دنیا کا سب سے بڑا قدرتی پریشر ککر

ابشرا جزیرہ نما

،تصویر کا ذریعہKIT YENG CHAN

،تصویر کا کیپشنیہ علاقہ وسطی ایشیائی ملک آذربائیجان کے ابشرا جزیرہ نما کا ہے

آج آپ کو لے چلتے ہیں دنیا کے سب سے بڑے پریشر ککر کی سیر پر۔

آپ حیرت زدہ نہ ہوں۔ یہ پریشر ککر کوئی عام پریشر ککر نہیں بلکہ یہ تو قدرتی ہے اور ایک بڑے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔

یہ علاقہ وسطی ایشیائی ملک آذربائیجان کے ابشرا جزیرہ نما کا ہے۔

ابشرا جزیرہ نما، دنیا کی سب سے بڑی جھیل کہی جانے والی بحیرہ کیسپیئن سے لگا ہوا ہے۔ اسی میں آذربائیجان کے دارالحکومت اور وسطی ایشیا کا خوبصورت شہر باکو بھی واقع ہے۔

تندور روٹی

،تصویر کا ذریعہKIT YENG CHAN

،تصویر کا کیپشنکسی بھی ریستوراں میں تندور سے تازی تازی پکنے والی روٹیوں کی سوندھی خوشبو آتی رہتی ہے

باکو کے اچیری علاقے میں طرح طرح کے ریستوران ہیں۔ یہاں روز شام کے وقت گھر سے باہر کھانے کا کلچر ہے۔ عام طور پر لوگ بکری کے گوشت کے کباب کے ساتھ نان کھاتے ہیں۔

کسی بھی ریستوران میں تندور سے تازی تازی پکنے والی روٹیوں کی سوندھی خوشبو آتی رہتی ہے۔

لیکن باکو شہر یا ابشرا جزیرہ نما کی یہ کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اس بات سے بے خوف ہیں کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے پریشر ککر کہے جانے والے علاقے کے باشندے ہیں۔

یہاں کبھی بھی زمین کے اندر سے چنگاری پھوٹ نکلتی ہے۔ کیچڑ کے آتش فشاں پھٹ جاتے ہیں۔

ابشرا جزیرہ نما

،تصویر کا ذریعہKIT YENG CHAN

،تصویر کا کیپشنابشرا جزیرہ نما میں زمین کے نیچے بڑی تعداد میں قدرتی گیس کے ذخائر ہیں

ابشرا جزیرہ نما میں زمین کے نیچے بڑی تعداد میں قدرتی گیس کے ذخائر ہیں۔ جب میتھین گیس کا دباؤ بڑھ جاتا ہے تو وہ کہیں بھی زمین کی ملائم سطح سے باہر آنے لگتی ہے، تیز رفتار سے گیس یوں زمین سے نکلتی ہے جیسے مٹی کا کوئی آتش فشاں پھٹ گیا ہو۔

آذربائیجان میں 400 سے بھی زیادہ مٹی کے آتش فشاں ہیں۔ دنیا کے کل تقریبا ایک ہزار ایسے آتش فشانوں میں سے سب سے زیادہ یہاںپر پائے جاتے ہیں۔

آگ

،تصویر کا ذریعہKIT YENG CHAN

،تصویر کا کیپشنآج سے 70 برس قبل کسی نے پہاڑی پر سگریٹ پھینک دی تھی۔ اس کے بعد سے لگنے والی آگ یہاں آج تک جل رہی ہے

اس علاقے میں اکثر ایسے دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عام طور پر تو خطرناک نہیں ہوتے ہیں لیکن کئی بار خوفناک مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

سنہ 2001 میں باکو سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر لوکبطن نامی آتش فشاں میں اتنا زبردست دھماکہ ہوا تھا کہ آسمان میں سینکڑوں میٹر بلند چنگاریاں دیکھی گئی تھیں۔ وہاں کی فضا مکمل طور پر کیچڑ اور دھوئیں سے بھر گئی تھی۔ ایک دھماکہ 6 فروری 2017 کو بھی ہوا تھا۔

گوبستاں راک آرٹ کلچرل لینڈ سکیپ

،تصویر کا ذریعہKIT YENG CHAN

،تصویر کا کیپشنباکو سے تقریبا 64 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع 'گوبستاں راک آرٹ کلچرل لینڈ سکیپ ہے

پورے علاقے کا یہی حال ہے۔ کبھی بھی، کہیں بھی گیس کے نکلنے سے دھماکہ ہوسکتا ہے۔ آگ لگ سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی اس علاقے میں ہزاروں سال سے لوگ آباد ہیں۔

باکو سے تقریبا 64 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع 'گوبستاں راک آرٹ کلچرل لینڈ سکیپ' اس کی ایک مثال ہے۔

پارسیوں کی نشانی

،تصویر کا ذریعہKIT YENG CHAN

،تصویر کا کیپشنآج سے تقریبا دو ہزار سال پہلے اسی سر زمین پر پارسی مذہب پروان چڑھا تھا

یہ یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ یہاں آپ پتھروں پر کنندہ پینٹنگ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پانچ سے 40 ہزار سال تک کی پرانی ہیں۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ تمام طرح کے خطرات کے باوجود یہاں ہزاروں سال سے انسان آباد ہیں۔

آج سے تقریباًدو ہزار سال پہلے اسی سر زمین پر پارسی مذہب پروان چڑھا تھا۔ پارسی آگ کو خدا کی علامت سمجھتے ہیں۔

آذر بائیجان

،تصویر کا ذریعہKIT YENG CHAN

وہ سمجھتے ہیں کہ آگ سب سے زیادہ مقدس چیز ہے۔ اس علاقے میں اس دور میں بھی خود بہ خود زمین میں آگ لگ جایا کرتی تھی۔ اسی قدرتی عمل نے دنیا کے پہلے توحیدی مذہب کو پھیلنے کی جگہ مہیا کرائی۔

آذربائیجان کو اپنا نام بھی اسی وجہ سے ملا ہے۔ آذر کا مطلب آگ ہوتا ہے۔ یہاں کا مشہور آتش گاه مندر اس بات کی ایک مثال ہے۔

اس دور میں ابشرا جزیرہ نما آگ لگنے اور مٹی کے آتش فشانوں کی اپنی قدرتی خوبیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ دور دور سے سیاح انھیں دیکھنے آتے ہیں۔

آج سے 70 برس قبل کسی نے پہاڑی پر سگریٹ پھینک دی تھی۔ اس کے بعد سے لگنے والی آگ یہاں آج تک جل رہی ہے۔ تقریبا دس مربع میٹر کے دائرے میں یہاں ہمیشہ آگ لگی رہتی ہے۔

آذر بائیجان

،تصویر کا ذریعہKIT YENG CHAN

اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے آذربائیجان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ قدرتی گیس اور تیل کے ذخائر یہاں پر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں 1846 سے خام تیل نکالا جا رہا ہے جو کافی خطرناک بھی ہے۔

لیکن مقامی لوگ مانتے ہیں کہ جب تک وہ کیچڑ والے آتش فشاں سے دور آباد ہیں، اس وقت تک انہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

تیل اور گیس کی برآمد سے ملنے والی رقم سے آذربائیجان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ آج باکو شہر قدیم تہذیب اور جدیدیت کے میل کی ایک مثال ہے۔ شہر میں بنے آگ کے ٹاور، جو شعلوں کی طرح نظر آتے ہیں، جدیدیت کی مثال ہیں۔ جبکہ اسی کے آس پاس واقع پرانی عمارتیں آذربائیجان کی قدیم ثقافت اور روایت کی گواہی دیتی ہیں۔