کووڈ 19: انڈیا میں کووڈ کے مریضوں کو نابینا کرنے والا بلیگ فنگس ’میوکورمائیکوسز‘ کتنا خطرناک ہے؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مونیکا سلاون، کیرن تھرسکی
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر کے لیے

انڈیا میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں دشواری پیش آ رہی ہے لیکن اسی دوران فنگس کا ایک نایاب اورخطرناک انفیکشن بھی کورونا کے کچھ مریضوں کو متاثر کر رہا ہے۔

فنگس کی میوکورمائیکوسز نامی قسم کورونا سے متاثرہ یا صحتیاب ہونے والے افراد میں مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

انڈیا میں کورونا کے بعض متاثرین میوکورمائیکوسز سے متاثر ہوئے ہیں جسے ’بلیک فنگس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایسے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں جو کووڈ سے صحتیاب ہو رہے تھے۔

رواں سال مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں میوکورمائیکوسز سے جڑے کووڈ سے 41 کیس سامنے آئے۔ ان میں سے 70 فیصد کی تعداد انڈیا میں تھی۔

ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق کیسز کی تعداد سرکاری سطح پر بتائے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جو انڈیا میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کے پیش نظر اتنی حیران کن بات نہیں ہے۔

مگر آخر یہ بلیک فنگس ہے کیا اور اس کا کووڈ 19 سے کیا تعلق ہے؟

میوکورمائیکوسز یا بلیک فنگس کیا ہے؟

میوکورمائیکوسز کو سائنس میں ’زگومائی کوسز‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بیماری فنگس کی نسل ’میوکوریلز‘ سے پھیلتی ہے۔

اس نسل کا فنگس ماحول میں عام پایا جاتا ہے۔ مثلاً یہ مٹی میں بھی ہوتا ہے اور پھل یا سبزی جیسے نامیاتی مادے کے زمین میں گلنے سڑنے کا باعث بھی بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فنگس کی اس قسم سے انسانوں میں ’ریزوپس اوریزا‘ نامی انفیکشن ہوتا ہے۔ انڈیا میں فنگس کی اسی نسل کی ایک اور قسم پائی جاتی ہے جس کا نام اپوفیسو مائیسیز ہے۔ یہ ٹراپیکل یعنی گرم اور مرطوب علاقوں میں عموماً پایا جاتا ہے۔

میوکورمائیکوسز

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

لیبارٹری میں یہ فنگس تیزی سے پیدا ہوتے ہیں اور ان کی شکل سیاہ براؤن ہوتی ہے مگر دھندلی دکھائی دیتی ہے۔

انسانوں میں بیماری پھیلانے والے یہ فنگس جسمانی درجہ حرارت اور تیزابیت کے ماحول میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب کوئی ٹشو مردہ حالت میں ہو، بے جان ہونے کے قریب ہو یا بے قابو ذیابیطس سے متاثر ہو۔

آپ بلیک فنگس سے کیسے متاثر ہوسکتے ہیں؟

میوکورمائیکوسز کے فنگس کو موقع پرست سمجھا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ایسے لوگوں کو متاثر کرتا ہے جن کا مدافعتی نظام پہلے سے کمزور ہوتا ہے یا ان کا کوئی ٹشو کمزور ہوتا ہے۔

کورٹیکو سٹیرائڈز جیسی ادویات کے استعمال سے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے اور اس سے جسم میں مدافعت کا عمل کمزور ہو جاتا ہے۔ اس میں کینسر یا ٹرانسپلانٹ جیسے بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں جن میں مدافعتی نظام اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ کوئی معمولی عارضہ بھی جسم کو بُری طرح نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کسی صدمے کی حالت یا سرجری کے بعد ٹشو ڈیمیج (کمزور) ہو چکا ہوتا ہے۔

انسان تین طرح میوکورمائیکوسز سے متاثر ہو سکتا ہے: فنگس کو ناک سے سونگھ کر، اسے ادویات یا خوراک میں کھا کر یا جب فنگس کسی زخم سے جسم میں داخل ہو جائے۔

اکثر فنگس ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ دراصل ہم روزانہ فنگس کی کئی قسموں کو سونگھ کر اپنے جسم میں داخل کر لیتے ہیں لیکن اگر ہمارا مدافعتی نظام اور پھیپھڑے صحتمند ہوں تو اس سے کسی بھی انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے۔

جب پھیپھڑے اور مدافعتی نظام کمزور ہوں، جیسے کووڈ 19 سے متاثرہ کوئی شخص، تو فنگس ہوا کی نالی میں پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے جسم کے اندر ٹشو میں مداخلت کرتا ہے۔

میوکورمائیکوسز نامی فنگس پھیپھڑوں میں بھی داخل ہو سکتا ہے مگر اس کے انفیکشن اکثر ناک، سانس یا ہوا کی نالی کو متاثر کرتے ہیں۔ یہاں سے وہ آنکھوں کی طرف پھیل سکتے ہیں اور انسان نابینا ہو سکتا ہے یا یہ دماغ کی طرف پھیل کر سر درد یا دوروں کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس فنگس سے انسانی جلد کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ قدرتی آفات یا جنگ کے حالات میں جان لیوا زخم عام ہو جاتے ہیں اور اکثر اس کی وجہ مٹی یا پانی میں آلودگی سمجھی جاتی ہے۔

انڈیا، کووڈ

،تصویر کا ذریعہReuters

ماحول میں فنگس

انڈیا میں کووڈ کے مریض میوکورمائیکوسز یعنی بلیک فنگس سے سب سے متاثر ہو رہے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

عالمی وبا سے قبل بھی میوکورمائیکوسز کے بارے میں خیال تھا کہ ان کی تعداد انڈیا میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ مثلاً ایک اندازے کے مطابق یہ انڈیا میں ہر ایک لاکھ میں سے 14 افراد کو متاثر کرتا ہے جبکہ آسٹریلیا میں یہی تعداد 0.06 ہے۔

عالمی سطح پر میوکورمائیکوسز کا پھیلاؤ آلودہ اشیا کی وجہ سے ہوا ہے جس سے ہسپتال، ادویات اور پیکج فوڈ کی صنعت متاثر ہوئی ہے مگر انڈیا میں میوکورمائیکوسز کے کیسز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی وجہ آلودگی کا محض کوئی ایک ذریعہ نہیں۔

حال ہی میں کووڈ 19 سے جڑے میوکورمائیکوسز کے مریضوں میں یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ 94 فیصد متاثرین ذیابیطس کا شکار تھے۔

میوکورمائیکوسز مٹی، خراب کھانے، پرندوں اور جانوروں کے فضلے، تعمیراتی مقام پر پانی، ہوا یا نمی والی جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ آسٹریلیا جیسے ملک میں میوکورمائیکوسز کی تعداد انڈیا کے مقابلے کہیں کم ہو۔

انڈیا میں ذیابیطس بھی ایک اہم وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ جب ذیابیطس بے قابو ہو اور خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہو تو ٹشو میں تیزاب کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح اس ٹشو میں میوکورمائیکوسز کے پیدا ہونے کے لیے مناسب ماحول بن سکتا ہے۔

انڈیا میں اس لیے بلیک فنگس کو ایک خطرہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ذیابیطس کے مریض کافی زیادہ ہیں اور اکثر وہ اس پر قابو نہیں رکھتے۔ سنہ 2000 سے 2017 کے درمیان میوکورمائیکوسز سے متعلق شائع ہونے والی تحقیقات میں سے 40 فیصد میں ذیابیطس کا ذکر آیا ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کووڈ سے جڑے میوکورمائیکوسز کے کیسز میں 94 فیصد مریضوں میں ذیابیطس پائی گئی تھی جبکہ 67 فیصد کیسز میں ذیابیطس کو کنٹرول نہیں کیا گیا تھا۔

انڈیا، کووڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک مثالی طوفان

اکثر ذیابیطس اور موٹاپے کا شکار لوگ کووڈ 19 سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان میں سخت علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے انھیں کورٹیکو سٹیرائڈز ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اسے کووڈ 19 کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن ذیابیطس کے مریضوں کو میوکورمائیکوسز دینے کا مطلب ہے اس شخص کو میوکورمائیکوسز کا بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

کووڈ 19 میں متاثرین ایسے وائرس سے نمٹتے ہیں جو ناک اور گلے میں ہوا کے راستے یا خون کی رگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے جبکہ ایسے میں فنگس کے حملے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

اس طرح کووڈ 19 کے دوران خون کی رگوں اور ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے کورٹیکو سٹیرائڈز دیے جاتے ہیں۔ کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد میں اکثر ذیابیطس بھی دیکھی گئی ہے۔ انڈیا میں ماحول میں فنگس کے زیادہ پھیلاؤ کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فنگس بھی کورونا متاثرین کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

علاج میں مشکل

کئی مغربی ممالک میں کووڈ سے جڑے فنگس انفیکشن کی ایک دوسری قسم ایسپر گلوسز کے بڑھتے کیسز دیکھے گئے ہیں۔ ایسے مریضوں کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے اور انھیں بھی کورٹیکو سٹیرائڈز دیے جاتے ہیں۔ یہ فنگس بھی ماحول میں پائے جاتے ہیں لیکن اس کا تعلق فنگس کی ایک دوسری نسل سے ہے۔

ایسپر گلوسز کو دنیا بھر میں سب سے موقع پرست فنگس سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے پاس ایسے ٹیسٹ موجود ہیں جو اس انفیکشن کی نشاندہی کر سکتے ہیں لیکن میوکورمائیکوسز میں ایسا نہیں ہوتا۔

میوکورمائیکوسز سے متاثرہ کئی مریضوں کے لیے نتائج بہت بُرے ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق قریب آدھے مریض مر سکتے ہیں اور کئی کی صحت کو مستقل طور پر نقصان پہنچتا ہے۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس فنگس کی نشاندہی اور علاج جلد از جلد شروع کیا جائے۔ اس میں ذیابیطس کو قابو کرنا، مردہ ٹشو کو نکالنا اور اینٹی فنگس ادویات سے علاج ضروری ہے۔

بدقسمتی سے اکثر متاثرین میں فنگس کی تشخیص تاخیر سے ہوتی ہے اور اس کے علاج تک رسائی محدود ہے۔ انڈیا میں کووڈ کے بحران سے قبل بھی صورتحال ایسی ہی تھی۔ صحت کے نظام پر موجودہ دباؤ سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔

فنگس انفیکشن کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی، اس کی جلد تشخیص کے لیے بہتر ٹیسٹ، ذیابیطس کو قابو کرنے پر توجہ اور کورٹیکو سٹیرائڈز کے استعمال میں احتیاط لازم ہے۔

مریضوں کو وقت پر سرجری کی اور اینٹی فنگل علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن اس دوران اس طرح کے انفیکشن کی روک تھام کے لیے مزید تحقیق بھی درکار ہے۔