’عراقی فوج موصل میں گھر گھر لڑائی کے لیے تیار‘

،تصویر کا ذریعہAFP
موصل سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے پیش قدمی کرنے والی عراقی افواج مرکزی محاذ پر بغیر کسی جانی نقصان کے دشمن کی ابتدائی صفیں عبور کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
عراقی فوج کے ترجمان صباح النعمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی میں دولت اسلامیہ نے بہت سارے جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ عراقی فوج کو جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا ہے۔
دو برس قبل موصل پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد پہلی بار وہاں داخل ہونے والی عراقی افواج کا کہنا ہے کہ شہر کی مکمل آزادی تک ان کی پیش قدمی جاری رہے گی۔
صباح النعمان کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج شہر کی گلیوں میں گھر گھر لڑائی کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منگل کو شدید جھڑپوں کے دوران جس میں موصل کے مشرقی کنارے پر دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے سرکاری ٹی وی کی عمارت کا قبضہ چھڑوایا گیا، عراقی افواج کو کسی جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
سنہ 2014 میں موصل پر دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد منگل کو پہلی مرتبہ حکومتی فوجیں شہر کے مضافات میں داخل ہوئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
بدھ کو موصل میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کا 17واں روز ہے، جس میں کردش پیشمرگاہ اور سنی عرب قبائلیوں سمیت 50 ہزار جوان شامل ہیں۔
منگل کو عراقی فوج کے ایلیٹ کمانڈوز نے شہر کے مشرقی حصے پر حملہ کر کے کوکجلی میں واقع سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت پر قبضہ کر لیا تھا اور بعدازاں کراما ضلع کے مضافاتی علاقوں کی جانب پیش قدمی کی تھی۔
دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں شریک افواج کے ہمراہ موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراقی افواج کو موصل میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
تاہم انسدادِ دہشت گردی سروس کے ترجمان صباح النعمان کا کہنا ہے کہ 'ہم نے موصل کے مرکزی حصے میں دشمن کی صفوں کو توڑ دیا ہے۔ ہم نے ایک انتہائی اہم علاقہ چھڑوایا ہے جو مشرق سے موصل میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔'
'ہم نے اس علاقے میں دولت اسلامیہ کے ساتھ سخت لڑائی لڑی ہے اور ہم جلد اسے آزاد کروا سکتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی جانی نقصان کے، دولت اسلامیہ کے بہت سارے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ۔'
اقوامِ متحدہ نے ایک مرتبہ پھر موصل میں پھنسے ہوئے دس لاکھ شہریوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔

موصل سے 70 کلومیٹر دور واقع قصبے دوہک سے کام کرنے والی نارویجن ریفیوجی کونسل کی الولڈ سٹروم کا کہنا ہے کہ موصل سے نقل مکانی کرنے والے افراد وہاں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں خدشہ ہے کہ انھیں شہر سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے نہیں دیے جا رہے۔ ہم یہاں ایسے افراد کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں اور اس کے لیے کیمپ بنا دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ عراق میں موصل دولت اسلامیہ کا آخری اہم گڑھ ہے۔
عراقی فوج کے مطابق فوجیں جنوب مشرقی علاقے جدیدتالمفتی میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔ اس کارروائی میں امریکہ کی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد کی زمینی اور فضائی مدد بھی حاصل ہے۔
موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور گذشتہ ہفتے عراقی توپ خانوں نے موصل پر گولہ باری کا آغاز کیا۔
اس کے ساتھ ہی اس جنگ کا آغاز ہوگیا جبکہ اس کارروائی کے آغاز پر اقوامِ متحدہ نے شہر میں محصور 15 لاکھ افراد کے تحفظ کے حوالے سے 'شدید خدشات' کا اظہار کیا تھا۔








