طوطن خامن: جب مصر میں ایک مقبرے کی دریافت نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا

طوطن خامن

،تصویر کا ذریعہGriffith Institute, University of Oxfors

(یہ مضمون اس سے پہلے 29 اگست سن 2020 کو بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر شائع ہو چکا ہے۔)

نومبر 1922 میں جب طوطن خامن کا مقبرہ ملا تو دنیا اس کے سحر میں گرفتار ہو گئی اور اس نے دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

آج کے ماہرین آثار قدیمہ کے لیے بادشاہ طوطن خامن کی ذات کے بارے میں وضاحت دریافت کی غیر معمولی فراوانی میں ہے، خاص طور پر جب بہت سے مقبرے ان کے مردہ خانے کے سامان کی وجہ سے لوٹ لیے گئے اور نوجوان بادشاہ اور لارڈ کرنارون کی قبل از وقت اموات ہو گئیں۔

جب طوطن خامن کے خزانوں کے ذخیرے کو مصر سے باہر ساچی گیلری لندن میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تو ظاہر ہوا کہ اکیسویں صدی میں بھی اس کی عالمی اپیل موجود ہے۔

لیکن بادشاہ طوطن خامن کی طاقت 1920 کی دہائی کے تناظر میں اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی اسے قبر کے مندرجات سے حاصل تھی۔ برطانوی ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹر جنھوں نے یہ مقبرہ دریافت کیا، کو سیاسی طوفان کا بھی سامنا رہا۔ مصر میں حال ہی میں سیاسی تبدیلی آئی تھی اور نئی حکومت نے نوادرات پر سختی سے قابو پا لیا تھا۔

اس مقبرے کو کھودنے، محفوظ رکھنے اور زمرہ سازی کے پیچیدہ عمل کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے لارڈ کرنارون نے ٹائمز اخبار کے ساتھ ایک خصوصی معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت ٹائمز اخبار کو دنیا بھر کی پریس کو اس مقبرے سے متعلق خبریں اور تصاویر دینے کا حق حاصل تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اس وقت میں اس طرح کے انتظامات انتہائی غیر معمولی تھے۔ گرفتھ انسٹیٹیوٹ آکسفرڈ میں اسسٹنٹ آرکاییوسٹ کیٹ وارسی کا ماننا ہے کہ مالی مدد اور میڈیا کی مسلسل دلچسپی انتہائی اہم تھی ’کیونکہ یہ کھدائی بہت مہنگی تھی جو تقریباً دس برس میں مکمل ہوئی۔‘

طوطن خامن کا مقبرہ

،تصویر کا ذریعہGriffith Institute, University of Oxfors

لائٹس، کیمرہ، ایکشن

برطانیہ میں پیدا ہونے والے اور نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ کے فوٹوگرافر ہیری برٹن کو اس کھدائی کی تصاویر اتارنے کے لیے لایا گیا۔ ان کے کام کرنے کا انداز پیچیدہ اور ڈرامائی تھا، وہ خاص روشنی میں اور مختلف زاویوں سے اشیا کی تصاویر بناتے اور اس تکنیک کو اس وقت ہالی ووڈ میں بھی نیا نیا متعارف کرایا گیا تھا۔

اس کھدائی سے انکشاف ہوا کہ دنیا معمولی اور غیر معمولی خزانوں کے سحر میں کھو چکی ہے۔ ایشمولین میوزیم آکسفرڈ کے پال کولنز کہتے ہیں ’ٹیکنالوجی کے بہترین استعمال سے ’مصر مانیا‘ کو بڑھایا گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب ریڈیو، ٹیلیگرام، اخبار اور فلمیں طوطن خامن کے بارے میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی معلومات حاصل کرنے کے لیے بھی ایک ہو گئے۔

برٹن کی تصاویر نے انکشاف کیا کہ طوطن خانم کے چھوٹے سے مقبرے میں پانچ ہزار سے زائد اشیا موجود تھیں۔ سونے کے مجسموں اور زیورات، سجے ہوئے ڈبوں اور کشتیوں کے علاوہ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی چیزیں جیسے کے روٹی اور گوشت کے ٹکڑے، دالیں اور کھجوریں وغیرہ بھی شامل تھیں۔ یہاں تک کے پھولوں کے ہار تک موجود تھے۔

طوطن خامن کے مقبرے سے ملنے والا سامان

،تصویر کا ذریعہGriffith Institute, University of Oxfors

،تصویر کا کیپشنبرٹن کی تصاویر نے انکشاف کیا کہ طوطن خانم کے چھوٹے سے مقبرے میں پانچ ہزار سے زائد اشیا موجود تھیں

ان دریافتوں نے 1920 کی دہائی کے فیشن ڈیزائن کو بھی متاثر کیا اور سانپوں، پرندوں اور پھولوں کی مصری اشکال کو کپڑوں پر ڈیزائن کیا گیا۔ برٹن کیپر تعیش تصاویر نے 1920 کی دہائی کی نئی صارفیت پر بات کی۔

امریکی ماہر اقتصادیات تھورسٹین ویبلین نے حال ہی میں اس کے لیے ’نمایاں کھپت‘ کا لفظ معتارف کرایا ہے جو ’بیسویں صدی کی شاندار صارف معیشت` بقول ویبلین ’خریداری کی ’طاقت کے اظہار‘ کا خلاصہ کرتی ہے، غیر معمولی کھپت نے دنیا کو دکھایا کہ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات کے علاوہ بھی خریداری کی گنجائش رکھ سکتے ہیں۔

بادشاہ طوطن نے اپنی دنیا کی مصنوعات سے لوگوں کے تصورات اور مصنوعات کے مطالبات کو پورا کیا۔ ماضی کی دوسری سلطنتوں کے مقابلے شاید طوطن کا حوالہ زیادہ آسان تھا کیونکہ بادشاہ طوطن کے والد اکھیناٹن نے آمرانہ آرٹ کا ایک نئے انداز میں شروع کیا تھا جو بادشاہت کو نرم اور قدرتی انداز کے ساتھ ساتھ خاندانی زندگی کے طور پر پیش کرتا تھا۔ اس نئے انداز میں خواتین کو نمایاں کردار حاصل تھا۔

طوطن خامن کے مقبرے کے چاروں کونوں میں موجود خواتین کے مجسمے، جن میں دیوی آئسس کا مجسمہ بھی شامل ہے دور جدید کی خواتین(ماڈرن گرل) کے لیے متاثر کن تھے، ایک نئی طرح کی عورت جو پہلی عالمی جنگ کے بعد ابھر رہی تھی۔

دیوی آئسس

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنطوطن خامن کے مقبرے کے چاروں کونوں میں موجود خواتین کے مجسمے دور جدید کی خواتین (ماڈرن گرل) کے لیے متاثر کن تھے

’ماڈرن گرل‘ ایک عالمی رجحان تھا جیسے کے جرمنی میں نیوفریون یا جاپان میں موڈن گرل یا موگا، چین میں موڈینگ زیاوجی اور فرانس میں گیرکونس۔ ان سب کا انداز ایک جیسا تھا جو آزادی کے لیے کھڑا تھا۔

کلوپیٹرا کے سٹائل کے چھوٹے بال اور شفٹ ڈریس، کاک ٹیل پینا اور جیز بینڈ کی تال پر ناچنا، ماڈرن گرل نے مزاحمت کا اشارہ دیا۔ وہ مرد کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی تھی یا مرد کے بغیر بھی رہ سکتی تھی۔ وہ تجارتی آئیکن بھی تھیں۔۔۔ جو لپ سٹک، فیس پاؤڈر، پرفیومز اور فیس کریمز فروخت کرتی تھی۔ ان میں سے بہت سی، جیسے کہ شکاگو میں کشمیر کیمیکل کمپنی کی تیار کردہ نیل کوئین مصنوعات، کی مارکیٹینگ مصر کے موضوع پر کی گئی۔

جیز کلوپیٹرا

افریقی نژاد امریکن ڈانسر جوزیفین بیکر جنھوں نے ’جیز کلوپیٹرا‘ کا انداز اپنایا، ماڈرن گرل کی ایک مثال تھیں۔ بیکر، امریکہ کی ایک ممتاز سیاہ فام کارباری خاتون میڈم سی جے واکر کی سیاہ فام خواتین کے لیے بنائی گئی بیوٹی مصنوعات استعمال کرتی تھیں۔

بیکر نے اس نئے بیوٹی کلچر کو اپنے آپ کو بااختیار بنانے کے لیے استعمال کیا۔ انھوں نے جدید فیشن کو اپنا کر نسل پرستی کو چیلنج کیا۔

جوزیفین بیکر

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنبیکر نے نئے بیوٹی کلچر کو اپنے آپ کو بااختیار بنانے کے لیے استعمال کیا۔ انھوں نے جدید فیشن کو اپنا کر نسل پرستی کو چیلنج کیا

بیکر پیرس کے میوزک ہال فولس برجیری میں اپنے جاز معمولات کی وجہ سے مشہور ہو گئیں۔ چونکہ ڈانسرز کے لیے اب جوڑوں میں ناچنا(جہاں مرد سربراہی کرتا تھا) ضروری نہیں رہا تھا تو یہ بہت انقلابی دکھائی دیتا۔ پیرس کے ایک ماہر موسیقی مارٹن گویرپن کے مطابق 'جب ایک بار آپ اکیلے ڈانس کر لیتے ہیں، تو آپ جو چاہیں وہ کر سکتے ہیں۔'

بادشاہ طوطن نے 1923 کی ایک دھن، جس میں طوطن کو ’تھوڑا کھسکا ہوا عقلمند‘ قرار دیا گیا تھا، سمیت جاز میوزک کو بھی متاثر کیا۔ یہ پہچان کہ طوطن لڑکے بادشاہ تھے، ان کے مقبرے کے دریافت کے چند برس بعد ملی۔ کارٹر کو 1925 میں طوطن کا مقبرہ اس وقت ملا، جب انھوں نے تابوتوں کا ایک سلسلہ کھولنا شروع کیا اور انھیں پہلے بادشاہ کا سونے کا ماسک ملا اور بعد میں ان کا ٹوٹا ہوا جسم برآمد ہوا۔

ایک محنت طلب آٹوپسی سے انکشاف ہوا کہ طوطن کوئی بوڑھا بادشاہ نہیں بلکہ ایک نوجوان تھے جن کی عمر 17 سے 19 برس کے درمیان تھی۔ اس دریافت کے بعد کے ’نوجوان بادشاہ‘ کو متعدد چوٹیں آئیں تھیں، نے کئی قیاس آرائیوں اور کہانیوں کو جنم دیا جنھیں مقبرے کے دریافت کے چند ہفتے بعد ہی لارڈ کرنارون کی موت سے منسوب کیا گیا۔

لارڈ کرنارون اور کارٹر

،تصویر کا ذریعہGriffith Institute, University of Oxfors

،تصویر کا کیپشنکئی قیاس آرائیوں اور کہانیوں کو مقبرے کی دریافت کے چند ہفتے بعد ہی ہونے والی لارڈ کرنارون(دائیں) کی موت سے منسوب کیا گیا

طوطن کی ذات کا ایک تاریک پہلو بھی تھا جو لوگوں کے ذاتی خوف اور پوشیدہ تکالیف کا اظہار کرتا تھا۔ ان کا جسم ایک ایسے وقت میں ملا جب دنیا دوسری عالمی جنگ کے اثرات سے ابھی بھی نکل رہی تھی۔ بہت سے مرنے والوں کو گھروں سے دور دفنایا گیا تھا اور ان کی میتیں کبھی واپس نہیں آئیں۔ اس انکشاف نے کہ طوطن خامن ایک نوجوان بادشاہ تھے جن کے جسم پر متعدد چوٹیں تھیں، نے بہت سے افراد کو جنگ میں اپنے مرنے یا زخمی ہونے والے پیاروں کی یاد دلا دی۔

مرہم لگے زخمی نوجوان جو اپنے گھروں کو ایسی چوٹوں کے ساتھ واپس پہنچے جو پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھی تھیں اور جن کا علاج دور دراز نظروں سے اوجھل کیا گیا کیونکہ کمزور مردانہ جسم کمزور سلطنتوں کی نمائندگی کرتے تھے۔

طوطن خامن کا مقبرہ

،تصویر کا ذریعہGriffith Institute, University of Oxfors

دوبارہ سے اٹھ کھڑی ہونے والی ممیوں کو نئی فلم انڈسٹری نے امر کر دیا۔ برکبیک کالج کے راجر لکشرٹ کے مطابق 'طوطن خامن کا چہرہ دیکھنے والے پہلے صحافی جان بالڈرسٹن تھے، جنھوں نے سنہ 1932 میں ریلیز ہونے والی ڈراؤنی فلم دا ممی کا سکرپٹ لکھا۔

1920 کی دہائی کا طوطن خامن کا جنون تخیل کا عالمی منصوبہ تھا۔ اس نے لوگوں کو قدیم جگہوں اور ایک دوسرے سے جوڑا۔ اس سے لوگوں کو اپنے ان پیاروں کو، جنھیں وہ کھو چکے ہیں، ایک مختلف اور بہتر جگہ میں موجود ہونے کا تصور ملا۔ اور تاریخ میں کھوئی دنیاؤں کو دریافت کر کے نئی دنیاؤں کے خواب دیکھنے کی ضرورت کا احساس ملا۔