روس سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن پابندیاں ہٹانے کی بات قبل ازوقت: صدر ٹرمپ

پوتن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے روس پر مزید پابندیاں عائد کی گئی تھیں

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس وقت روس پر عائد پابندیوں کو ہٹانے پر بات کرنا' قبل ازوقت' ہے۔

وائٹ ہاؤس اور کریملن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے سنیچر کو ٹیلی فون پر بات چیت کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکہ کے صدر کے طور پر حلف برداری کے بعد روسی صدر سے ان کا ٹیلی فون پر یہ پہلا رابطہ ہوگا جس میں یہ دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات اور سکیورٹی پر بات چیت کریں گے۔

صدر ٹرمپ روس پر عائد کچھ امریکی پابندیوں کو ہٹانے کا اشارہ دے چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ اعلیٰ تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کے خلاف امریکی پابندیوں کو ہٹا دیں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں کو ہٹانے پر بات کرنا' قبل ازوقت' ہے۔

امریکی دورے پر آئی برطانیہ کی وزیراعظم ٹریزامے سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ' ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے،مثالی طور پر ہم تمام ممالک کے ساتھ اعلیٰ تعلقات قائم کرنے کو دیکھیں، ضروری نہیں ایسا ہو گا، بدقسمتی سے اور غالباً زیادہ ممالک سے نہیں ہوں گے۔

اس موقع پر برطانوی وزیراعظم ٹریزامے نے کہا ہے کہ برطانیہ بہت واضح ہے کہ پابندیوں کو برقرار رہنا چاہیے جب تک منسک معاہدے کے تحت روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔

وزیراعظم ٹریزامے نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ سو فیصد نیٹو کے ساتھ ہیں جبکہ دونوں ممالک تجارت کے معاہدوں کے لیے بات چیت شروع کریں گے۔

اس کے علاوہ وزیراعظم نے ملکہ برطانیہ کی جانب سے صدر ٹرمپ کو برطانیہ کے دورے کی دعوت دی۔

اس سے پہلے روسی صدر کے دفتر کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے دونوں صدور کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی تصدیق کی ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ یہ غیر معمولی ہوگا کہ اس کے نتیجے میں کوئی خاص معاہدہ طے پائے۔

مگر صدر ٹرمپ کی مشیر کلیلایانے کونوے نے جمعے کو فوکس نیوز کو بتایا کہ روس سے پابندیاں ہٹانا زیرِ غور ہے۔

انھوں نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک کی دلچسپی کے امور پر بات کریں گے، کیسے اکھٹا ہوا جائے، اکھٹے کام کیا جائے ان امور پر جہاں دونوں میں یکسانیت پر پہنچیں، اور جہاں یہ دونوں قومیں شاید انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کو شکست دے سکیں۔‘

یاد رہے کہ امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے گذشتہ ماہ 35 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا تھا۔ جس کی وجہ ماسکو کی جانب سے امریکی صدارتی انتخاب میں سائبر حملوں میں ملوث ہونا بتائی گئی تھی۔

پوتن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ روس پر عائد کچھ امریکی پابندیوں کو ہٹانے کا اشارہ دے چکے ہیں

تاہم روس ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا آرہا ہے کہ اس کی جانب سے امریکی انتخاب میں ہیکنگ کے لیے تعاون کیا گیا تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ماسکو پر صدر اوباما کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو نرم کریں گے۔

یاد رہے کہ سنہ 2014 میں امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے روس پر مزید پابندیاں عائد کی گئی تھیں جس کی وجہ کرائمیا میں علیحدگی پسندوں کی مدد تھی۔

گذشتہ ماہ ہی یورپی یونین نے روس پر کرائمیا میں جارحیت جاری رکھنے کے باعث پہلے عائد پابندیوں کو 31 جولائی تک بڑھا دیا تھا۔