کرہ ارض پر پھیلے ہوئے وہ داغ دار مناظر جنھیں انسان کی مادی خواہشات نے جنم دیا

برازیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرازیل میں کراجس کان دنیا میں خام لوہے کی بڑی کانوں میں سے ایک ہے
    • مصنف, رچرڈ فشر اور ہاویے ہرشفلڈ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

جب ہم کسی قیمتی دھات، کوئلے یا دیگر معدنیات حاصل کرنے کے لیے کھدائی کرتے ہیں تو ہم ایک قدیم اور گزرے ہوئے زمانے کا ایک باب بند کر دیتے ہیں۔

مصنف ایسٹرا ٹیلر کے الفاظ میں یہ اشیا ’ایک جمع شدہ ماضی ہیں‘ جو ہمیں بہتے لاووں، جنگلات اور بھاپ اگلتے چشموں کی لازوال کہانیاں سناتے ہیں۔ لاکھوں برس کی اس تاریخ کو ہم مشینوں اور دھماکہ خیز مواد کے حوالے کر کے چند لمحوں میں ختم کر دیتے ہیں۔

انسان کو جب سے یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین کے اندر بڑے خزانے موجود ہیں تو انھوں نے ان خزانوں کو ڈھونڈنے کے لیے ہر طرف کھدائی کی ہے۔

کان کنی کی وجہ سے ہمارا جدید طرزِ زندگی ممکن ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں فطرت کو پہنچنے والا نقصان زیادہ تر ہمارے گھروں سے بہت دور ہوتا ہے۔

جب آپ کان کنی کے اثرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تو اپنے زیرِ استعمال اشیا کے بارے میں آپ کی سوچ غیر محسوس طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہاں تک کے یہ الفاظ بھی آپ تک معدنی اشیا کے ذریعے ہی پہنچ رہے ہیں۔ آپ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کی سکرین کے پیچھے جو اشیا لگی ہوئی ہیں وہ ان دھاتوں سے بنی ہیں جو لاکھوں برس سے چٹانوں میں دبی ہوئی تھیں۔

ہم نے جائزہ لیا ہے کہ کان کنی نے کس طرح ہزار ہا طریقوں سے کرہ ارض کا چہرہ بدل دیا ہے۔ زمین کا فضائی جائزہ لینے سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ چاہے وہ دور دور تک پھیلے ہوئے غیر فطری پتلے پتلے تالاب ہوں یا انسانی انگلیوں کے نشانات کی طرح پھیلے ہوئے مناظر ہوں۔

اگر یہ خام دھاتیں اور معدنیات ایک منجمد ماضی ہیں تو مستقبل افسوسناک طور پر زمین کا داغوں سے بھرا چہرہ ہے۔

سنجیانگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین کے علاقے سنجیانگ میں دنیا کی سب سے بڑی کانوں کا سلسلہ موجود ہے جہاں مختلف اقسام کی 84 معدنیات نکالی جا رہی ہیں
شنگھائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین کے صوبے شنگھائی میں زمرد کی جھیل کانوں کا ایک ایسا زون ہے جو اب قابل استعمال نہیں اور جہاں نمک اور دیگر معدنیات کو بڑے بڑے تالابوں میں چھوڑ دیا گیا ہے
سپین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسپین کے ہیولوا صوبے میں ٹنٹو نامی کان کنی کے علاقے میں لوہے کی معدنیات زنگ آلود حالت میں موجود ہیں
سپین کا ہیولوا صوبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپانی میں ملی ہوئی لوہے کی معدنیات مصوری کے رنگوں کی طرح دور تک منظر پر پھیلی ہوئی ہیں
سپین کا ہیولوا صوبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجب معدنیات کو ہوا لگتی ہے تو کیمیائی ردِعمل سے ان کے رنگ بدل جاتے ہیں
امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی ریاست یوٹاہ میں بنگہم کینیئن نامی کان دیکھنے میں ایسی لگتی ہے جیسے انگلیوں کے نشانات کے پیچ و خم
میکسیکو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمیکسیکو کی ریاست گویریرو میں سونے کی کان
برازیل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبرازیل میں ایمیزون کے علاقے میں سونے کی کان
ایمیزون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایمیزون کا وہ حصہ جو ملک پیرو میں شامل ہے۔ اس علاقے میں مادرے ڈی ڈیوس نامی دریا میں سونے کی غیر قانونی کان کنی کے نتیجے میں جنگلات کی تباہی کا منظر
چلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچلی کے علاقے رینکاگوا میں وہ تالاب جس میں تانبے کی کان کنی سے حاصل ہونے والی ضمنی معدنیات جمع کی جاتی ہیں
چلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچلی کی اہم معدنیات میں تانبا بھی شامل ہے
روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنروس میں لیوویخا نامی گاؤں کے قریب کوپر سلفیڈ کی کان کے قریب نارنجی رنگ کا پانی جنگل کے درمیان سے گزر رہا ہے
انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی ریاست جھارکھنڈ میں ماہاگما کے قریب ایک کھلی ہوئی کوئلے کی کان دور افق تک پھیلی ہوئی ہے
ترکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنترکی میں وہ کان جہاں سے لیتھیئم نکالا جاتا ہے جو بیٹریوں کے لیے ایک انتہائی اہم جزو ہے
نیمیبیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیمیبیا میں یورینیئم کی کان جو دنیا میں یورینیئم کی بڑی کانوں میں سے ایک ہے
روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنروس میں ہیروں کی کان اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے بعد آنے والی نسلیں کیا دریافت کریں گی؟ ہم نے جس طرح وسائل کو استعمال کیا ہے وہ اس کے بارے میں کیا سوچیں گی؟

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔