نمرود شہر سو فیصد تباہ ہو چکا ہے: ملیشیا کمانڈر

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمقامی ملیشیا کمانڈر کا کہنا ہے کہ شہر مکمل تباہ ہو چکا ہے

عراقی شہر قدیم نمرود کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے چھڑانے کے دو روز بعد وہاں ہونے والے نقصانات اب ظاہر ہونے لگے ہیں۔

نمرود شہر کا زیادہ تر علاقہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے، مجسمے ٹوٹے ہوئے ہیں اور زقورۃ نامی قدیم عمارت کا انتہائی مختصر حصہ ہی باقی رہ گیا ہے۔

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننمرود شہر 3300 سال قبل قائم کیا گیا تھا

گذشتہ سال دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے شدت پسند تنظیم کے جنگجو یادگاروں اور آثار قدیمہ کو تباہ کرتے رہے ہیں۔

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو نے آثارِ قدیمہ کی اس تباہی کو جنگی جرائم قرار دیا تھا

عراقی شہر موصل کو واپس حاصل کرنے کے لیے حکومتی فورسز کی جانب سے جاری شدید جدوجہد کے ہی نتیجے میں نمرود کو دولت اسلامیہ سے چھڑایا گیا ہے۔

حکومتی فوج کے نینوا آپریشن میں شریک ایک اعلیٰ ذرائع نے بتایا ہے کہ منگل کے روز شہر کے گرد زبردست پیش قدمی کی گئی ہے۔

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافی نے پرانی تصاویر کے ساتھ نمرود کی اب کی حالت کا موازنہ کیا

البو سیف نامی قصبے کے ارد گرد ایلیٹ ریپڈ رسپانس ڈویژن نے گھیرا تنگ کیا ہے جبکہ موصل کے ہوائی اڈے پر جنگی طیاروں نے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس تصویر میں زقورۃ نامی قدیم عمارت کے باقیات کو دیکھا جا سکتا ہے جو کبھی قدیم دنیا کی سب سے اونچی عمارت تھی

نمرود شہر موصل کے جنوب میں 32 کلومیٹر دور واقع ہے، اور اسے تقریباً 3300 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے کلھو کے نام سے جانا جانے لگا اور اسیرئین دور میں یہ دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔

دولت اسلامیہ نے نمرود پر جون 2014 میں قبضہ کیا تھا جس کے فوراً بعد انھوں نے عراقی فوج کو موصل سے نکال کر وہاں بھی قبضہ کر لیا تھا۔

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال دولت اسلامیہ نے ویڈیوز جاری کی تھیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ کیسے انھوں نے نمرود کو تباہ کیا

مارچ 2015 میں عراقی وزارت سیاحت نے کہا تھا کہ جنگجوؤں نے بلڈوزر اور بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے تاریخی مقامات کو مسمار کر دیا تھا۔

منگل کے روز دو سال بعد اس علاقے کا پہلی مرتبہ دورہ کرنے والے حکومت حامی قبائلی ملیشیا کے کمانڈر علی البیاتی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب آپ یہاں پہلے آتے تھے تو یہاں زندگی کا احساس ہوتا تھا لیکن اب یہاں کچھ نہیں ہے۔‘

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجگہ جگہ ملبے کے ڈھیر ہیں اور قدیم مجسمے ٹوٹے پڑے ہیں

علی البیاتی نے مزید بتایا کہ ’سو فیصد تباہ ہو چکا ہے، نمرود کو کھونا میرے لیے اپنے گھر کو کھونے سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔‘

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندولت سلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں نمرود کی تباہی کہ مناظر

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو نے آثارِ قدیمہ کی اس تباہی کو جنگی جرائم قرار دیا تھا۔