روس امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کو نشانہ بنائے گا: سی آئی اے

مائک پومپیو

،تصویر کا ذریعہRonald Grant

امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مائک پومپیو نے روس کے بارے میں امکان کا اظہار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کو ہدف بنائے گا۔

مائک پومپیو نے سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تاحال امریکہ اور یورپ کے معاملات میں مداخلت کی روسی کوششوں میں قابل ذکر کمی کا کوئی عندیہ نہیں ملا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ نے شمالی کوریا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مہینوں میں امریکہ کو جوہری ہتھیاروں کے ذریعے ہدف بنانے کی صلایت حاصل کر سکتا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

خیال رہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ روس نے امریکہ کے 2016 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

مائیک پومپیو نے بی بی سی کو بتایا کہ سی آئی اے دنیا کی بہترین خفیہ سروس ہے اور اس کے ساتھ کہا کہ’ہم وہاں جائیں گے تاکہ امریکی عوام کے واسطے خفیہ معلومات کو حاصل کریں گے اور میں چاہتا ہوں کہ ہم واپس فرنٹ فٹ پر آ جائیں۔‘

ایک برس سے سی آئی اے کی سربراہی کرنے والے مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ان کا مشن سی آئی کو کھلا چھوڑنا اور اس پر بوجھ کم کرنا ہے۔

’یہ ایک ایجنسی ہے جو ایک ایسی دنیا میں کام کر رہی ہے جس کے بارے میں پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی ہے جہاں خفیہ معلومات فوجی کارروائی کی بنیاد ہوتی ہیں جبکہ اس کے ساتھ سیاسی تنازع کی وجہ بھی ہوتی ہیں۔‘

اگرچہ روس اور امریکہ نے روسی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں دہشت گردی کی ایک کارروائی روکنے کے لیے روس کے ساتھ تعاون کیا تھا تاہم سی آئی اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ اب بھی روس کو بالخصوص حریف ہی تصور کرتے ہیں۔

انھوں نے یورپ کے کئی ممالک کے ان کے معاملات میں روسی مداخلت کے خدشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ’ میں نے اس کے سرگرمیوں میں قابل ذکر کمی نہی دیکھی ہے۔‘

امریکی کے نومبر میں منعقد ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر خدشات کے حوالے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ’ کیوں نہیں، مجھے ہر طرح سے توقع ہے کہ وہ( روس) اپنی کوشش جاری رکھیں گے اور یہ کریں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ امریکہ میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ یہاں شفاف اور منصفانہ انتخابات ہوں اور اس قابل ذکر حد تک استعداد کم کر سکیں کہ اس کا ہمارے انتخابات پر اثر زیادہ نہ ہو۔

ٹرمپ اور پوتن

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY

انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ روس کی مداخلت کو روکنے میں مصروف ہے۔ اس میں کچھ کام سی آئی اے کا نہیں ہے جیسا کہ لوگوں کی معلومات کے ذرائع کے مصدقہ ہونے کی تصدیق میں مدد دینا۔

لیکن خفیہ ایجنسیاں ان تخریبی سرگرمیوں کے پیچھے عناصر کو شناخت کرنے پر کام کر رہی ہیں جس میں تکنیکی ذرائع سے اس کو کچل دینا اور روس کو روکنے کو کوشش کرنا شامل ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار کہا تھا کہ انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں وہ حلف اٹھا کر سوالات کے جوابات دینے پر تیار ہیں۔

ان تحقیقات کرنے والے اس بات کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ کی انتخابی مہم میں روس کی ساز باز شامل تھی تاکہ انتخابات پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ اس الزام کی ٹرمپ اور روس دونوں تردید کرتے ہیں۔

کوریا کے ساتھ تنازع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خارجہ پالیسی کے حوالے سے بے تکلف زبان میں ٹویٹ کرنےکی پہلے کوئی مثال موجود نہیں جس میں خاص کر شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کو ’راکٹ مین‘ کہنا اور اس ساتھ اپنے جوہری بٹن کے سائز کا تذکرہ کرنا۔

تاہم سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو نے زور دیا کہ اس کے عوامی بیانات کے نتیجے میں موجودہ صورتحال میں پائے جانے والے خطرات کے حوالے سے شمالی کوریا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ جس طرح کی زبان صدر استعمال کرتے ہیں وہ کئی طرح کے لوگوں کے لیے ہوتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ کِم جونگ اُن اس پیغام کو سمجھتے ہیں کہ امریکہ سنجیدہ ہے۔

خیال رہے کہ چند دن پہلے بھی واشنگٹن میں امیریکن اینٹرپرائز انسٹیٹیوٹ میں بات کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ شمالی کوریا امریکہ کو خطرہ پہنچانے والی جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے اب چند ماہ کے فاصلے پر ہے۔ اور شمالی کوریا کے حکمران کم یونگ ان ایک کامیاب میزائل تجربے کے بعد مزید تجربات کرنا بند نہیں کریں گے۔