پاکستان کی روہنگیا مسلمان کے خلاف مظالم پر مذمت، ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش نقل مکانی

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور جبری نقل مکانی کی خبروں پر اظہار تشویش کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے میانمار کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ رخائن کے علاقے میں ہونے والی قتل و غارت کی تفتیش کروائے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ روہنگیا مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں مسلمان اقلیتیں کے تحفظ کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ بین الا اقوامی برادری اور بالخصوص اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ساتھ مل کر روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کام کرتا رہے گا۔
ادھر مغربی میانمار کے رخائن صوبے میں حکام نے روہنگیا مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ انتہا پسندوں اور دہشت گروں کو پکڑنے میں تعاون کریں۔
سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ حکام نے لاؤڈ سپیکر پر انھیں متنبہ کیا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو ان کے گاؤں میں داخل ہونے پر چیلنج نہ کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز 'آراکان روہنگیا سیلویشن آرمی' (اے آر ایس اے) کے جنگجوؤں کی تلاش میں ہے۔
حکومت نے اے آر ایس اے کو کالعدم تنظیم قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل جب میانمار کی فوج نے رخائن صوبے میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً 73 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ مزید پناہ گزین ابھی بھی بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔
پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے ان کے گھروں کو نذر آتش کر دیا اور ان پر فائرنگ کی ہے جبکہ حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کوختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی علاقے میں 2600 سے زیادہ مکانات کو جلا دیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ کاروائی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے پر تشدد واقعات کے چند بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔
اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی امداد کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق اب تک تقریباً ساٹھ ہزار روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش جا چکے ہیں اور امدادی کارکنان کو صورتحال سنبھالنے میں دقت پیش آرہی ہے۔
میانمار حکام نے 'آراکان روہنگیا سیلویشن آرمی' پر اس واقعے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ اسی گروپ نے گذشتہ ہفتے میانمار کے سکیورٹی حکام پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
لیکن جان بچا کر بنگلہ دیش بھاگنے والے روہنگیا مسلمانوں نے کہا کہ ان کے گھروں کو جلانے اور قتل و غارت کے واقعات کے پیچھے میانمار کی فوج کا ہاتھ ہے جو ان کو میانمار میں رہنے نہیں دینا چاہتی۔
روہنگیا مسلمانوں اور میانمار کی فوج کی جھڑپوں میں اب تک 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آگ میانمار کی فوج نے لگائی ہے۔
امدادی کارکنوں کے مطابق نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں انھیں پناہ اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے جبکہ کیمپ میں آنے والے تقریباً ایک درجن کے قریب پناہ گزین گولیوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہزاروں کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد عبور کرنے کے منتظر ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی بتائی جا رہی ہے۔
رخائن ریاست سے مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ صرف چند ایک صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں شہریت ملنے کا حق نہیں ہے اور صدیوں سے وہاں رہائش پذیر ہونےکے باوجود انھیں وہاں غیر قانونی شہری تصور کیا جاتا ہے۔









