عمران خان کی شفا ہسپتال منتقلی کا حکم: وفاقی وزیر کا سپریم کورٹ سے ’ابہام‘ دور کرنے کے لیے رجوع کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان کے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان صاحب کے بارے میں ان کی صحت کے حوالے سے جو حکم نامہ جاری کیا ہے ’اس کے کچھ نکات جو جیل حکام اور اسلام آباد انتظامیہ سے متعلق ہیں (کہ ان کا دو روز میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے طبی معائنہ کروایا جائے)، اس پر مشاورت ہوئی ہے اور قانون کا جائزہ لینے کے بعد حکام کا یہ خیال ہے کہ یہ حکم ان قانونی حدود کے اندر نہیں ہے جن کے تحت کسی بھی سزا یافتہ شخص کو جیل میں سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔‘
یاد رہے گذشتہ روز پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت عظمی نے واضح کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے اہلِ خانہ یہ یقینی بنائیں گے کہ شفا ہسپتال کے احاطے میں کوئی عوامی اجتماع نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے یقین دہانی کروائی تھی کہ عدالتِ عظمیٰ کے اِس فیصلے پر ’من و عن‘ عمل کیا جائے گا۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ شفا ہسپتال کے اِردگرد جمع ہونے سے گریز کریں۔
گذشتہ رات جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان (حکام) کی تجویز تھی کہ نظرِ ثانی کی درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے اور اس حکم میں مناسب ترمیم کی درخواست کی جائے تاکہ کسی سرکاری ہسپتال میں ان کا معائنہ کرایا جائے۔
وفاقی وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ’طبی ماہرین کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے، چاہے وہ شفا انٹرنیشنل سے ہوں یا کسی اور بڑے ادارے سے ہوں۔ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ اگر اس طرح کے طبی معائنے کے لیے قیدیوں کو نجی ہسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے تو پورے پاکستان کی جیلوں کی آبادی میں ہزاروں قیدی ہیں، جنھیں مختلف پیچیدگیاں اور بیماریاں بھی لاحق ہیں۔‘
’قانون یہ کہتا ہے کہ پہلے ایک میڈیکل بورڈ ہو گا، جو یہ فیصلہ کرے گا کہ علاج جیل کے اندر ہونا ہے یا جیل سے باہر۔ اگر جیل سے باہر لے جانا ہو تو ہر صورت میں یہ سہولیات سرکاری ہسپتالوں میں ہی فراہم کی جاتی ہیں۔ جب تک یہ ثبوت یا مواد سامنے نہ آئے کہ سرکاری ہسپتال اس قسم کا علاج فراہم کرنے سے قاصر ہیں یا ایسا نہیں کر سکتے، اس وقت تک اس طرح کا انتظام معمول کے مطابق نہیں کیا جاتا۔‘
وفاقی وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ’اس کی وجہ سے دیگر کئی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوں گی۔ پھر یہ سوال بھی ہے کہ آیا یہ حکم پورے پاکستان کی جیل آبادی کے لیے ہوگا یا اسے بطور نظیر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ کچھ دیگر قانونی نکات بھی ہیں جن پر قانونی ٹیم نے مکمل مشاورت کی ہے۔‘
’لہٰذا اس ابہام کو دور کرنے اور مناسب ترامیم کی درخواست کے لیے، تاکہ یہ حکم آئین اور قانون کے درست دائرۂ کار (پیرامیٹرز) کے مطابق ہو، سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan
سپریم کورٹ نے کیا حکم جاری کیا تھا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اپنے تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس کے ساتھ عدالت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس یا صحت پر سیاست کی گئی تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ شفا ہسپتال کے گرد مناسب سکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر اس سہولت کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو حکومت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے جبکہ عمران خان اور ان کے اہل خانہ بھی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق شکایات کے سلسلے میں عدالت کا رُخ کر سکتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی کے نامہ نگار روحان احمد کو بتایا کہ حکومت کو عدالتی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں اور ’عدالت کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔‘
انھوں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سڑکیں بند کرنے اور پُرتشدد احتجاجی مظاہروں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور کوئی بھی راستہ اداروں سے ہی نکلے گا۔‘
پاکستانی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو اس سے قبل بھی علاج کے لیے ہسپتال لے کر جایا جاتا رہا ہے اور اس مرتبہ بھی ان کی ہسپتال منتقلی یا قیام کے دوران سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔
دریں اثنا عدالت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمی خان بھی عمران خان کے ساتھ ہی ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عظمی خان بھی شامل ہوں گے۔
عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان سے ان کے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک بار ملاقات کروائی جائے۔ اس کے علاوہ عدالت نے عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقاتوں اور بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔
اس کیس کی آئندہ سماعت 16 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے جس دوران راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے حکام پیش ہوں گے جبکہ شفا ہسپتال میں معائنے اور علاج سے متعلق رپورٹس بھی جمع کرائی جائیں گی۔
ہسپتال منتقلی کی شرائط
عدالت کے تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج اور سہولیات کے اخراجات ’قیدی یا ان کے اہلخانہ‘ ادا کریں گے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اگلی سماعت (16 ستمبر) تک عمران خان کے اہلخانہ، ان کی سیاسی جماعت کے اراکین یا وکلا میڈیا اور لوگوں کے سامنے میڈیکل رپورٹس یا صحت کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔
عدالت نے اپنے حکمامے میں حکومت اور حکام کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ہفتے میں دو مرتبہ عمران خان کی فون پر ان کے بیٹوں سے گفتگو کروائیں۔
حکمنامے میں پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہلخانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی حدود میں کوئی سیاسی اجتماع نہ ہو۔
عدالت نے خبردار کیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں اس حکمنامے کے تحت دی جانے والی سہولیات واپس لے لی جائیں گی۔
اس کی علاوہ سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ عمران خان کی ہسپتال میں موجودگی کے دورانیے کے دوران ضروری سکیورٹی انتظامات کرے۔
سماعت کا احوال: ’ملاقات بنیادی حق ہے‘
ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو اس تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ’عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟‘ انھوں نے کہا کہ عدالت میں جو رپورٹ پیش کی گئی ہے وہ میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔
بینچ کے سربراہ نے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ جمع کروایا جائے اور جو چیز عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنے گی ’وہ خفیہ نہیں رہے گی۔‘
عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی۔ اس پر اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہو گی۔‘
اس پر تین رکنی بینچ کے سربراہ نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی غیر قانونی کام کرے گا تو کیا آپ بھی غیر قانونی کام کریں گے؟‘
انھوں نے کہا کہ اپنی بہنوں سے ملاقات کرنا سابق وزیر اعظم کا بنیادی حق ہے اور ’ملاقات کروا کر ’کوئی احسان نہیں کیا جا رہا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ریاست کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرے۔‘
اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس نعیم اختر افغان نے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی انجیوگرافی کرانی ہے تو کیا جیل میں انجیوگرافی ہو سکتی ہے؟‘ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ انجیو گرافی جیل سے باہر ہسپتال میں ہی ہوسکتی ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ’عمران خان کی صحت سے متعلق میڈیکل رپورٹ کی جو سمری عدالت میں پیش کی گئی ہے اس کے مطابق نہ نبض نارمل ہے اور نہ ہی دل۔ جبکہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق ان کے وائٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔‘
عدالت نے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل سے عمران خان کے خلاف مقدمات کی تمام تفصیلات طلب کی ہیں۔
عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ بھی بتایا جائے کہ سابق وزیر اعظم کتنے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں؟ کتنے مقدمات میں انھیں سزا ہوئی؟ اور کتنے مقدمات ابھی تک مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شفا ہسپتال منتقلی کا حکم اور بیرسٹر گوہر کی یقین دہانی
سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور ان سے ملاقاتیں نہ کروانے کے بارے میں دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو درخواست گزار اور عمران خان کی بہن عظمی خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جیل میں ان کی دیکھ بھال اس طرح نہیں کی جا رہی جس طرح آئین اور قانون میں درج ہے۔ انھوں نے کہا کہ بطور سابق وزیر اعظم عمران خان کو علاج معالجے کی ویسی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں جس کے وہ حقدار ہیں۔
انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم کو اسلام آباد کے نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل میں منتقل کر دیا جائے۔
اس پر بینچ کے سربراہ کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ اس مخصوص ہسپتال میں ہی سابق وزیر اعظم کو کیوں منتقل کیا جائے جبکہ اسلام آباد میں سرکاری ہسپتال بھی موجود ہیں۔
اس پر وکیل عزیز بھنڈاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ’ایک بیماری ایسی ہے جس کا سپیشلسٹ ڈاکٹر پمز میں موجود نہیں ہے۔‘
بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ ’اگر سابق وزیر اعظم کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا جائے تو وہاں پر سکیورٹی کے کیا انتظامات ہوں گے؟ اور کیا وہاں پر امن و امان کی صورت حال تو پیدا نہیں ہو جائے گی؟‘
یہ سن کر کمرہ عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل روسٹم پر آئے اور کہا کہ ان درخواستوں پر انھیں سنا ہی نہیں گیا اور نہ ہی انھیں کوئی نوٹس جاری ہوا ہے جس پر اس تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس شاہد وحید نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بی فیئر‘ یعنی ’منصفانہ رہیں۔‘
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ’آپ لوگ صبح سے عدالت میں بیٹھے ہیں اور آپ کے سامنے ہی یہ ساری کارووائی ہوئی ہے تو پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ آپ کو سنا نہیں گیا یا نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔‘
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی اور عمران خان کی بہنیں بھی موجود تھیں۔
عدالت جب عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا آرڈر لکھوا رہی تھی تو اس دوران بیرسٹر گوہر نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ عدالت سے باہر عمران خان کی صحت یا ان کی میڈیکل رپورٹ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔
اس پر تین رکنی بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اگر میڈیکل رپورٹ پر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی تو عدالت اپنے حکم نامے میں لکھوائی گئی تمام سہولتیں واپس لے لے گی۔‘
سماعت کے بعد عدالت کے باہر کچھ صحافیوں نے عمران خان کی بہنوں سے سپریم کورٹ کے حکم سے متعلق بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے سپریم کورٹ میں ’کمٹمنٹ دی ہے کہ وہ عمران خان کی صحت سے متعلق میڈیا پر کوئی بات نہیں کریں گے۔‘




















