پوتن مداخلت کے الزام پر ہتک محسوس کرتے ہیں: ٹرمپ

صدر ٹرمپ اور صدر پوتن

،تصویر کا ذریعہReuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات پر روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے ویت نام میں ایشیا پیسفک سربراہی اجلاس کے موقعے پر صدر پوتن سے مختصر ملاقات کے بعد کہا: 'آپ ایک خاص تعداد ہی میں سوال پوچھ سکتے ہیں۔۔۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے ہرگز ہمارے انتخابات میں مداخلت نہیں کی۔'

صدر پوتن نے بھی ان الزامات کو 'سیاسی رسہ کشی' قرار دیا۔

امریکی انٹیلی جنس ادارے پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ روس نے انتخابات کے دوران رائے عامہ کو ٹرمپ کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کی تھی۔

امریکی محکمۂ انصاف نے ٹرمپ کی ٹیم کی روس کے ساتھ سازباز کے الزامات کی تحقیقات کے لیے رابرٹ ملر کو خصوصی تفتیش کار مقرر کیا ہے۔ اب تک ٹرمپ کے کئی مشیروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں صدر پوتن ان الزامات پر اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں اور یہ امریکہ کے لیے 'اچھی چیز نہیں ہے۔'

'انھوں نے کہا ہے کہ مداخلت نہیں کی۔ میں نے دوبارہ پوچھا تھا۔'

صدر ٹرمپ بھی انتخابی مہم کے دوران روس کے ساتھ کسی قسم کی سازباز کا الزام مسترد کرتے رہے ہیں۔ ایک موقعے پر انھوں نے ٹویٹ کی تھی: 'کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر انتخابات کے نتائج مختلف آتے اور ہم روس/سی آئی اے کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتے۔ اسے سازشی نظریہ قرار دیا جاتا۔'