جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ اور ولادی میر پوتن کے درمیان دو خفیہ ملاقاتیں

،تصویر کا ذریعہReuters
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان جرمنی میں ہونے والے جی 20 کے سربراہی اجلاس کے موقع پر دو بار خفیہ ملاقات ہوئی تھی۔
دونوں صدور کے درمیان باضابطہ ملاقات کے بعد یہ غیر رسمی ملاقات ہوئی تاہم اس بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں کہ آیا انھوں نے اس دوران کیا بات چیت کی۔
وائٹ ہاؤں کے مطابق ’یہ ایک مختصر سی بات چیت تھی۔‘
خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پوتن کے درمیان تعلقات امریکی صدراتی انتخاب کے دوران مبینہ روسی مداخلت کے باعث شدید دباؤ میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی انٹیلی جنس اداروں کو لگتا ہے کہ روس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی گذشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخاب میں مدد کی تھی تاہم روس اور ڈونلڈ ٹرمپ ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔
جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر دونوں اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان رسمی ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی جس میں دیگر مسائل کے علاوہ امریکی انتخابات میں روس کی مبینہ دخل اندازی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
جبکہ دوسری ملاقات ہیمبرگ میں جی20 اجلاس کے دوران نجی کھانے پر ہوئی۔
اس موقع پر امریکی صدر تنہا تھے جبکہ صدر پوتن کے ہمراہ ان کے سرکاری مترجم تھے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔
ملاقات میں زیر بحث چیزوں کے بارے میں وائٹ ہاؤس کو خود صدر ٹرمپ نے ہی آگاہ کیا کیونکہ اس موقع پر وہاں کوئی دوسرا امریکی اہلکار موجود نہیں تھا۔








