کیا امریکی ویزا پالیسی مسلمان مخالف ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کی شکل کیا ہو گی جو اگر پاس ہو گیا تو اس سے دنیا کے سات مسلمان اکثریتی ممالک کے باشندے امریکہ میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔
ان اعدادوشمار کو بھی دیکھا گیا ہے جن سے علم ہوتا چلتا ہے کہ کتنے افراد کو ویزا نہیں مل سکا اور یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا پہلے سے ہی تو مسلمان مخالف ایجنڈا تو موجود نہیں ہے؟
بی بی سی نے ایگزیکٹو آڈر کا جو ڈرافٹ حاصل کیا ہے اس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سات افریقی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے امیگریشن کی پابندیاں لگانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
آٹھ صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں صدارتی منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جس میں نامعلوم ممالک کو ویزے کے اجرا کو معطل کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس خیال کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ان کے ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔
امیگریشن سے متعلق ماہرِ قانون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال سے ان ممالک میں شام، عراق، ایران، لبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن شامل ہیں جو کہ تمام مسلمان اکثریت کے حامل ملک ہیں۔
ان ممالک کے تارکینِ وطن سمیت ویزے کی درخواستیں دینے والےشہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے میں بہت مشکل ہو گی جبکہ پہلے ہی بہت سے ملکوں کے مکینوں کے لیے ویزے کا حصبول مشکل ہو چکا ہے۔
ہم نے امریکہ کے سرکاری اعدادوشمار میں ویزا دینے سے انکارکا تناسب دیکھا اور پوچھا کہ کیا امریکی ویزا پالیسی اور اس کے طریقہ کار میں مسلمانوں کے خلاف کوئی ایجنڈا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کسے ویزے کی ضرورت ہے؟
اگر آپ ایسی نیشنیلٹی یا شہریت کے حامل ہوں کہ آپ کو ویزے کی ضرورت نہ ہو یا پھر آپ کنٹریکٹ پروگرام کے اندر ہوں بصورت دیگر امریکہ کسی کام یا تفریح کے لیے جانے سے پہلے آپ کو ویزے کے لیے ضرور درخواست کرنا ہوگی اس کی نوعیت ’بی ویزا‘ ہوگی جو شاید مسترد ہو جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تمام سات ممالک جن پر شاید پہلے ہی پابندی عائد کر دی گئی ہے کے لیے ویزا درخواستوں کو مسترد کیا جانا نستباً زیادہ ہے۔ اگرچہ ان میں سے کوئی بھی ان دس ممالک کی فہرست میں شامل نہیں جن کے شہریوں کو ویزا دینے سے سب سے زیادہ بار انکار کیا جاتا ہے۔ ان سات ممالک میں موجود صومالیہ اور شام ویزا مسترد ہونے والے 20 ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔
35000 سے زائد ایرانیوں کو سنہ 2015 میں امریکہ کا ویزا جاری کیا گیا۔
تو پھر کونسے ممالک ہیں جن کے شہریوں کے لیے امریکہ کا ویزا سب سے زیادہ مسترد کیا جاتا ہے یا پھر جنھیں سب سے زیادہ یہ ویزا ملتا ہے؟
کیا مسلمان ممالک کو بطورِ خاص نشانہ بنایا جاتا ہے؟ چلیے سنہ 2016 کے اعدادوشمار دیکھتے ہیں۔
جنگ سے تباہ حال ممالک
وہ ممالک جو شورش زدہ ہیں یا پھر جو حال ہی میں جنگ کا شکار ہوئے ان ملکوں کے شہریوں کی ویزا درخواستیں زیادہ مسترد ہوئیں۔ ان ممالک میں صومالیہ، عراق اور شام شامل ہیں تاہم افغانستان کی ویزا درخواستیں اس سے بھی زیادہ بار مسترد ہوئیں۔
تقریباً 74 فیصد افغان شہریوں کی ویزا درخواستیں گذشتہ برس مسترد ہوئیں اور یہ دوسری بڑی تعداد ہے۔
مسلمانوں کو خوش آمدید؟
اگرچہ ایگزیکٹو آڈر کے ڈرافٹ میں موجود سات ممالک نمایاں تو پر مسلم اکثریت کے حامل ہیں جبکہ دیگر ممالک کو ویزا حاصل کرنے میں کم مسائل کا سامنا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، لبنان اور مصر کے شہریوں کو ویزا دیے جانے سے نسبتاً کم انکار کیا جاتا ہے جبکہ یہ وہ ملک ہیں جن کی شہریت کے حامل افراد نائن الیون حملہ کرنے والے تھے۔
اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ برس فقط چار فیصد سعودی شہریوں کی ویزا درخواستیں مسترد ہوئیں جبکہ سنہ 2015 میں سیاحت یا تجارتی ویزے پر امریکہ جانے والے سعودی شہریوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔
امریکہ کے سرکاری ڈیٹا میں موجود ممالک کی فہرست کے مطابق جس ملک کے شہریوں کی ویزا درخواست کو سب سے کم مسترد کیا گیا وہ سعودی عرب کا ہمسیایہ ملک عمان تھا اور یہ تناسب دو فیصد سے کم تھا۔ اگر اس کا موازنہ اسرائیل سے کیا جائے تو اس کی دوگنی درخواستیں مسترد ہوئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن مسلمان اکثریت رکھنے والے ملک آذربائیجان کی 15 فیصد مسترد درخواستوں کے مقابلے میں اسی کے ہمسائے جورجیا کی 57 فیصد درخواستوں کو کیوں مسترد کیا گیا حالانکہ جورجیا میں مسیحی آبادی کی اکثریت ہے۔
بی بی سی نے مسٹر وِل کوکس سے بات کی جو کہ امریکہ محکمہ خارجہ کے بیورو آف کانسلر افیئرز کے ترجمان ہیں۔
مسٹر کوکس کہتے ہیں کہ کسی بھی انفرادی ملک کو ویزے دینے کے لیے کوئی شرح مقرر نہیں ہے اور تمام فیصلے درخواست گزاروں کے کیسز کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
تو کیا یہ ممکن ہے کہ متعلقہ افسران کسی خاص ملک کے لوگوں کو ویزا جاری کرتے ہوئے شاید زیادہ سختی برتتے ہیں؟
مسٹر کوکس کے خیال میں ایسا نہیں ہے۔
'ہر ایک یکساں طریقہ کار کے استعمال کے لیے معیاری تربیت کا حامل ہے، فیصلے کے لیے قانونی معیارات ہوتے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ وہ انفرادی طور پر موجود شماریات پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
نقل مکانی کی معیشت
امریکی ویزا قانون کے مطابق نان امیگرنٹ ویزے کے لیے درخواست گزار کے بارے میں یہی تصور ہوتا ہے کہ وہ نقل مکانی کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایسے میں ویزے کے حصول کے لیے درخواست گزار کو اس مفروضے کو ختم کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ امریکہ میں کسی خاص مقصد کے لیے محدود وقت کے لیے جا رہے ہیں اور انھیں یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ملک واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مسٹر کاکس کہتے ہیں کہ جب درخواست گزار یہ ثابت نہیں کر سکتے تو پھر ان کی درخواستیں منظور ہونے کی شرح میں تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔
آپ کے ملک میں معاشی حالات کیسے ہیں اس سے بھی یہ وضاحت ہو جاتی ہے کہ کچھ ممالک کے شہریوں کو ویزا دیے جانے کا تناسب زیادہ کیوں ہے۔
آذربائجان کا جی ڈی پی جورجیا سے 70 فیصد زیادہ ہے اور اس لیے اس کی ویزا درخواستیں بہت کم مسترد ہوتی ہیں۔
لیکن اس کی وضاحت کون کرے گا کہ ایلسیلوا ڈور اور پیرااوئے کا جی ڈی پی شرح میں تو تقریباً برابر ہے تاہم گذشتہ برس ایک کو 57 فیصد اور دوسرے کو سات فیصد درخواستوں پر مثبت جواب ملا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تعلقات جو باندھتے ہیں
معاشی حالات کے علاوہ ویزا افسران دیگر عوامل کو بھی دیکھتے ہیں جن میں ان درخواست گزاروں کے نقل مکانی کے ارادے کے امکان کو دیکھا جاتا ہے۔
شاید مختلف ممالک کے امریکہ میں بسنے والے ایسے تارکین وطن کی تعداد بھی ان ملکوں کو ویزے دیے جانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جن کے شہریوں کے پاس دستاویزات موجود نہیں ہوتی۔
امریکہ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کے اندازے کے مطابق امریکہ میں سنہ 2005 میں موجود غیر قانونی تارکینِ وطن میں پانچ فیصد کا تعلق ایل سیلواڈور سے تھا۔
سنہ 2016 میں ویٹیکن سٹی کے 62 اعشاریہ پانچ درخواست گزاروں کو ویزے جاری نہیں کیے گئے۔
جوبی ایشیا کے درخواست گزاروں کے لیے ویزے کے حصول کا تناسب مختلف رہا۔
بی ویزے کے حصول کے لیے انڈیا کے 26 فیصد درخواست گزاروں کا ویزا مسترد ہوا جبکہ پاکستان کے 46 فیصد اور بنگلہ دیش کے 63 فیصد درخواست گزاروں کو ویزا نہیں ملا۔
لیکن بھوٹان ایشیا کا وہ ملک ہے جس کے باشندوں کو امریکی ویزے کے حصول میں سب سے زیادہ مشکل ہوئی اور وہاں کی 7 0فیصد درخواستیں مسترد ہوئیں۔








