کروشیا: یورپی دیہات میں اچانک پانی کے بڑے بڑے درجنوں گڑھے نمودار، ماہرین پریشان

کروشیا

،تصویر کا ذریعہAntonio Bronic/Reuters/Alamy

    • مصنف, ودرانا سیمی چیویچ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

یہ سب کچھ اچانک ہوا۔ نِکولا بورویویچ کے گھر کے پیچھے وسیع و عریض باغ میں جہاں آلوؤں کے بیجوں سے اگنے والے پودوں کی کونپلیں کھلنی چاہیے تھیں وہاں زمین میں بڑا سا گڑھا بن گیا۔ اس کی چوڑائی تقریباً 30 میٹر اور گہرائی 15 میٹر تھی۔ یہ تیزی سے پانی سے بھر گیا تھا۔ اور یہ واحد گڑھا نہیں تھا۔

چند ہفتوں میں شمال مشرقی کروشیا کے مِچنچانی نامی گاؤں اور اس کے قریبی دیہات بورویویچی میں اس طرح کے درجنوں گڑھے بن گئے۔ مِچنچانی میں بورویویچ کے گھر کے سامنے بننے والا گڑھا 6.4 درجے کے زلزلے کے چھ دن بعد یعنی پانچ جنوری کو نمودار ہوا۔

زلزلے کا مرکز قریبی شہر پیٹرینیا میں تھا۔ گذشتہ چار دہائیوں میں کروشیا میں آنے والا یہ سب سے طاقتور زلزلہ تھا جس میں سات افراد ہلاک اور ہزاروں گھر منہدم ہوئے تھے۔

زلزلوں کے نتیجے میں اکثر مٹی کے تودے گرتے اور گڑھے بن جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی عجیب و غریب ارضیاتی واقعات جیسے لیکویفیکیشنس، جن میں ٹھوس زمین مائع کی حالت میں بدلنا شروع ہو جاتی ہے، کی وجہ سے ان دو دیہاتوں کے آس پاس دکھائی دینے والے گڑھوں کی بڑی تعداد نے ماہرینِ ارضیات کو پریشان کر دیا تھا۔

زلزلے کے ایک مہینے کے بعد 10 مربع کلومیٹر (3.8 مربع میل) رقبے میں تقریباً 100 گڑھے بن گئے تھے، بعد میں ہر ہفتے نئے گڑھے بنتے گئے۔

بورویویچ کے باغ میں بننے والا گڑھا اس علاقے کا سب سے بڑا گڑھا ہے۔ جب یہ پہلی بار ظاہر ہوا تو اس کی چوڑائی 10 میٹر (33 فٹ) تھی، لیکن فوراً بعد ہی یہ بڑا ہونا شروع ہو گیا تھا۔

بورویویچ کہتے ہیں کہ ’میری بیوی تمام وقت گھر پر تھی اور کبھی کبھار تھوڑی دیر کے لیے کھڑکی سے باہر جھانک لیتی تھی۔ دوپہر دو بجے کے قریب اس نے باغ میں کچھ عجیب و غریب ہوتے دیکھا۔ ہم باہر گئے اور ہمارے باغ میں ایک بہت بڑا سوراخ بن گیا تھا۔ اگلے تین ماہ کے دوران یہ سوراخ سائز میں تین گنا بڑھ چکا تھا۔‘

لیکن بورویویچ خاندان خوش قسمت تھا۔ اسی علاقے میں بعض گڑھے مقامی لوگوں کے گھروں کی دہلیز سے محض چند میٹر کے فاصلے پر بن گئے اور ایک شخص کے تو مکان کے نیچے گڑھا بن گیا، جس نے انتظامیہ کے اہلکاروں کو دونوں گاؤں کو خالی کرانے پر مجبور کیا۔

کئی گڑھے آس پاس کے جنگلات اور زرعی زمین میں نمودار ہوئے جہاں کچھ مقامی افواہوں کے مطابق ایک گڑھے نے مقامی کسان اور اس کا ٹریکٹر تقریباً نگل لیا۔

کروشیا

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنبعض گڑھے تو گھروں کے بالکل قریب ظاہر ہوئے اور ماہرین اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ کون سے علاقے رہنے کے لحاظ سے محفوظ ہیں

ایک ہی جگہ پر غیر معمولی طور پر اتنی بڑی تعداد میں گڑھے بننے کی وجہ سے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی ماہرین ارضیات کی توجہ بھی اس جناب مبذول ہوئی ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زلزلے سے زمین کے دھنسنے کا عمل کیسے شروع ہو سکتا ہے۔

کروایشیا کے دارالحکومت زغرب میں فیکلٹی آف سائنس کے محکمہ جیو فزکس کے ماہرِموسمیات، یوسیپ اسٹپچیویچ کہتے ہیں کہ 'کسی کو بھی اتنے زیادہ گڑھے بننے کی توقع نہیں تھی۔'

کروایشیا میں شدید زلزلے کے خطرات بہت زیادہ ہیں، یہاں چھوٹی ایڈریاٹک پلیٹیں یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ سے ٹکرا رہی ہے جس کی وجہ سے متعدد فعال 'فالٹ لائنز' پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ 29 دسمبر 2020 کو آنے والے زلزلے سے قبل، 20 ویں صدی کے آغاز سے ہی اس ملک میں نو دیگر ایسے زلزلے آچکے ہیں جن کی شدت چھ سے زیادہ تھی۔ آخری زلزلہ جو پوک اپسکو، پیٹرینیا میں آیا تھا، اور سب سے زیادہ شدت والا زلزلہ آخری مرتبہ سنہ 1909 میں آیا تھا۔

سنہ 1909 کے زلزلے کا مرکز سنہ 2020 کے آخر میں آنے والے زلزلے کے مرکز سے صرف 23 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ اس نے بھی اس وقت کے زلزلے کے ماہرین کی توجہ حاصل کی تھی۔ کروایشیا کے مشہور ماہرِ طبیعات الارض (جیو فزیسسٹ)، اندریا موہوروویچیچ نے سنہ 1909 کے پوک اپسکو زلزلے کی رپورٹوں کا مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ زلزلے کی لہریں زمین کی مختلف پرتوں سے گزرتے وقت مختلف رفتار کے ساتھ سفر کرتی ہیں۔

اِن کی ماہرانہ رائے کی وجہ سے ایک ایسی باؤنڈری کی دریافت ہوئی جو زمین کی پرت کو اس کے اوپر پڑے ہوئے پردے سے الگ کرتی ہے، جسے آج 'موہوروویچیچ بندش' یا محض 'موہو' کے نام سے جانا جاتا ہے۔

آج محققین اسی علاقے کا 'موہو' اصول کے مطابق مطالعہ کر رہے ہیں کہ اچانک زلزلے کے بعد اتنے بڑے گڑھے کیسے نمودار ہوئے۔

زلزلے کے شدید جھٹکوں کے نتیجے میں ایسے گڑھے بننا عام بات نہیں ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جو زیر زمین پوشیدہ ہوتے ہیں۔ سنہ 2009 میں اطالوی شہر لااکیلہ کے قریب تباہ کن زلزلے کے بعد شہر کے پرانے حصے میں سڑکوں پر فوری طور پر دو گڑھے بن گئے تھے۔

اس وقت کے ماہرین کو شبہ تھا کہ گندے پانی کی نکاسی کے لیے عمودی کھائیوں کی پچھلی کھدائی نے زیر زمین غار کی چھت کو کمزور کردیا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی مٹی کا ڈھانچہ ڈھے گیا۔

نیپلس یونیورسٹی آف فیڈریکو کے طبیعات الارض کے اطالوی ماہر، انتونیو سانٹو کا کہنا ہے کہ 'کروشیا کے معاملے اصل انوکھی چیز اتنی زیادہ تعداد میں اتنے بڑے بڑے گڑھوں کا بننا ہے۔‘

کروایشیا کے دو دیہاتوں کو خطرے میں ڈالنے والے گہرے اور وسیع گڑھے کو کوور کولیپس سنک ہولز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ عموماً ان علاقوں میں ظاہر ہوتے ہیں جہاں زیر زمین پتھر پانی کے بہنے کی وجہ سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں اور ایک خلا پیدا کر دیتے ہیں اور اس میں مٹی، ریت یا کیچڑ نما مٹی کی ایک موٹی سی تہہ بن جاتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ عام قسم کی مٹی ہوتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ پانی آہستہ آہستہ اس کی گہری تہوں سے سطحی مادے کو گہری زمین کے اندر بہا دیتا ہے۔ اگر صرف ریتلی مٹی ہی ہوتی تو اس عمل کو آخری سطح پر دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن مٹی کی موجودگی اس سطحی چادر کو زیادہ مضبوط اور مستحکم بنا دیتی ہے، اس لیے کچھ عرصے کے بعد نیچے کی مٹی کی پرت میں ایک خلا پیدا ہوجاتا ہے، لیکن یہ اندرونی خلا زمین کے اوپر تقریباً ناقابل شناخت ہوتا ہے۔ چونکہ سطح کی پرت اپنی ساخت کے لحاظ سے کمزور ہوتی چلی گئی اس لیے یہ بالآخر سطح کے نیچے خلا میں گر گئی۔

عام طور پر یہ عمل لمبے عرصے میں ہوتا ہے، لیکن شدید بارش، سیلاب یا کان کنی یا جارحانہ انداز میں زمینی پانی کی نکاسی جیسی انسانی سرگرمیوں کے ذریعہ بھی یہ عمل تیز ہو سکتا ہے۔

کروشیا

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency/Getty Images

،تصویر کا کیپشن6.4 درجے کا زلزلہ جس نے شمال مشرقی کروشیا کے خطے کو نقصان پہنچایا، ملک کی گذشتہ 40 برس کی تاریخ کا سب سے زیادہ شدید زلزلہ تھا

میچنچانی اور بورویویچی کے آس پاس کے علاقے سے جمع کردہ اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے بعد کروایشین ماہرین ارضیات نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ عجیب و غریب واقعات کئی مختلف عوامل کے پیچیدہ امتزاج کے نتیجے میں ظاہر ہوئے ہیں۔

اگرچہ کروایشیا کا ساحلی حصہ دنیا کے مشہور ڈینارِک کارسٹ سے تعلق رکھتا ہے (کارسٹ چونے کے پتھر کے عِلاقے کو کہا جاتا ہے جس کی تہہ میں چٹان کے چٹخنے سے پانی کی نکاسی کی نالیاں اور گلیاں بن گئی ہوں)، یہ گہرے چونا پتھر کی ہزاروں گفاؤں اور چونا پتھر سے ہی بنے سینکڑوں مقامی غاروں پر مشتمل ہے، لیکن زیر زمین چونا پتھر کی تشکیل کا سلسلہ بھی مرکزی کروایشیا کے نیچے ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔

یہ چونا پتھر جو ڈینارک کرسٹ اور پینونین بیسن کے درمیانی حدود میں غاردار کے پتھر کی صورت میں بنتا ہے، مائیوسین دور میں جمع ہوا تھا جب یہ علاقہ زیر زمین تھا اور اب جو بحیرہ روم کے سمندر سے جڑا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کروایشین جیولوجیکل سروے سے تعلق رکھنے والے یوسیپ ترزیچ کہتے ہیں کہ 'اگرچہ دینارک کارسٹ زیادہ تر کریٹاسیئس اور جوراسک دور سے تعلق رکھتا ہے، لیکن ہمارے یہاں جو کارسٹ پایا جاتا ہے وہ کم عمر اور اس سے بھی زیادہ غیر محفوظ اور کھوکھلا ہے۔ یہ یہاں کے آس پاس کے کچھ چھوٹے علاقوں اور زغرب شہر کے قریب ہی محدود ہے۔'

گیارہ ملین سال پہلے لینڈ پین کے جزیروں کا مقام بدلنے کی وجہ سے جب پینونین کا طاس (بیسِن) بحیرہ روم سے منقطع ہوا تو یہ ایک بہت بڑی جھیل بن گیا تھا۔ ندیوں نے آہستہ آہستہ اس پر گار، ریت اور بجری بھر دی جس سے موجودہ دور کا وسیع و عریض علاقہ تشکیل پاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں میچنچانی اور بورویویچی دیہاتوں کے نیچے تقریباً 10-15 میٹر مٹی، پتھر اور چکنی مٹی کی تہہ چٹان کے اوپر پڑی ہوئی تھی۔

اس خطرے کا پتہ لگانا مشکل تھا۔ اس سے پہلے اچانک کچھ گڑھے نمودار ہوئے، لیکن مقامی لوگوں کے مطابق یہ بہت چھوٹے اور کم تعداد میں تھے۔

یوسیپ ترزیچ کہتے ہیں کہ 'ظاہر ہے کہ زلزلوں نے کچھ پہلے سے جاری عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔' دراصل اس علاقے میں پانچ درجے کی شدت کے زلزلے کے بعد بڑے گڑھے ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ چونکہ زلزلے اور اس کے ساتھ ہی آنے والے آفٹر شاکس نے اس علاقے کو ہلا کر رکھ دیا اس کی وجہ سے زمین 30 سینٹی میٹر (12 انچ) سے زیادہ ایک طرف سِرک گئی۔ زمین کے اس سرکنے نے غیر یقینی صورتحال پیدا کردی۔

ترزیچ کہتے ہیں کہ 'زلزلوں کی وجہ سے اس زمین اور ان مقامات کو بڑے پیمانے پر متحرک تناؤ کا سامنا کرنا پڑا، جو پہلے سے ہی نازک سطح تک پہنچ چکے تھے، وہ اچانک ڈھہ گئے۔'

یوسیپ ترزیچ کے ساتھی، زغرب یونیورسٹی کے ایک جیو فزیکس ماہر، برونو ٹومل یانوویچ، کا خیال ہے کہ زلزلوں نے زیر زمین پانی کی نقل و حرکت کو متاثر کیا، اسے اوپر کی سطح کی طرف گامزن کر دیا اور زیادہ دباؤ والے علاقوں سے کم دباؤ کی طرف دھکیلا۔ برونو ٹومل یانوویچ وضاحت کرتے ہیں کہ اس سے زیر زمین گزرنے والی ہائیڈروڈائینامکس میں سطحی چادر کے گرنے کے عمل میں تیزی آئی ہے۔

برونو ٹومل یانوویچ کا کہنا ہے کہ 'اس کے علاوہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ کچھ زمین ڈھے جانے سے بننے والے گڑھوں نے ہائیڈروڈائنامکس میں اضافی تبدیلیاں پیدا کیں ہوں، جس سے پانی نئے راستوں کی تلاش کر رہا تھا اور ممکنہ طور پر زیادہ گڑھوں کا سبب بن گیا ہے۔'

نیو میکسیکو میں دی نیشنل کیو اور کارسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جیولوجسٹ، جارج وینی کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت میں غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں جھٹکے بھی بہت ساری زمین کے گرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ وینی نے انتباہ دیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جس سے اوپر کی زمینی چادر کے گرنے سے بھی گڑھے پیدا ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف زغرِب کے سائنس دانوں کی ایک حالیہ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ میچنچانی اور بورویویچی علاقے میں تعمیر آبپاشی کے نظام نے ممکنہ طور پر 'کارسٹیفیکیشن' کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔

اس وقت سائنس دانوں کے پاس اتنے اعداد و شمار نہیں ہیں کہ وہ گڑھوں کی ظاہری شکل کے ساتھ زلزلوں کی طاقت اور تعداد کے مابین تعلق کا تجزیہ کر سکیں۔

کروشیا

،تصویر کا ذریعہAntonio Šebalj

،تصویر کا کیپشنایک مہینے کے اندر ایک گاؤں میں سو سے زیادہ گڑھے نمودار ہوئے جس سے علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا۔

وینی کہتے ہیں کہ 'کروایشیا کی صورتحال کو اس انتباہ کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے کہ زلزلے والے ممالک اور ایسے علاقوں میں جو زلزلے سے متاثر ہو سکتے ہیں اور جو اوپری زمین کے گرنے سے گڑھے بننے کے حالات سے دوچار ہیں، وہاں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔'

اٹلی کے شہر باری میں یونیورسٹی الڈو مورو میں کارسٹ ماحول میں ہونے والے خطرات سے متعلق ایک ماہر ارضیات، ماریو پاریس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے گڑھے کہاں بن سکتے ہیں اس کی پیش گوئی کرنا آسان کام نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم ابھی تک ایسے علاقوں کو جاننے کے لیے صرف تاریخی اعداد و شمار اور دستاویزات پر انحصار کرسکتے ہیں جو اس نوعیت کے عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔‘ اگرچہ پچھلی دہائی میں گڑھوں کے بننے کے خطرے کے کچھ ماڈلز تجویز کیے گئے ہیں، لیکن 'گڑھوں کے لیے انتباہی نظام تیار کرنا وہ میدان ہے جہاں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

تومل یانوویچ نے کروشین گڑھوں سے یہ سیکھا ہے کہ زلزلے والے خطے کی نشاندہی یا 'مائیکرو زوننگ' کی ضرورت ہے تاکہ آبادی والے خطوں میں ان جگہوں کا پتا لگائیں جہاں زلزلے کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی میچانچانی اور بورویویچی علاقے میں 'الیکٹریکل ریزِسٹیویٹی ٹوموگرافی' اور 'سیزمِک ریفریکشن سروے' کے ذریعے ایسے مقامات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں گڑھے نہیں بنے لیکن خطرہ برقرار ہے۔

کروشیا

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنبورویویچ کے گھر کے باغ میں بننے والے گڑھے کا سائز تسلسل کے ساتھ بڑا ہو رہا ہے اور اسے بھرنے کے لیے کئی ہزار یوروز خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں

لیکن آنے والے سال کے دوران نئے گڑھوں کے ظاہر ہونے کا خطرہ بہت سارے رہائشیوں کے ذہنوں پر سوار ہے۔ اسٹیپچیویچ کے مطابق، سال کے دوران پانی کی زیر زمین سطح میں ہونے والی تبدیلیوں اور فالٹس کے مسئلے کے حل کے ساتھ ساتھ مزید آفٹر شاکس کی وجہ سے بھی مزید گڑھے بن سکتے ہیں۔

اس دوران پانی سے بھرا ہوا بڑے سائز کا گڑھا ابھی بھی بورویویچ کے باغ میں موجود ہے اور یہ مقامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ زلزلے کے چھ ماہ بعد گڑھوں کو بھرنے کی کوششوں کو جلد ہی شروع ہونا چاہیے۔

شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے جیو ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کو مربوط کرنے والے جیو ٹیکنیشن ڈاوور لیوبیچیچ کا کہنا ہے کہ 'یہ ایک مشکل کام ہے۔ ان دونوں دیہاتوں کے قریب ہی پانی کی فراہمی کا مشترکہ ذریعہ 'پاینو وریلو' کے ساتھ ساتھ متعدد نجی کنویں بھی ہیں۔ لہذا ان گڑھوں کو بند کرنے کے لیے میٹیریل کے انتخاب میں بہت محتاط رہنا چاہیے۔'

ان گڑھوں کو بھرنے کے لیے سیمنٹ یا غلط مواد کا استعمال پینے کے پانی کو آلودہ کر سکتا ہے، لہذا انجینئر اس کی بجائے بڑے پتھروں سے ان کو بھرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور پھر پتھروں اور بجری کے ساتھ زغرب کی باقی جگہوں کو بھرنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔

یہ کام سستا نہیں ہو گا۔ بورویویچ کے باغ میں گڑھا بھرنے کے لیے لگ بھگ دو لاکھ ڈالرز کی لاگت آسکتی ہے۔

بورویویچ نے مذاق میں کہا کہ ’میں اسے مچھلیوں کے ایک تالاب میں تبدیل کر سکتا ہوں۔‘