’امریکی فوج شمالی کوریا سے نمٹنے کے لیے تیار ہے‘، ٹرمپ کا ایک اور دھمکی آمیز پیغام

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو ایک اور دھمکی آمیز پیغام میں کہا ہے کہ امریکی فوج شمالی کوریا سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’عسکری حل اب بالکل موجود ہے، 'لاکڈ اینڈ لوڈڈ'، کیا شمالی کوریا دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔ امید ہے کم جونگ ان کوئی اور راستہ اختیار کریں گے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ’جوہری جنگ کے دہانے پر پہنچانے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
حال ہی میں شمالی کوریا نے بحر الکاہل میں واقع امریکی اڈے گوام کو پانچ میزائلوں سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ امریکی ہوم سکیورٹی کی جانب سے جمعے کو اس جزیرے کے رہائشیوں کو میزائل حملے کے خطرے کے پیش نظر اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
بدھ کو شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا تھا کہ ’شمالی کوریا گوام کے پاس کے علاقوں کو حصار میں لینے والی آگ کے منصوبے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ماسکو نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان دھمکیوں کا تبادلہ ’ہمارے لیے پریشانی کا باعث ہے۔‘
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس عسکری تنازعے کو ’انتہائی شدید‘ نوعیت کا قرار دیا ہے اور انھوں نے اس کے حل کے لیے روس اور چین کے ایک مشترکہ منصوبے کو پیش کیا ہے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ پیانگ یانگ کو 'آگ اور غصے' کا سامنا کرنا پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکی امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس کی جانب سے تنازعے کے پرامن حل اور کشیدگی میں کمی کرنے کی کوششوں کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو ’اسے اس کی حکومت کے خاتمے اور عوام کی تباہی کی جانب لے جائیں۔‘
جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ’جنگ میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ گوام میں امریکہ کے جنگی بمبار طیارے تعینات ہیں اور حالیہ دنوں ان کے درمیان شدید قسم کی بیان بازیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔
گذشتہ دنوں اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو متفقہ طور پر تسلیم کیا تھا جس پر پیانگ یانگ نے اپنی ’خود مختاری کی متشدد خلاف ورزی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کو اس کی ’قیمت چکانے‘ کی دھمکی دی تھی۔











