پوتن کا ٹرمپ کو شکریہ کا فون، سی آئی اے کی مدد سے روس میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام

صدر ٹرمپ اور صدر پوتن

،تصویر کا ذریعہEPA

امریکہ اور روس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر روسی سکیورٹی سروسز نے سینٹ پیٹرز برگ میں ایک حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

روس کے صدارتی دفتر اور وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمر پوتن نے ٹیلی فون کر کے اپنے امریکی ہم منصب صدر ٹرمپ کا معلومات فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر سنیچر کو سینٹ پیٹرز برگ کے كازان کیتھیڈرل (گرجا گھر) پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

امریکہ اور روس کے بارے میں مزید پڑھیے

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ دہشت گردوں کو حملے سے پہلے پکڑ لیا گیا‘، اور حملے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہو سکتی تھیں۔

روس کی سکیورٹی سروس ایف ایس بی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے ایک سیل کے سات ارکان کو حراست میں لیا ہے اور بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد، ہتھیار اور شدت پسندی پر مبنی تحریری مواد قبضے میں لیا ہے۔

ایف بی ایس کی جانب سے اتوار کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق اس سیل نے سنیچر کو ایک مذہبی مقام پر عام شہروں کو ہلاک کرنے کے لیے ایک خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

خیال رہے کہ اپریل میں سینٹ پیٹرزبرگ کی میٹرو میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر پوتن نے ٹیلی فون پر صدر ٹرمپ کو بتایا کہ روس کی سپیشل سروسز دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ امریکی ایجنسی سے کریں گی اور اس کے ساتھ امریکی صدر سے کہا کہ وہ ان کا شکریہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور ان معلومات میں مدد دینے والوں تک بھی پہنچا دیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے بات چیت میں اتفاق کیا کہ جب دونوں ممالک مل کر کام کریں تو حالیہ تعاون مثبت چیزوں کے برآمد ہونے کی ایک مثال ہے۔

كازان کیتھیڈرل

،تصویر کا ذریعہGETTY CREATIVE STOCK

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ گرجا گھر پر دہشت گردی کا منصوبہ بنایا گیا تھا

خیال رہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔ اس سے پہلے جمعرات کو دونوں نے شمالی کوریا کے معاملے پر بات چیت کی تھی جس میں صدر ٹرمپ نے سالانہ پریس کانفرنس میں امریکی کی مضبوط اقصادی ترقی کو تسلیم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات گذشتہ ماہ ویتنام میں ایشیا پیسیفک سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوئی تھی جس میں دونوں نے شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ماسکو سے تعلقات کے بارے میں مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں اور ان کے اہم سابق معاونین و مشیر کے خلاف سنہ 2016 کے انتخابات کے دوران روس کے ساتھ مبینہ تعاون کے سلسلے میں جانچ جاری ہے۔ روس امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔