امریکی ویزے کے باوجود افغان خاندان زیرحراست

ویزا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغانستان کا شمار ان ممالک میں نہیں ہوتا جن کے شہریوں پر امریکہ داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی

امریکہ میں وکلا نے ایک افغان خاندان کی رہائی کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی ہے جسے امریکی ویزا حاصل ہونے کے باوجود حراست میں لے لیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے ایک افغان جوڑے اور ان کے تین کمسن بچوں کو لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچنے کے کچھ دیر بعد حکام نے حراست میں لیا تھا۔

ان کے پاس سپیشل امیگرینٹ ویزا تھا۔ سپیشل امیگرنٹ ویزا امریکی کانگریس نے افغانستان اور عراق کے ان شہریوں کے لیے تخلیق کیا تھا جنھوں نے امریکی فوج کے ساتھ بطور ڈائیور، مترجم یا دیگر کام کیے تھے، جس سے ان ممالک میں ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان کا شمار ان ممالک میں نہیں ہوتا جن کے شہریوں پر امریکہ داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سات مسلم اکثریتی ممالک سے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم امریکہ کی وفاقی عدالتوں نے اس پابندی کو معطل کر دیا گیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک نیا ایگزیکٹیو حکم نامے کی تیاری کی جارہی ہے۔

افغان خاندان کی رہائی کے لیے انٹرنیشنل رفیوجی اسسٹینس پراجیکٹ کی جانب سے دائر کی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس خاندان کو حراست میں لیے جانے کی 'کوئی بھی توجیہ نہیں' ہے اور یہ امریکی آئین میں دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ویزا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغان جوڑے اور ان کے تین کمسن بچوں کو لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچنے کے کچھ دیر بعد حراست میں لیا تھا

انٹرنیشنل رفیوجی اسسٹینس پراجیکٹ کے ڈائریکٹر بیکا ہیلر نے اتوار کو خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ 'اس شخص کو کیلی فورنیا کی اورنج کاؤنٹی میں سخت ترین حفاظتی مرکز میں حراست میں رکھا گیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی بیوی اور بچوں، جن کی عمریں سات سال، چھ سال اور آٹھ ماہ ہیں، کو بھی ابتدائی طور پر لاس اینجلس میں اسی قسم کے مرکز میں رکھا گیا تھا تاہم انھیں بعد میں انھیں ایک ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا۔

اس خاندان کی وکالت کرنے والی ایک وکیل کا کہنا ہے کہ خصوصی ویزے کے حامل کسی شخص کو آمد پرحراست میں لیے جانا 'اپنی نوعیت کا واحد نہیں تو انتہائی غیرمعمولی' واقعہ ہے۔

قانونی مدد فراہم کرنے والی تنظیم پبلک کونسل کی وکیل تالیہ انلینڈر کا کہنا تھا کہ 'اس ویزے کے حصول کے لیے بہت زیادہ جانچ پڑتال کی ضرورت ہوتی ہے۔'

لاس اینجلس کے جنوب میں سانتا اینا کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے اہلکاروں نے وکلا سے رجوع کیے بغیر خاندان کو حراست میں رکھا۔