امریکہ: فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ سے 17 ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ ریاست فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ میں ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔
فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت 19 سالہ نکولوس کروز کے نام سے ہوئی ہے جو ایک سکول کا سابق طالب ہیں اور انھیں سکول سے نکالا گیا تھا۔
قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مقامی چینل سی بی ایس کو بتایا کہ ملزم نے فائرنگ کرنے سے پہلے فائر الام بجایا جس سے افراتفری پیدا ہوئی۔
بروارڈ کاونٹی شیرف سکاٹ اسرائیل نے صحافیوں کو بتایا کہ نکلولوس کروز نے ایک رائفل استعمال کیا اور ان کے پاس ’لاتعداد میگزینز‘ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سکول کے باہر سے فائرنگ کرنا شروع کی جہاں تین افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد وہ عمارت میں داخل ہوئے اور مزید 12 افراد کو ہلاک کیا۔
مزید دو افراد کی ہلاکت ہسپتال میں ہوئی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس سے قبل پیش آنے والے ایسے واقعات!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقعے پر طالب علم کلاس رومز میں چھپے رہے جبکہ پولیس نے عمارت کو خالی کروایا۔
اس سے قبل سٹونمین ڈگلس ہائی سکول کے سپرینٹینڈینٹ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’اس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص ’ممکنہ طور پر سابق طالب ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ شخص اب زیرحراست ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
مقامی سکول پبلک سکول ڈسٹرکٹ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’آج، مرجرری سٹونمین ڈگلس ہائی سکول کے قریب طالب علموں اور عملے نے کچھ ایسی آوازیں سنی جو گولیاں چلنے جیسی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سکول کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب طالب علموں کو نکالا جارہا ہے۔ ہمیں ممکنا طور پر زخمی ہونے والوں کے بارے میں بھی اطلاعات ملی ہیں۔‘
سکول کا کہنا تھا کہ پولیس سکول کی ایک عمارت سے طالب علموں کو نکال رہی ہے۔
کئی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ فائرنگ شروع ہوتے ہی فائر الارم بھی بجنے شروع ہو گیا تھا۔
بحٖفاظت باہر آنے والے ایک طالب علم نے سی بی ایس چینل کو بتایا کہ طالب علم سمجھے کہ یہ کوئی مشق ہورہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج صبح ہی ایک مشق ہوئی تھی اور جب ہم نے گولیوں کی آواز سنی، کچھ طالب علموں نے سوچا کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں طالب علموں کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے اور مسلح پولیس کو سکول کی حدود میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ہیلی کاپٹر سے بنائی جانے والی ایک اور ویڈیو میں ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے ایک شخص کو پولیس کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا جاسکتا ہے۔
ایوری ٹاون فار گن سیفٹی کے مطابق بدھ کو ہونے والا حملہ رواں سال کسی سکول یا اس کے قریب ہونے والا 18واں واقعہ ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2013 سے اب تک امریکہ میں 291 ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔








