انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں آتش فشاں کے راکھ اور دھواں اگلنے کے بعد ’سرخ وارننگ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈونیشیا نے بالی میں ایک آتش فشاں سے راکھ اور بھاپ نکلنے کے بعد اس کے گرد پروازوں کے حوالے سے شہری ہوا بازی کی انتہائی وارننگ جاری کی ہے۔
یہ 'سرخ وارننگ' اس ہفتے آتش فشاں سے دوسری مرتبہ راکھ اور دھواں نکلنے کے بعد جاری کی گئی۔
مزید پڑھیے
ماؤنٹ آگنگ سے نکلنے والا دھواں چار ہزار میٹر تک اوپر اٹھا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ آتش فشاں پھٹنے والا ہے۔ آخری مرتبہ یہ 1963 میں پھٹا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً 1600 افراد ہلاک ہوئے تھے اور کئی گاؤں تباہ ہو گئے تھے۔
انتظامیہ نے پہاڑ کے آٹھ کلو میٹر کے دائرے میں رہنے والے افراد کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر علاقہ خالی کر دیں۔ کئی دیگر افراد کو ماسک دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ راکھ سے محفوظ رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈونیشیا کی والکینولوجی اینڈ جیولوجیکل ڈیزاسٹر مِٹیگیشن ایجنسی کے سربراہ گیڈے سوانتیکا کہتے ہیں: 'ماؤنٹ آگنگ کی ہلچل اب پھٹنے کی سطح تک پہنچ چکی ہے، اگرچہ یہ ابھی بھی راکھ ہی نکال رہا ہے۔ لیکن ضرورت ہے کہ ہم اس کی نگرانی کرتے رہیں اور اس کے ممکنہ سخت اور دھماکے دار طریقے سے پھٹنے کے حوالے سے محتاط رہیں۔‘
بالی انڈونیشیا کا ایک اہم ترین سیاحتی مقام ہے۔ تاہم اس کے دو اہم مراکز کوتا اور سیمنیاک آتش فشاں پہاڑ سے 70 کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔
جزیرے کا مرکزی ایئرپورٹ پوری طرح کام کر رہا ہے لیکن کچھ فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ آتش فشاں کی راکھ طیاروں کے انجن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
علاقے کی طرف آنے جانے والے مسافروں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے متعلق جاننے کے لیے اپنی فضائی کمپنی یا ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کریں۔










