شمالی کوریا کا تنازع ہے کیا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا سے ٹکراؤ کا بحران اپنی بدترین حالت میں ہے جس کے بعد جوہری جنگ کا خطرہ ہے۔ امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت کا مطلب ہے کہ امن بھی ممکن ہے لیکن یہ معاملہ پیچیدہ ہے۔ چلیں ایک قدم پیچھے چلتے ہیں۔
شمالی کوریا جوہری ہتھیار چاہتا ہی کیوں ہے؟
جزیرہ نما کوریا دوسری جنگ عظیم کے بعد منقسم ہوا اور کمیونسٹوں پر مبنی شمالی حصہ سٹالنسکی اتھاریٹیریئن سسٹم میں ڈھل گیا۔
عالمی سطح پر تنہا ہو جانے والا یہ ملک کہتا ہے کہ جوہری ہتھیار اس کی واحد ڈھال ہیں جو اسے تباہ کرنے کے در پہ تلی دنیا سے بچا سکتے ہیں۔
کیا وہ جوہری حملہ کر سکتےہیں؟
شاید، لیکن امکان ہے کہ وہ ایسا نہ کریں۔
شمالی کوریا نے چھ جوہری تجربے کیے ہیں۔ جن میں سے ایک کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ ہائیڈروجن بم کا تجربہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے نے ایک اتنا چھوٹا جوہری بم بھی بنا لیا ہے جو دور تک مار کرنے والے میزائل پر نصب کر کے ہدف پر داغا جا سکتا ہے۔
اس کے پاس ایسے بیلسٹک میزائل بھی ہیں جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شمالی کوریا کے بڑے حریف امریکہ تک مار کر سکتے ہیں۔
اس کے ردِعمل میں اقوامِ متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین نے اس کے خلاف مزید کڑی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تو کم جونگ اُن کو ہی کیوں نہیں ہٹایا جا سکتا؟
شمالی کوریا کے میزائلوں کا ہدف جنوبی کوریا اور جاپان ہیں۔ شمالی کوریا کے خلاف کوئی بھی حملہ تباہ کن مزاحمت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے شمار کوریائی باشندے مارے جائیں گے۔
ایشیا کی سب سے بڑی طاقت چین خود اپنی حکومت کے گرنے کے خطرے کے بارے میں فکر مند ہے اور متحد کوریا اُن امریکی فوج کو براہ راست اس کی سرحد کے قریب لے آئیں گی جو فی الوقت جنوبی کوریا میں موجود ہیں۔
رویے میں بے مثال تبدیلی
ماضی میں شمالی کوریا کو غیر مسلح کرنے کی کوشش ناکام کوتی رہی ہیں۔
لیکن جنوری میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کیے اور جنوبی کوریا میں منعقدہ سرمائی اولمپکس میں حصہ لیا۔ جبکہ اپریل میں دونوں ممالک کے سربراہان نے تاریخی ملاقات کی۔
شمالی کوریا نے امریکہ کو بھی براہِ راست مذاکرات کی دعوت دی جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبول کیا۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا نے جوہری اور میزائل تجربات روکنے کا بھی اعلان کیا۔
دونوں کے درمیان یہ مذاکرات اگرچہ بے مثال ہوں گے تاہم اس کی تفیصلات، ایجنڈا اور وقت کے بارے میں کوئی مصدقہ اعلان نہیں کیا گیا۔














