نمرود شہر سو فیصد تباہ ہو چکا ہے: ملیشیا کمانڈر

عراقی شہر قدیم نمرود کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے چھڑانے کے دو روز بعد وہاں ہونے والے نقصانات اب ظاہر ہونے لگے ہیں۔

نمرود شہر کا زیادہ تر علاقہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے، مجسمے ٹوٹے ہوئے ہیں اور زقورۃ نامی قدیم عمارت کا انتہائی مختصر حصہ ہی باقی رہ گیا ہے۔

گذشتہ سال دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے شدت پسند تنظیم کے جنگجو یادگاروں اور آثار قدیمہ کو تباہ کرتے رہے ہیں۔

عراقی شہر موصل کو واپس حاصل کرنے کے لیے حکومتی فورسز کی جانب سے جاری شدید جدوجہد کے ہی نتیجے میں نمرود کو دولت اسلامیہ سے چھڑایا گیا ہے۔

حکومتی فوج کے نینوا آپریشن میں شریک ایک اعلیٰ ذرائع نے بتایا ہے کہ منگل کے روز شہر کے گرد زبردست پیش قدمی کی گئی ہے۔

البو سیف نامی قصبے کے ارد گرد ایلیٹ ریپڈ رسپانس ڈویژن نے گھیرا تنگ کیا ہے جبکہ موصل کے ہوائی اڈے پر جنگی طیاروں نے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

نمرود شہر موصل کے جنوب میں 32 کلومیٹر دور واقع ہے، اور اسے تقریباً 3300 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے کلھو کے نام سے جانا جانے لگا اور اسیرئین دور میں یہ دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔

دولت اسلامیہ نے نمرود پر جون 2014 میں قبضہ کیا تھا جس کے فوراً بعد انھوں نے عراقی فوج کو موصل سے نکال کر وہاں بھی قبضہ کر لیا تھا۔

مارچ 2015 میں عراقی وزارت سیاحت نے کہا تھا کہ جنگجوؤں نے بلڈوزر اور بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے تاریخی مقامات کو مسمار کر دیا تھا۔

منگل کے روز دو سال بعد اس علاقے کا پہلی مرتبہ دورہ کرنے والے حکومت حامی قبائلی ملیشیا کے کمانڈر علی البیاتی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب آپ یہاں پہلے آتے تھے تو یہاں زندگی کا احساس ہوتا تھا لیکن اب یہاں کچھ نہیں ہے۔‘

علی البیاتی نے مزید بتایا کہ ’سو فیصد تباہ ہو چکا ہے، نمرود کو کھونا میرے لیے اپنے گھر کو کھونے سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔‘

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو نے آثارِ قدیمہ کی اس تباہی کو جنگی جرائم قرار دیا تھا۔