عالمی برادری نے سراہا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم سحر ناصف نے اسے 'عظیم فتح' قرار دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ یہ 'درست سمت میں اہم قدم' ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان منضور الترکی کا کہنا ہے کہ 18 سال کی عمر سے زیادہ کی خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت ہوگی۔
تاہم، اس قانون پر اب بھی غور کیا جا رہا ہے جس کی رو سے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے اور ان تحفظات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ ٹریفک قوانین کے تناظر میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ سخت گرفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سعودی عرب کے شاہ سلمان کے اعلان کے بعد دنیا کے بڑے کارساز اداروں نے سعودی عرب میں براہ راست خواتین کے لیے اپنی گاڑیوں کی تشہیر شروع کر دی ہے۔
ایسے ادارے جو ٹوئٹر کے ذریعے اپنے اشتہارات چلا رہے ہیں ان میں واکس ویگن، فورڈ اور نسان شامل ہیں۔








