جب بی بی سی کے نامہ نگار نے روہنگیا مسلمانوں کا ایک گاؤں جلتا دیکھا

،تصویر کا ذریعہJHEAD/BBC
دو ہفتے قبل میانمار کے ریاست رخائن میں پھر سے بھڑک اٹھنے والے تشدد کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 64 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج اور رخائن کے بودھ ان کے گاؤں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔
حکومت ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمان اور انتہاپسند جنگجو خود ہی اپنے گاؤں جلا رہے ہیں لیکن بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ نے بتایا کہ انھوں نے خود اپنی آنکھوں کے سامنے ایک گاؤں کو جلتے ہوئے دیکھا ہے۔ انھوں نے اس واقعے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔
میں ان چند صحافیوں میں سے ایک ہوں جنہیں میانمار کی حکومت نے ماؤنگدا کے حالات کا جائزہ لینے بلایا ہے۔ اس دورے کی شرط یہ ہے کہ ہمیں جماعت میں رہنا ہے اور ہم اکیلے کہیں نہیں جا سکتے۔ ہم انہی علاقوں میں جا سکتے ہیں جہاں حکومت ہمیں لے جانا چاہتی ہے۔
ہم نے جب بھی کسی اور علاقے میں جانے کی اجازت مانگی تہ یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ وہ محفوظ نہیں ہیں۔
ہم ماؤنگدا کے قریبی علاقے ال لے تھان کیاؤ سے لوٹ رہے تھے جہاں اب بھی نذر آتش ہونے والے گھروں سے دھواں نکل نکل رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے بتایا کہ وہاں رہنے والے مسلمانوں نے خود ہی اپنے گھروں کو آگ لگا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 اگست کو روہنگیا انتہا پسندوں کے ہاتھوں پولیس چوکیوں کو آگ لگائے جانے کے بعد بیشتر لوگ یہاں سے بھاگ گئے تھے۔
شمال سے دھوئیں کا غبار تین جگہ سے اٹھتا دکھائی دے رہا تھا اور کبھی کبھار گولیوں کی آواز آ جاتی تھی۔
واپس آتے وقت ہم نے دھان کے ایک کھیت سے دھواں اٹھتا دیکھا۔ کھیت ہونے کا مطلب یہ تھا کہ وہاں قریب ہی کوئی گاؤں آباد ہو گا۔
ہم فوراً اس طرف تیزی سے بھاگے۔ ہمیں پہلی عمارت دکھائی دی جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ دیکھتے دیکھتے 20-30 منٹ کے اندر پورا گاؤں راکھ ہو گیا۔ یہ بات ظاہر تھی کہ آگ اسی وقت لگی تھی۔
ہم آگے بڑھے ہی تھے کہ ہم نے وہاں سے چند نوجوانوں کو باہر نکلتے دیکھا جن کے پاس چھریاں، تلواریں اور غلیلیں تھیں۔ ہم نے ان سے سوال کیے لیکن انھوں نے کیمرے کے سامنے آنے سے انکار کر دیا۔
میرے ساتھ موجود میانمار کے چند صحافیوں نے ان سے کیمرے سے دور جا کر بات کی تو انھیں بتایا گیا کہ وہ رخائن کے بودھ مذہب کے ماننے والے ہیں۔ ان میں سے ایک نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے آگ لگائی تھی۔ اس نے کہا کہ پولیس نے اس کی مدد کی۔
آگے بڑھنے پر ہمیں ایک اسلامی مدرسہ دکھائی دیا۔ اس کی چھت آگ میں جھلس رہی تھی۔ آگ کی لپٹیں قریبی مکان تک پہنچ رہی تھیں۔ تین منٹ کے اندر وہ آگ کی بھٹی میں تبدیل ہو چکا تھا۔
گاؤں میں اور کوئی نہیں تھا۔ ہم نے جن لوگوں کو دیکھا تھا وہ اس آتش زنی کے ذمہ دار تھے۔ راستے میں بچوں کے کھلونے، خواتین کے کپڑے اور گھروں کا سامان بکھرا ہوا تھا۔ بیچ راستے ہمیں ایک جگ میں بچا ہوا پیٹرول بھی ملا۔
جب تک ہم اس علاقے سے باہر نکلے، آگ کی لپٹوں میں دکھائی دینے والے تمام گھر سلگ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد صرف سیاہ ڈھانچے باقی رہ گئے۔










