ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا کو تنبیہ،’ہمیں مت آزمائیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کی پارلیمان سے خطاب کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو سخت الفاظ میں متنبہ کرتے ہوئِے کہا ہے کہ وہ انھیں آزمانے سے گریز کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بارے میں غلط اندازہ نہ لگائیں۔ ہمیں مت آزمائیں۔'
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں شمالی کوریا میں زندگی کے 'تاریک تصور' پر بھی تنقید کی۔
انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'جو ہتھیار آپ حاصل کر رہے ہیں وہ آپ کو محفوظ نہیں بنا رہے، وہ آپ کی حکومت کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔'
شمالی کوریا کے بارے میں یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی رہنما اپنے ایشیا کے دورے کے دوران دو روز کے لیے جنوبی کوریا میں قیام پذیر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ نے سیول کے قانون سازوں سے اپنے خطاب کا آغاز کوریا جنگ کے بعد سے اب تک جنوبی کوریا کی کامیابیوں کی تعریف سے کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا پر 'فوجی گروہ' نے حکومت کی جس کا 'خبطی عقیدہ تھا کہ رہنما کی قسمت ہے کہ وہ سب سے بڑے محافظ کے طور پر فتح کیے گئے جزیرہ نما کوریا اور غلام بنائے گئے لوگوں پر حکومت کرے۔'
انھوں نے پیانگ یانگ کو خبردار کیا کہ ہو سکتا ہے کہ اس نے ماضی میں درگزر کو امریکہ کی کمزوری سمجھا ہو لیکن اب ایک مختلف امریکی انتظامیہ ہے۔ انھوں نے کم جونگ اُن پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کے جوہری ہتھیاروں کو ترک کر دیں۔
امریکی صدر نے شمالی کوریا کے بانی کم اِل سونگ اور موجودہ رہنما کم جونگ اُن کے دادا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا 'شمالی کوریا وہ جنت نہیں ہے جس کا تصور آپ کے دادا نے کیا تھا۔ یہ ایک جہنم ہے جس کا کوئی شخص مستحق نہیں۔'
امریکی صدر نے چین اور روس کا نام لیتے ہوئے دیگر ممالک سے بھی کہا کہ وہ پیانگ یانگ پر جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا 'دنیا ایسی خطرناک حکومت کو برداشت نھیں کرے گی جو اسے جوہری تباہی کی دھمکی دیتی ہے۔ تمام ذمہ دار قوموں کو شمالی کوریا کی ظالم حکومت کو اکیلا کر دینے کے لیے یکجا ہو جانا چاہیے۔ اسے کسی بھی قسم کی مدد، اسے کسی بھی چیز کی فراہمی اور اس کی قبولیت سے انکار کر دینا چاہیے۔'
اس سے قبل بدھ کو صدر ٹرمپ کو خراب موسم کی وجہ سے شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان واقع اس علاقے کا دورہ منسوخ کرنا پڑا جہاں دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے نہیں ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ہیلی کاپٹر نے سیول میں واقع امریکی فوجی چھاؤنی سے اڑان بھری لیکن انھیں واپس لوٹنا پڑا۔
پانچ ایشیائی ممالک کے دورے کے دوران شمالی کوریا کے جوہری عزائم امریکی صدر کے ایجنڈے میں سرِفہرست رہے۔
انھوں نے اپنا دورہ جاپان سے شروع کیا جس کے بعد وہ جنوبی کوریا چلے گئے۔ بدھ کے روز انھیں چین جانا ہے جس کے بعد وہ رواں ہفتے ویتنام اور فلپائن کا دورہ بھی کریں گے۔










