شام میں دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے ٹرمپ اور پوتن کا مل کر کام کرنے پر اتفاق

صدر ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن نے ویت نام میں ملاقات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن نے شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سنیچر کو ویتنام میں ایشیا پیسیفک سربراہی کانفرنس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کی مختصر ملاقات کے بعد ماہرین نے ایک بیان تیار کیا ہے۔

اس بیان کے بارے میں امریکہ کی جانب سے تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

کریملن نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ ’شام کی جنگ کا فوجی حل نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کے درمیان ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (ایپک) کی سربراہی کانفرنس کے دوران بہت حد تک ملاقات متوقع تھی لیکن اس کے بارے میں ابھی تک تفصیل سامنے نہیں آ سکی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سربراہ کانفرنس کے موقعے پر دونوں صدور کی ایک مختصر ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر پوتن نے امریکی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے الزامات کو ہتک آمیز قرار دیا ہے۔

جمعے سے اب تک دونوں رہنما ویتنام کے ساحلی شہر دا نانگ میں تین بار آمنے سامنے آ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اس سے قبل ان کی ملاقات جولائی کے مہینے میں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی 20 کے سربراہی اجلاس کے دوران پہلی بار ہوئی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ماسکو سے تعلقات کے بارے میں مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں اور ان کے اہم سابق معاونین و مشیر کے خلاف سنہ 2016 کے انتخابات کے دوران روس کے ساتھ مبینہ تعاون کے سلسلے میں جانچ جاری ہے۔

صدر ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن جمعے کو ایک گروپ فوٹو میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آئے

روس اور امریکہ نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے اپنے عہد کی تصدیق کی اور تمام فریقین کو جنیوا امن پراسیس میں شرکت کی اپیل کی۔

روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق انھوں نے امریکہ اور روس کے درمیان موجود فوجی رابطے کو جاری رکھنے کا وعدہ کیا تاکہ ’دولت اسلامیہ سے برسر پیکار اتحادی فورسز کو پیش آنے والے کسی شدید حادثے سے بچایا جا سکے۔‘

خیال رہے کہ شام کی چھ سالہ جنگ کے دوران روس، شام کی حکومت کا اہم اتحادی رہا ہے جبکہ امریکہ شامی عرب اور کرد باغیوں کی حمایت کر رہا ہے اور سنہ 2014 کے بعد سے اس نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف اتحادیوں کی جانب سے فضائی حملے کی قیادت کی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران جہادی گروپ کو شام میں حزیمت کا سامنا رہا ہے۔ شامی فوج اور امریکہ کی قیادت والے کرد اور عرب اتحاد کے حملوں کے نتیجے میں اسے اس کے مضبوط اور اہم گڑھ سے نکلنا پڑا ہے۔

صدر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعے کو سربراہی کانفرنس کے لیے بنائی گئی مخصوص نیلی شرٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے سنیچر کو بات چیت کے لیے بیٹھنے سے پہلے ایک دوسرے سے مصافحہ بھی کیا اور بعد میں جب گروپ تصویر لی جا رہی تھی تو ایک دوسرے سے مختصر بات کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ویتنام میں جاری سربراہ کانفرنس کے موقعے پر دونوں صدور کی ایک مختصر ملاقات بھی ہوئی ہے جس کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر پوتن نے امریکی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے الزامات کو ہتک آمیز قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’آخر کوئی اس بارے میں کتنی مرتبہ پوچھ سکتا ہے ۔۔۔۔ اُن (صدر پوتن) کے بقول انھوں نے ہمارے انتخابات میں قطعاً مداخلت نہیں کی۔‘

ملاقات کے بعد صدر پوتن کا کہنا تھا کہ مداخلت کے الزامات بالکل ’بیہودہ‘ ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کا محکمۂ انصاف ابھی تک ان دعوؤں کی تفتیش کر رہا ہے کہ گذشتہ برس امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس نے مداخلت کی تھی اور اس حوالے سے اُس وقت کے کئی امریکی مشیروں اور معاونین کے نام لیے جا رہے ہیں۔

ion.